طالبان امریکہ کے ہاتھوں پریشان

طالبان امریکہ کے ہاتھوں پریشان
Army

  


نیویارک (بیورورپورٹ) ایک امریکی فوجی کی بدقسمتی کا اندازہ کیجئے کہ اسے اغواءکرنے والے طالبان تو اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں لیکن اسے لینے والے امریکیوں کا کہیں اَتا پَتا نہیں۔ سارجنٹ برگڈال کو طالبان نے 2009ءمیں اغواءکیا تھا اور وہ اس وقت واحد امریکی فوجی ہے جو کہ طالبان کی قید میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان تو اس بات کیلئے بے تاب ہیں کہ اس امریکی فوجی کو واپس کرکے بھاری رقم حاصل کرسکیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوپارہا کہ وہ کس امریکی ادارے سے اس کی واپسی کی بات کریں۔ کہا جارہا ہے کہ تقریباً آٹھ امریکی ایجنسیوں کے 24افسران اس فوجی کے کیس پر کام کررہے ہیں، تاہم یہ سب اس قدر غیر منظم کوششیں کررہے ہیں کہ ایک طویل وقت گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ دوسری طرف برگڈال کے خاندان نے اس سلسلہ میں امریکی حکومت کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برگڈال کے والد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ انہیں امریکی حکومت کی حکمت عملی پر بالکل بھی کوئی یقین نہیں ہے بلکہ وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ خود پشتو سیکھ کر طالبان سے براہِ راست رابطہ کریں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...