پاکستان میں ہیپا ٹائٹس ڈی کے مریضوں میں اضافہ تشویشناک ہے،پروفیسر سنجے نیگی

پاکستان میں ہیپا ٹائٹس ڈی کے مریضوں میں اضافہ تشویشناک ہے،پروفیسر سنجے نیگی

  



لاہور( خبرنگار) جگر عطیہ کرنے والے شخص کیلئے ایک فیصدرسک بھی نہیں لیتے اسی لئے 40فیصد ڈونرز کو مستردکردیتے ہیں کیونکہ لیوٹرانسپلانٹ کے مریض کو تو مرض ہے اس لئے مجبوری ہے لیکن جگرعطیہ کرنے والے شخص کی کوئی مجبوری نہیں ہوتی وہ تو الٹا ثواب اوربہتری کی نیت سے جگرعطیہ کرتاہے اس لئے جب تک 100 فیصدکامیابی نظرنہیںآتی ہم ڈونر کا آپریشن نہیں کرتے یہ بات BLKنئی دہلی کے شعبہ لیورٹرانسپلانٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرسنجے سنگھ نیگی نے پاک ہیلتھ کیئرشاہ جمال میں ڈاکٹرمیاں عزیز الرحمن کے ہمراہ ایک پریس بریفنگ میں بتائی انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی سی کے بعد اب ہیپاٹائٹس ڈی کے مریضوں کی تعدادمیں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہاہے جو خطے کیلئے خطرناک صورتحال ہے جبکہ بھارت میں ڈی کے مریض اتنے زیادہ نہیں ہیں ہیپاٹائٹس ڈی اسی مریض میں ہوگا جس کو ہیپاٹائٹس بی ہوگا کیونکہ ڈی الگ سے اکیلانہیں رہ سکتانہ مریض کے جسم میں پھیل سکتاہے یہ صرف بی کے مریضوں میں ہی پایاجاتاہے میں اب تک 500سے زائد لیورٹرانسپلانٹ کرچکاہوں پاکستان میں لیورٹرانسپلانٹ کا شعبہ اس لئے پیچھے ہے کہ یہاں کام بہت بعدمیں شروع کیاگیاجبکہ انڈیامیں 1998میں لیورٹرانسپلانٹ پر کام شروع کردیاگیاتھاانہوں نے کہاکہ میں پہلی بار لاہور آیاہوں پاک ہیلتھ کیئر کی خدمات قابل تحسین ہیں لیورٹرانسپلانٹ کے شعبہ میں ڈاکٹرمیاں عزیز الرحمن جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں یہ کوئی معمولی نہیں ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...