افغان جنگجو کا 600شدت پسندوں کے ہمراہ شام میں داخلے کا انکشاف

افغان جنگجو کا 600شدت پسندوں کے ہمراہ شام میں داخلے کا انکشاف

  



 دمشق (این این آئی)شام میں انقلابی فورسز نے درعا گورنری سے ایک افغان جنگجو کو حراست میں لیا ہے جس نے دوران حراست اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے راستے شام میں داخل ہوا اور شمالی مشرقی درعا میں اس کے ہمراہ 600 شدت پسند بھی شہر میں داخل ہوئے تھے۔عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے حراست میں لیے گئے افغانستان اور دوسرے ملکوں کے کئی جنگجوؤں کے دستاویزی ثبوت اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی ہیں افغان جنگجوؤں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے لیے بھرتی کیے جانے کے بعد شام لایا گیا۔صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم العمری بریگیڈ' کی جانب سے سیریا نیوز نیٹ ورک پر حال ہی میں تصویری فوٹیج دکھائی گئی ہے جس صدر اسد کی حمایت میں لڑنے والے غیرملکی جنگجوؤں کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔باغیوں کے زیرحراست جنگجو نے بتایا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ شامی حکومت کی جانب سے ان کے 100 دوسرے افغان جنگجوؤں کے ہمراہ دمشق منگوایا تھا جہاں وہ پچھلے 14 روز شامی باغیوں سے لڑرہے تھے۔افغان جنگجو نے بتایا کہ اس کے ساتھ درعا میں داخل ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد 600 تھی جو ازرع شہر سے درعا کے مضافاتی علاقے اللجاء میں داخل ہوئے۔

مزید : عالمی منظر