نارہ بل ،مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حق میں قرارداد منظور کر لی گئی

نارہ بل ،مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حق میں قرارداد منظور کر لی گئی

  



سرینگر(کے پی آئی )نیشنل فرنٹ چیئر مین نعیم احمد خان نے اس بات کا تجدید عہد کیا کہ عظیم قربانیوں پر مشتمل شہداکے مشن کو لاکھ سختیوں اور مصائب کے باوجود منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ نعیم خان نے نارہ بل میں منعقدہ جلسے کے دوران لوگوں کے ایک اجتماع کے سامنے آزادی کے حق میں ایک قرار داد پڑھ کر سنائی اور لوگوں نے اپنے ہاتھ اٹھااٹھا کر اور نعرے بلند کرتے ہوئے اس کی تائید کی۔نارہ بل میں عوامی احتجاج کا انعقاد نیشنل فرنٹ نے کیا تھا جس میں سہیل احمد صوفی اور جملہ شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔معصوم طالب علم سہیل احمد صوفی کو حالیہ دنوں وردی پوشوں نے جاں بحق کیا۔نعیم خان مرحوم سہیل احمد صوفی کے والدین سے بھی ملے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لخت جگروں کو صرف ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے شہادت کے درجے تک پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہابھارت کشمیر کے اندراپنے آلہ کاروں کی اعانت سے ہمارے لخت جگروں کو گاجر مولی کی طرح صرف اس لئے کاٹ رہا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بین الاقوامی سطح پران مسلمہ وعدوں کا ایفا چاہتے ہیں جو بھارت نے ان کے ساتھ کئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایاکشمیریوں کایہ واحد قصور ہے کہ وہ اپنے سیاسی حقوق کی خاطر مزاحمت کی راہ پر گامزن ہیں۔ نعیم خان نے سہیل احمد صوفی اور جملہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کی حفاظت کا اپنا عزم دہراتے ہوئے بتایا کہ جن لوگوں نے تحریک آزادی کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹادیا، ان کی عظیم قربانیوں کو کسی بھی حال میں بھولا نہیں جائے گا۔انہوں نے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہاہمارے شہداکے مقدس لہو کو رائیگاں ہونے نہیں دیا جائے گا اور کسی کو بھی شہداکی عظیم قربانیوں کی آڑ میں سیاست کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

نعیم احمد خان نے نارہ بل کے لوگوں کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک مزاحمت میں اس علاقے کے لوگوں کا کردار سنہرے حروف سے رقم کیا جائے گا۔انہوں نے کشمیری عوام کی قربانیوں اور عزیمت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان گھرانوں کی مقروض ہے جنہوں نے انتہائی صبر و ثبات سے بھارتی استعماریت کے تیر سہے ہیں۔انہوں نے نارہ بل کے ہی رہنے والے عمر احمد ڈار اور رفیق احمد بٹ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو باالترتیب 2008اور2010میں جاں بحق کیا گیا۔نارہ بل میں گذشتہ دونوں کی پولیس زیادتیوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نعیم احمد خان نے کہا کہ ایسا یہاں کے لوگوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے کیلئے کیا جاتا ہے اور ایسا کرکے قابض قوتوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ شاید یہاں کے عوام کے دلوں میں مو4135زن آزادی کی شمع کو بجھا پائیں گے۔ نعیم احمد خان نے کہا4مگر ہم کشمیریوں نے ایک ہی بار اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ تحریک مزاحمت کو بھارتی قبضے کے خاتمے تک جاری رکھیں گے۔ انہوں نے وردی پوشوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا جمہوریت کے علمبردار مظلوم کشمیریوں کو ماتم کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے ہیں۔نعیم احمد خان نے پولیس کی طرف سے استعمال کئے گئے پیلٹ فائرنگ سے زخمی معراج الدین ڈار کی فوری صحتیابی کی دعا کی جو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زیر علاج ہیں۔اپنے مو4155ف کو دہراتے ہوئے نعیم احمد خان نے کہا کہ جب تک بھارت تنازعہ کشمیر سے متعلق حقائق کو تسلیم کرکے یہاں کے عوام کو ان کے سیاسی حقوق اداکرنے پر راضی نہیں ہوتا ہے ،تب تک خون خرابے کا کھیل رکنے والا نہیں ہے۔نعیم احمد خان نے بتایا کہ کشمیریوں کی تحریک دنیاوی مراعات کیلئے نہیں بلکہ آزادی کا عظیم مقصد حاصل کرنے کیلئے جاری ہے اس لئے بھارت نواز سیاست کاروں کے وہ دعوی جو وہ نام نہاد ترقی کے بارے میں کرتے پھرتے ہیں کشمیری عوام کو ان کے مقصد سے دور نہیں لیجاسکتے ہیں۔ حریت لیڈر مسرت عالم بٹ کی بد نام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری اور جموں جیل منتقلی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نعیم احمد خا ن نے کہا کہ قید و بند اور پابندیوں سے مزاحمتی قیادت کو شہداکے مشن کی آبیاری سے باز نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...