آر ایس ایس کے کشمیر میں فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے کا منصوبہ کیخلاف بڈگام میں حریت کا جلسہ

آر ایس ایس کے کشمیر میں فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے کا منصوبہ کیخلاف ...

  



بڈگام(کے پی آئی )کل جماعتی حریت کانفرنس (ع)کے چیئر مین میرواعظ عمرفاروق نے بھارت کی فرقہ پرست جماعتوں کی جانب سے کشمیری عوام کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ان کی اسلامی اور تہذیبی شناخت کو زک پہنچانے کے منصوبوں سے خبردار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بھارت کی کچھ فرقہ پرست جماعتیں کشمیر میں اپنے ہمنواؤں کی مدد سے یہاں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مذموم منصوبوں پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد یہاں کے عوام کی جائز جدوجہد کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اس ریاست کے اسلامی تشخص کو متاثر کرنا ہے۔ جامع مسجد بڈگام میں طے شدہ پروگرام کے تحت مجلس وعظ و تبلیغ کے بعد بڈگام چوک میں میرواعظ اور آغا سید حسن نے عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ میر واعظ نے تحریک مزاحمت کے صفوں اور عوام میں اتحاد و یکجہتی کو جائز جدوجہد میں کامیابی کیلئے ناگزیر قراردیتے ہوئے کہا ایک منصوبہ بند طریقے سے یہاں انتشاری سیاست کو ہوا دی جارہی ہے اور اس کیلئے آر ایس ایس نے کشمیر میں کئی ذرائع اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم راشٹریہ منچ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے جس میں تاحال چار سو کے قریب سرگرم لوگ یہاں مسلکی منفافرت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

میرواعظ نے اس جماعت کی جانب سے کشمیر کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والوں کو کشمیر سے نکالنے کے جموں میں دئے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کشمیر کے اصل مالک ہیں اور اس کی مستقبل کا تعین صرف یہاں کے عوام کی رائے سے ہی ہو سکتا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہPDPسرکارنے BJPکے سامنے اپنے مفادات اور مراعات کیلئے گھٹنے ٹیک دئے ہیں اور نام نہاد انتخابات کے دوران ان کی جانب سے کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی ، بجلی پروجیکٹوں کی واپسی اور کالے قوانین کی واپسی کے وعدے محض جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے۔ میرواعظ نے کشمیری پنڈتوں کے حوالے سے ٹاون شپ کے منصوبوں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی واپسی کے حوالے سے بھارت کی فرقہ پرست قوتیں جس قسم کی سیاست کاری کر رہی ہے کشمیری پنڈتوں کو چاہئے کہ وہ ان قوتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے کشمیر ی مسلمانوں پر بھروسہ کر کے اپنے گھروں کو واپس آکر کشمیری سماج کا حصہ بن کر یہاں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ الگ ٹاون شپ کا منصوبہ ان کو کشمیری سماج سے الگ تھلگ کر کے رکھ دے گا۔میرواعظ نے مسرت عالم پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق کوبلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی سیاسی قائدین کو ان ظالمانہ ایکٹ کے تحت پابند سلاسل کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔آغاحسن نے کہا کہ رواں تحریک مزاحمت میرواعظ کی قیادت میں رواں دواں رہے گی اور حق خود ارادیت کے حصول تک ہمارے حوصلوں میں کسی بھی سطح پر ضعف پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...