گہرے سمندروں کا مسافر

گہرے سمندروں کا مسافر
 گہرے سمندروں کا مسافر

  



ایک ڈرامہ پروڈیوسر نے سمجھایا تھا کہ سٹوری لائن ، اچھوتے کردار اور کھیل کا تھیم یا مرکزی خیال بنیادی اہمیت کے اجزا تو ہیں ، لیکن ٹیلی پلے کی کامیابی کا دارومدار اس پہ ہوتا ہے کہ ناظرین کو کوئی ڈرامائی سچویشن کتنی دلچسپ لگی ۔ یوں کھیل کی مقبولیت ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری سچویشن کا سفر ہوا کرتی ہے ۔ خرم قادر سے دوستی کے ڈرامے میں ہر دلچسپ سچویشن ابتدا میں کسی نہ کسی چائے خانے کے ساتھ جڑی رہی ۔ گورڈن کالج کے پچھواڑے سے اٹھ کر صدر میں کامران ہوٹل یا سوپر ، چند قدم کے فاصلے پر برلاس ، پھر کشمیر اور حیدر روڈ کے سنگم پہ نیا نکور ڈریم ہاؤس جس نے قہوے کے نام پر الائچی ، منقے اور املتاس کی خوشبودار سبیل لگا رکھی تھی ۔ پر قومی اہمیت کے فیصلے صدر میں ہمیں رعایتی کھانا پیش کرنے والے الحمرا میں ہوئے جسے خرم نے ہمیشہ بابر کا ہوٹل ہی کہا ۔ انٹر کورٹ اپیلوں کی مانند یہ فیصلے ہمارا دو رکنی بنچ کیا کرتا ، مگر اکثر و بیشتر کسی تیسرے آئینی ماہر کو بھی ساتھ ملانا پڑتا ۔ مثال کے طور پہ واہ والے جاوید خان یا ہمارے اصلی شاہد مسعود جو میڈیا میں ایک ہم نام کی اچانک مشہوری سے پہلے بطور شاعر ، دانشور اور سٹوڈنٹ لیڈر مقبول ہو چکے تھے ۔ بے فکروں کی یہ عدالت سینکڑوں سیٹ چائے پی کر بھی کئی سوالوں کا سوؤ موٹو جائزہ نہ لے سکی ۔ شاہد ملک کو ایم اے میں فیل ہوئے بغیر ایک فالتو سال کیسے لگانا پڑا ؟ شاہد مسعود ’پکی پکائی روٹی‘ پلانٹ کی اسسٹنٹ منیجری چھوڑ کر اس پہ کیوں ڈٹ گئے کہ انسان کے دنیا میں آنے کا واحد مقصد روزانہ ’ریڈ اینڈ وائٹ‘ کے بچاس سگریٹ پینا ہے ؟ یہاں تک کہ کسی نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کی کہ خرم کو اکنامکس کا فائنل امتحان دیتے ہوئے رات رات بھر برج کھیلتے رہنے کی ترغیب آخر کہاں سے ملی تھی ؟ اگر ڈاکٹر خرم قادر کے عنوان سے میرے اس پُر مغز مقالہ کا سب ٹائٹل اورینٹل کالج لاہور کی روایت کے مطابق ’فکر ، فن اور شخصیت‘ ہوتا تو نصابی کتابوں کی طرز پر یہ بندہ ء عاجز اس میں اپنے ہی انٹرویو کا ایک اقتباس شامل کر لیتا ’پیارے بچو ، میرے برٹش ہائی کمیشن میں انٹر پرٹر بننے تک خرم قادر اکنامکس کے مضمون سے بور ہو چکے تھے ۔ اس لئے آخر کار نئے سرے سے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ء تاریخ میں بطور طالب علم داخل ہو گئے ۔ یہ نئی سچویشن گورڈن کالج میں ان کے استاد مولانا نصر اللہ ملک کے ایما پر (’مولانا‘ کا لفظ بچوں کو سمجھانے کی خاطر) وجود میں آئی ، جس کے بعد اعلیٰ تعلیمی مراحل شمس العلما ء پروفیسر احمد حسن دانی کی سرپرستی میں (’شمس العلماء ‘ زور کلام کے لئے) نہایت کامیابی سے طے ہوئے ‘ ۔ پر جی ، یہ تو ہوا سطح آب کا تموج ۔ گہرے سمندروں کی کہانی کیا کہتی ہے ؟ خرم صاحب کو آسانی یہ رہی کہ وہ گھر سے دولت و اختیار کی خواہشوں کا ’ایکسس بیگیج‘ لے کر نہیں نکلے تھے ، نہ کہیں اس سوچ کا شائبہ کہ جیون کشتی کو کھینے کے لئے اپنے دادا سر عبدالقادر کے نام کے چپو بھی چلائے جا سکتے ہیں یا ان کی آل اولاد کا اثر و رسوخ جسے ترنگ میں آکر میں نے ایک دفعہ ’سلسلہ ء قادریہ‘ کہا تھا ۔ سب سے پہلے تو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے درمیان خرم کے اس فیصلہ کو لیجئے کہ ملک جی ، اب ہم پڑھائیں گے ۔ ضرور پڑھائیے، مگر کس درسگاہ میں ؟ کہا کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں۔یہ گفتگو گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسرز روم میں ہوئی کہ ہائی کمیشن کی نوکری چھوڑ کر جہاں میں تدریس سے وابستہ ہو چکا تھا ۔ یاد دلایا کہ سلسلہء قادریہ تو لاہور اور اسلام آباد میں پھیلا ہوا ہے ۔ جواب ملا ’ملتان پاکستان کا شہر ہے ، اس کا بھی حق بنتا ہے‘۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے کلاس روم میں ذریعہء تعلیم عملی طور پہ کونسی زبان رکھی جائے ۔ تاریخ کے اس نو زائیدہ استاد کو طلبہ کے لئے اردو کی افادیت کا احساس تو تھا ، مگر اس کی اپنی اٹھان کس حد تک انگریزی زدہ تھی ؟ اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں، جنہیں علم ہو کہ خرم قادر نے انگلش اور اس سے وابستہ طور طریقے کسی چھوٹے موٹے استاد سے نہیں، بلکہ بیرسٹر سلیم سے سیکھے ۔ بیرسٹر سلیم کی شہرت اس سبب سے نہیں کہ وہ خرم کے والد محترم اور تایا شیخ منظور قادر کے حقیقی ماموں تھے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر میں چوٹی کا یہ فوجداری وکیل ایک دم انگریز آدمی تھا ۔ اسی لئے تو پختہ عمر کو پہنچ کر خرم نے ایک بار قدرے فخر سے کہا ’ مَیں نے اپنی تربیت کے کانٹے ایک ایک کرکے اپنے ہاتھ سے نکالے ہیں‘ ۔ ظاہر ہے کانٹے نکالنے کا یہ عمل آسان ثابت نہ ہوا ۔ بچپن میں چوکیداروں اور خانساموں سے چوری چوری پنجابی اور پوٹھواری سیکھنے والا خرم قادر کشادہ ذہن والدہ کے زیر اثر کے ایل سہگل ، کانن بالا ، کملا جھریا اور بیگم اختر کی گائیکی کا رسیا تھا ۔ پھر بھی اردو بو ل لینے اور باقاعدہ لیکچر دینے کے درمیان فرق تو ہوا کرتا ہے ، جس کا حل استاد نے منفرد انداز میں نکالا ۔ سرائیکی تو صحیح لہجہ کے ساتھ ذرا بعد میں سیکھی ہے، مگر ملتان میں تدریسی تجربہ کے آغاز پر یہ طریقہ ء واردات اپنایا گیا کہ حضرت خرم رات رات بھر بیٹھ کر کتابیں کھنگالتے اور مواد کو اپنی انفرادی سوچ کے ساتھ جوڑتے رہتے۔ یوں ایک جامع مسودہ تیار ہو جاتا۔ پھر اس انگریزی مسودے کا ترجمہ اردو میں کیا جاتا اور اسے اس حد تک یاد کر لیتے کہ صبح لیکچر کی روانی سے طلبہ کو گمان نہ گزرتا کہ ٹی وی نیوز اینکر کی طرح اُردو کی یہ خبریں ٹیلی پرومپٹر کی مدد سے پڑھی جا رہی ہیں ۔ تربیت کے کانٹے نکالنے کا یہ عمل زبان کے علاوہ کئی اور سرگرمیوں کو بھی محیط تھا ۔ ملتان جا کر شروع شروع، جس گھر میں رہے ، وہاں اے سی ، شے سی تو کجا باتھ روم میں فلش سسٹم بھی نہیں تھا ۔ فتوی جاری ہوا کہ یہ بنیادی انسانی مسئلہ نہیں ۔ اچھا جی ، یہ تو مان لیا مگر ویک اینڈ پہ پنڈی کا چکر لگاتے ہوئے کیا پاکستان ریلوے کی عطا اللہ ایکسپریس کی بجائے کسی تیز رفتار ٹرین سے سفر نہیں کیا جا سکتا تھا ؟ جواب میں خرم قادر نے مجھے چپ کرانے کے لئے گاندھی جی کی مثال تو نہ دی جو ریل کی تھرڈ کلاس میں اس لئے سفر کرتے کہ اس سے نیچے کوئی فورتھ کلاس نہیں تھی۔ پھر بھی گاندھی سے اتنی مشابہت ضرور رہی کہ خرم نے بھی استاد بننے کے بعد سموکنگ پائپ کا من بھاتا ایرن مور تمباکو صرف اس وقت پینے کی عادت اپنا لی تھی جب عوامی برانڈ ’کے ٹو ‘ کے سگریٹ ان کی رسائی میں نہ ہوتے۔ خدا جانتا ہے کہ میں خرم قادر کے اس طرز عمل کی سچائی کا قائل ہی نہیں ، گھائل بھی ہوں ۔ یہ اس لئے کہ میرے دوست نے اپنی تربیت کے کانٹے نکالتے ہوئے نا محسوس طور پر میری سوچ کے کانٹے بھی چن چن کر الگ کر دئے ۔ جیسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر میرے تقرر پر خرم کا تبصرہ تھا کہ محض عہدہ تو کوئی بات نہیں جب تک یہ پتا نہ ہو کہ انسان ادارے کی بہتر کارکردگی کے لئے کر نا کیا چاہتا ہے ۔ پھر کہا ’ ملک جی ،آپ کلاس روم ٹیچنگ کا مزاج رکھتے ہیں ، اوپن یونیورسٹی کے سیکرٹریٹ والے ماحول میں خوش نہیں رہیں گے ‘ ۔ مَیں نے اگلے گریڈ کے چاؤ میں مشورے کو نظر انداز کیا ۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ اس سے میں ہی نہیں ، خرم کی بیگم صاحبہ بھی آگاہ ہیں جو اب ایک یونیورسٹی کی وائس چانسلر ہیں ، پر اس وقت ہمارے شعبہ سے منسلک مگر طویل رخصت پہ تھیں ۔ مَیں کسی کا مشورہ کم ہی سنتا ہوں ، لیکن اوپن یونیورسٹی سے بی بی سی کو روانگی کے چار برس بعد خرم قادر نے دو اور اہم نکتے بھی سمجھائے تھے ۔ ’آپ نے کبھی سوچا کہ ہم دونوں اپنی بیویوں کے معاملہ میں کتنے خوش قسمت ہیں ‘ ۔ مجھے خیال آیا کہ اب تک یہ روشن حقیقت شعوری طور پر تسلیم ہی نہیں کی تھی ۔ یہ بات میرے لندن والے فلیٹ میں علیحدگی میں ہوئی ۔ اسی شام خرم نے سب کے سامنے پھلجھڑی چھوڑ ی ’ یار ، بچوں سے گپ مارا کرو‘ ۔ مَیں نے ان کی بیٹی رابعہ کی طرف اشارہ کیا کہ آپ نے تو اسے سات سال کی عمر میں ناظرہ بانگ درا شروع کرا دی ہے،مگر مَیں تین سالہ لڑکے اور ایک سالہ لڑکی سے کیا گفتگو کروں ۔ کہا ’عام باتیں ، جیسی ہم آپ کرتے ہیں‘ ۔ مجھے بڈھے جوان والی تصویر پھر یاد آگئی اور لگا کہ اس چھتیس سالہ وجود میں کوئی چھتیس صدیاں پرانی روح بول رہی ہے ۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...