توانائی شعبے میں خود مختاری نہ ملنے پر صوبے وفاق سے نالاں

توانائی شعبے میں خود مختاری نہ ملنے پر صوبے وفاق سے نالاں

  



کراچی(اکنامک رپورٹر )ملک میں18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کے باوجودوفاقی حکومت کی جانب سے تیل و گیس کے شعبے میں اختیارات اور حقیقی خود مختاری نہ ملنے پر صوبے شدید نالاں ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے باوجود تیل و گیس کی تلاش اور توانائی کے حوالے سے تمام اہم معاملات وفاق نے ابھی تک اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔ذرائع کے مطابق صوبوں نے اس ضمن میں موقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پرائیویٹ پاور انفرا اسٹرکچر بورڈ(پی پی آئی بی)،بجلی کے ٹیرف کے تعین کیلئے قائم نیپرا،متبادل توانائی کے منصوبوں کیلئے قائم متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ(اے ای ڈی بی)سمیت دیگر اداروں کی صورت میں تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں اور فی الوقت صوبوں کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خود مختاری کے باوجود تیل و گیس اور توانائی کے شعبے میں خود سے کوئی اقدامات کرسکیں۔ سندھ کو سب سے بڑا اعتراض تھر کوئلے سے پیدا ہونے والے بجلی کے منصوبوں میں وفاق کی مداخلت پر ہے ،اس ضمن میں سندھ حکومت کا موقف ہے کہ تھر کول خالص صوبائی معاملہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کو اس منصوبے میں سرمایہ کاری اور دیگر معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ،تاہم حقیقت یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے باوجود تھر جیسے بڑے منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کیلئے کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو ساورن گارنٹی درکار ہوتی ہے جو محض وفاقی حکومت ہی دے سکتی ہے۔اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا بھی توانائی شعبے میں نئے منصوبے شروع کرنے سے متعلق مکمل خودمختاری کے خواہاں ہیں جبکہ دونوں صوبے اپنی انرجی کمپنی کے قیام کیلئے بھی کوشاں ہیں تا کہ صوبے میں توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کے حصول اور نئے منصوبے سے متعلق آزادانہ فیصلے کیے جاسکیں۔ آئل سیکٹر ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو تیل و گیس کی تلاش اور توانائی کے دیگر منصوبوں کے حوالے سے فیصلے کرنے میں آزادی ہونی چاہیے ،تاہم یہ تمام عمل بتدریج اور شفاف طریقے سے ہونا چاہیے جس میں کچھ وقت لگے گا۔

مزید : کامرس