بنگلہ دیش کے خلاف ناقص کارکردگی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا

بنگلہ دیش کے خلاف ناقص کارکردگی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا

  



پاکستان کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش کے خلاف ناقص کارکردگی نے ایک دفعہ دوبارہ کئی سوالیہ نشان پیدا کردئیے جن کا جواب شائد کسی کے پاس نہ ہو لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی کرکٹ ٹیم دیگر مضبوط ٹیموں کی طرح کھیل پیش کرسکے گی اور پاکستان کرکٹ بورڈ جو بلندو بانگ دعوؤں میں مصروف رہتا ہے اور کروڑوں روپے کے فنڈز کے باوجود کھیل کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کرسکتا عملی طور پر مستقبل میں کیا ایسی ہی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا بورڈ میں سیاست کا عمل دخل کھیل کے لئے شدید نقصان کا باعث بن رہا ہے جبکہ اس کے علاوہ بورڈ عہدے داروں کو صرف اپنے عہدے بچانے اور پیسے کمانے کی فکر ہے ان کو ٹیم کی حالت بہتر بنانے اور ان کے کام کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ہے اگر سنجیدگی سے بورڈ اپنا کام کرے تو پاکستان کی ٹیم کو بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیم سے شکست کا سامنا نہ کرنا پڑا افسوس کی بات یہ ہے کہ کرکٹ کی بہتری کے لئے کام کرنے کے لئے بات تو کی جارہی ہے لیکن عملی طور پر کرکٹ بورڈ کچھ کرتا نظر نہیں آتا ہے و ن سیریز میں بھی ٹیم کے کھلاڑی تو نئے تھے لیکن ان کے انداز پرانے ہی نظر آئے کسی بھی کھلاڑی نے سنجیدہ کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان کے لئے اپنی سر زمین پر آسٹریلیا سے بھی زیادہ مضبوط نظر آئی اور پاکستانی کھلاڑی جو اس سیریز کے لئے بھرپور تیاری کے ساتھ بنگلہ دیش گئے تھے مسلسل پریشر میں نظر آئے ایسی صورتحال میں ٹیم کسی مضبوط ٹیم کا کیا مقابلہ کرے گی پہلے سولہ سال کے بعد پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے میچ میں شکست ہوئی اور اس کے بعد بنگلہ دیش نے دوسرا ون ڈے بھی جیت کر پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے یہ شرمناک لمحہ ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ کرکٹ کے لئے اقدامات کئے جائیں لیکن سیاست کے عمل دخل اور پسند و ناپسًد افراد کی وجہ سے کھیل کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے اور کھلاڑیوں پر جب تنقید کی جائے تواس پر بھی کرکٹ بورڈ برا مناتا ہے ایسی صورت حال میں ٹیم پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز سے قبل ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد اب یہ بہترین موقع ہے کہ ٹیم کی خامیوں کو دور کیا جائے اور ٹیم کو تیار کیا جائے تاکہ ٹیم مستقبل میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا جائے بورڈ نے اظہر علی کو کپتان کیوں مقرر کیا یہ سوال ابھی بھی سب کے ذہنوں میں ہے لیکن اس کے باوجود اس کو وقت کے مطابق ایک اچھا فیصلہ قرار دیا جارہا تھا لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا اظہر علی کے لئے یہ سیریز بہت تلخ یاد ثابت ہوگی اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اظہر علی کی قیادت میں ٹیم کو اس شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے بہرحال پوری ٹیم بھی اس وقت یک جان ہوکر کھیلتی ہوئی نظر نہیں آئی اور ایسا ہی لگتا ہے کہ ان کو کوئی پریشانی ہے اور کھلاڑی کسی پریشر کا شکار ہے جب تک ہم اس پریشر سے کھلاڑیوں کو باہر نہیں نکالتے اس وقت تک ہم ٹیم کو کامیابیوں کی جانب نہیں لے جاسکتے بنگلہ دیش کی ٹیم تو ابھی کمزور ٹیم ہے اور اس کے خلاف تو ہمیں اپنی غلطیوں پر قابو پانے کا موقع ملا ہے اور ہم اس کے خلاف ہی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اس کا دباؤ ہم پر بہت ز یادہ ہوگیا ہے بنگلہ دیش کی ٹیم اس وقت ان ٹیموں میں شامل ہے جو کمزور ٹیموں میں شمار ہوتی ہے لیکن پاکستان کو شکست دینے کے بعد اب ان کے حوصلے بہت زیادہ بلند ہوئے ہیں اور اس کا ان کو مستقبل میں بہت فائدہ ہوگا اور انکی ٹیم مزید مضبوط ہوگی قومی کرکٹ ٹیم نے اس سیریز میں ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ سیریز بھی کھیلنی ہے ویسے تو ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک دم اس سیریز کے لئے سب نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی سینئر کھلاڑیوں کو بھی ٹیم کے ساتھ بھیجنا چاہئیے تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم نے ورلڈ کپ میں بہت اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنے ملک میں وہ بہترین ٹیم ثابت ہوئی ہے اور اس سیریز میں وہ جس طرح پاکستان کے خلاف میدان میں اتری ان میں جیت کا جذبہ نظر آیا ایسا ہی جوش و جذبہ پاکستانی ٹیم میں نظر آنا چاہئے۔دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز ہار کر کئی سوالیہ نشان جنم لے لئے ٹیم کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ شکست کے بعد اس کو بنگلہ دیش کے خلاف واحد ٹی ٹونٹی میچ میں بھی ناقص کارکردگی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا پہلے بیٹنگ کرنے کے باوجود ٹیم بڑا سکور کرنے میں ناکام رہی اور کوئی بھی بیٹسمین عمدہ کھیل کا مظاہرہ نہیں کرسکا اس سے یہ اندازہ ہوا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کامیابی حاصل نہیں کرسکتی بنگلہ دیش کی ٹیم ان ٹیموں میں شامل ہے جس کے خلاف پاکستان کا ہمیشہ سے ہی ریکار ڈ بہت اچھا رہا ہے اور اس بنیاد پر یہ تصور کرنا بھی ناممکن تھا کہ ٹیم ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

قومی ٹی ٹوئنٹی کے کپتان شاہد خان آفریدی کا کہنا ہے کہ غلطیوں پر قابو پاکر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے ہی ٹیم کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔بنگلادیش سے واحد ٹی ٹوئنٹی میں تاریخی شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اس لئے امید ہے جلد کھلاڑیوں کی پرفارمنس میں بہتری آئے گی تاہم واحد ٹی ٹوئنٹی میں بنگلادیش نے اچھا کھیلا جس پر اسے مبارکباد دیتا ہوں۔، میزبان پلیئرز نے جس انداز میں پرفارم کیا ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم ٹیسٹ سیریز میں صورتحال مختلف ہوگی، تجربہ کار کھلاڑیوں مصباح الحق اور یونس خان کی واپسی کے بعد پاکستانی ٹیم متوازن ہوگی، انہوں نے کہا کہ بنگلادیش میں کھیلنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے اور تماشائی بھی بہت سپورٹ کرتے ہیں، امید ہے ٹیسٹ سیریز میں صورتحال مختلف ہوگی اور اچھی سیریز دیکھنے کو ملے گی۔قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ ہیڈکوچ وقار یونس نے اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا، اس سے پہلے کہ بورڈ کوئی قدم اٹھائے انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر لینا چاہیے۔ پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں 3-0 سے کلین سویپ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں سابق کپتان نے کہا کہ بلاشبہ وقار یونس اپنے دور کے بہت بڑے کھلاڑی رہے، وہ جس ٹیم میں کھیلے وہ بھی بڑی تھی، وہ پہلی بار کوچ نہیں بنے لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا،اس سے قبل کہ کرکٹ بورڈ کوئی قدم اٹھائے انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ خود کر لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف آخری ون ڈے سے سرفراز احمد کو ڈراپ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے، سرفراز دباؤ میں اچھا کھیلنے والے چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں، وہ کل تک ہیرو تھے لیکن انہیں ڈراپ کرکے زیرو کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رینکنگ میں گرین شرٹس کی آٹھویں پوزیشن ملکی کرکٹ کا سیاہ ترین دن ہے، اگر اب بھی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا تو پاکستان کرکٹ تباہ ہو جائے گا۔سابق کپتان جاوید میانداد نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کی شرمناک شکست پوری دنیا نے دیکھ لی ہے لہٰذا پاکستان کی شکستوں کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی بنانے کا سوچنے والے اب اپنے بارے میں سوچنا شروع کردیں۔ میانداد کا کہنا تھا کہ جیسے سلیکٹرز ہوں گے ان کی منتخب کردہ ٹیم میں کھلاڑی بھی ویسے ہی نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کا گراف بہت نیچے آگیا ہے لہٰذا کھلاڑیوں کو اپنی فٹنس پر خود توجہ دینا ہوگی جبکہ ٹیم کا کوچ کوئی بیٹسمین ہونا چاہئے اورعہدوں سے چپکے لوگ کرکٹ کی بہتری کیلئے پی سی بی چھوڑ دیں۔سابق کرکٹر محسن حسن خان نے کہا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن اچھا کھیل پیش کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ کپتان کی قوانین سے لاعلمی کی وجہ بھی جگ ہنسائی ہوئی جب وہ سہولت نہ ہونے کے باوجود امپائرز سے ریویو مانگتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم سلیکشن پر سب کو تحفظات ہیں اورمیچز براہ راست دیکھے جارہے ہیں تو سب کو خامیوں کا اندازہ ہے اور بورڈ کمیٹی بنا کر وقت ضائع کرے گا۔ عمران نذیر نے کہا کہ کئی کھلاڑیوں نے ٹھیک سے فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلی جن کی میچ میں کارکردگی دیکھ کرمایوسی ہوئی ۔

بنگلہ دیشی ٹیم کے کپتان اور فاسٹ باؤلر مشرفی مرتضی نے کہا ہے کہ پاکستان ورلڈ کلاس ٹیم ہے اس کے خلاف ون ڈے سیریز میں فتح ٹیم کی بڑی کامیابی ہے، ٹیم بہتر سمت کی طرف گامزن ہے اور مستقبل میں بھی فتوحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے سرتوڑ کوشش کریں گے۔ بنگال ٹائیگرز نے گرین شرٹس کے خلاف ون ڈے سیریز میں کلین سویپ فتح حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر لی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں ٹیم کی حالیہ کارکردگی سے مطمئن ہوں، کھلاڑیوں نے گرین شرٹس کے خلاف آخری ون ڈے میں دلیرانہ مقابلہ کر کے اپنی طاقت کا ثبوت دیا ہے، پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز آسان نہیں تھی لیکن کھلاڑیوں نے کھیل کے تینوں شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اسے ممکن بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم رینکنگ میں پانچ ریٹنگ پوائنٹس کی بہتری آئی ہے اور میں اس کو بڑی کامیابی سمجھتا ہوں، مستقبل میں ہونے والی سیریز میں بھی عمدہ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مزید فتوحات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بنگلہ دیش میں قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری ٹیم کی مایوس کن کارکردگی غیر متوقع تھی،بنگلہ دیش سیریز ختم ہو گی اسکے بعد شکست کے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیرز میں کلین سویپ کا سامنا کرنا پڑا۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا کہ شکست کے باوجود پی سی بی ابھی کوئی ایسا سخت قدم نہیں اٹھانا چاہتی۔ تاہم جب بنگلہ دیش سیریز ختم ہو گی اسکے بعد شکست کے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین کی طرح وہ بھی ٹیم کی کارکردگی سے انتہائی مایوس ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ ہماری حریف ٹیم انتہائی پروفیشنل ٹیم ہے جس نے گذشتہ سالوں میں بڑی تیزی سے اپنی پرفارمنس کو بہتر کیا ہے۔ ہماری ٹیم کی مایوس کن کارکردگی غیر متوقع تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس دورہ کے دوران کچھ کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ،خاص طور پر کپتان اظہر علی، محمد رمضان، سعد نسیم اور سمیع اسلم کے نام شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ٹیم کی فٹنس پر توجہ دینا ہو گی اور فیلڈنگ سمیت دیگر چیزوں پر بھی بہتری لے کر آنا ہو گی۔ کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مضبوط بننا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی میں بہتر ریکارڈ ہے اور ہمیں اپنی ون ڈے رئیٹنگ کو مزید بہتر کرنا ہو گا مجھے یقین ہے کہ مقررہ وقت کے اندر یہ نوجوان ٹیم بہتر رزلٹ دکھائی گی۔بنگلادیش سے شکست کے بعد قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں تیسری سے چوتھی پوزیشن پرآگئی۔آئی سی سی رینکنگ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم ایک درجے تنزلی کے بعد تیسری سے چوتھی پوزیشن پر آگئی، قومی ٹیم نے اب تک 30 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے ہیں جس میں اسے 117 ریٹنگ حاصل ہے جب کہ آسٹریلیا کو بھی فہرست میں 117 ریٹنگ حاصل ہے تاہم پاکستان کے مقابلے میں 4 میچز کم یعنی 26 میچز کھیل کر آسٹریلیا گرین شرٹس کو پیچھے چھوڑ کر تیسری پوزیشن پر براجمان ہوگئی۔فہرست میں سری لنکا 23 میچز میں 131 ریٹنگ کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ بھارت دوسرے، جنوبی افریقا پانچویں اور ویسٹ انڈیز چھٹے نمبر پر ہے۔

مزید : ایڈیشن 1