ایم کیو ایم کا کمبل چرانے کی کوشش ناکام

ایم کیو ایم کا کمبل چرانے کی کوشش ناکام
 ایم کیو ایم کا کمبل چرانے کی کوشش ناکام

  



 تبصرے، تجزیئے، تاویلات دھری رہ گئیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم کا کمبل چرانے کے لئے لگائے گئے انتخابی میلے کے اختتام پر جال بچھانے والے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اگرچہ ایم کیو ایم نے این اے 246 کی نشست اپنے روایتی انداز میں بہت بڑے مارجن سے جیتی، لیکن اس بار یہ کامیابی ہر لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ مستقبل قریب میں سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما ہو۔ الطاف، الطاف کے نعرے آئندہ بھی گونجتے رہیں گے۔ضمنی الیکشن کے تماشے کا مقصد ایم کیو ایم کو ناک رگڑوانا یا اسے نشان عبرت بنانا تھا تو وہ پورا ہونے کے بجائے الٹا پڑتا نظر آتا ہے۔ لسانی عصبیت کی بنیاد پر رہی سہی تنظیم کو بھرپور طریقے سے نئی توانائی مل گئی ہے، اہلِ دانش کا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا جب ابن الوقت سیاست دان نبیل گبول کا ’’ضمیر‘‘ اچانک بیدار ہو گیا۔ پیپلزپارٹی چھوڑ کر ایم کیو ایم کی پناہ میں آ کر نہایت آسانی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے نبیل گبول نے اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ بظاہر یہ واقعات کے اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس کے تحت ایم کیو ایم کو قصہ پارینہ بنایا جانا مقصود تھا۔ بھاری بھرکم نبیل گبول کا خیال تھا کہ ان کے استعفے کے بوجھ سے ایم کیو ایم کے کڑاکے نکل جائیں گے۔ ایم کیو ایم کو داغ مفارقت دینے کے اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کی قصیدہ خوانی کر کے واضح اشارہ دے دیا کہ ان کی اگلی منزل کیا ہو گی؟  نائن زیرو پر چھاپہ، سزا یافتہ مجرموں سمیت کئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پے در پے کارروائیوں، لندن میں الطاف حسین سمیت مرکزی قیادت کے گھیراؤ کے باعث پارٹی اپنی تاریخ کے بدترین دباؤ میں تھی۔ ایک موقع پر ایسے دکھائی دیتا تھا کہ شاید اب کی بار حتمی وار ہو کر ہی رہے گا۔ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کے انداز میں ایم کیو ایم کی بربادی کی پیشگوئیاں کرتے ہوئے نبیل گبول خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔ تحریک انصاف کو کراچی پر سیاسی قبضہ جمانے کے لئے بظاہر سنہری موقع ملتا نظر آیا۔ گبول نے یہ کہہ کر بڑے بڑوں کو گمراہ کر دیا کہ ایم کیو ایم کے گڑھ اس حلقے سے 2013ء میں انہیں کوئی ووٹ ڈالنے کے لئے تیار نہیں تھا، پارٹی قیادت کو تشویش سے آگاہ کیا تو جواب ملا، آرام سے بیٹھیں آپ ہی جیتیں گے۔ پھر ٹھپے پر ٹھپے لگنا شروع ہو گئے اور شام تک وہ سوا لاکھ سے زائد ووٹ لے کر ایم این اے بن گئے۔ سخت ترین انتظامات کے تحت ہونے والے 2015ء کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے ثابت ہو گیا کہ گبول صاحب نے محض گپ ہی ماری تھی۔ ایم کیو ایم پہلے بھی درست جیتی تھی اب بھی جائز طریقے سے میدان مارا۔  تحریک انصاف کو یہ یقین دلا کر میدان میں لایا گیا تھا کہ اب کراچی شہر کی چابی اس کے حوالے کر دی جائے گی۔ اسلام آباد سے بلندبانگ دعوے کرتے ہوئے عمران خان نے جب کراچی کا رخ کیا تو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک دو جھٹکے ہی کافی نکلے۔ اوئے الطاف، گیدڑ الطاف کے الفاظ سے گریز کرنے میں عافیت سمجھی گئی۔ ریاستی اداروں کی کھلم کھلا اور نادیدہ قوتوں کی مکمل آشیرباد کے باوجود ریحام خان کے ہمراہ جناح گراؤنڈ آنا ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ اسلام آباد سے تو یہ کہہ کر نکلے تھے کہ الطاف حسین ایم کیو ایم کی قیادت سے الگ ہو جائیں۔ کراچی آئے تو موقف اس قدر نرم کر لیا کہ بعض تبصرہ نگار یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’کراچی آنے پر عمران خان کی زبان میں فصاحت و بلاغت آئے یا نہ آئے شرافت لازماً آ جاتی ہے‘‘۔ ضمنی الیکشن کے انعقاد سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہی واضح ہو گیا تھا کہ ایم کیو ایم ہی جیتے گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی لیکن یہ امیدیں لگا کر بیٹھے تھے کہ مارجن بہت کم ہو گا۔ پھر یہ نعرہ بھی لگایا گیا کہ ہم نے شہر سے خوف ختم کر دیا ہے۔ کیا خاک خوف ختم کیا کہ جب جناح گراؤنڈ فتح کرنے کے لئے آنے والے جری کپتان کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے دھکم پیل (مہذب الفاظ یہی ہیں) کے ذریعے الٹے پاؤں لوٹنے پر مجبور کر ڈالا۔ تمام تر سیکیورٹی انتظامات کے باوجود خوف کا تو یہ عالم تھا کہ الیکشن ڈے پر پی ٹی آئی کو پولنگ ایجنٹ تک میسر نہ تھے۔ پھر پوری قوم نے ٹی وی چینلوں کے ذریعے براہ راست وہ مناظر بھی دیکھے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے جیت کر پہلا کام ہی یہ کیا کہ انتخابی کیمپ میں دبک کر بیٹھے ہوئے تحریک انصاف کے کارکنوں کا گھیراؤ کر لیا۔ بیچ بچاؤ کے لئے رینجرز اور پولیس کو مل کر کارروائی کرنا پڑی۔ محصورین کو بحفاظت نکالنے کے لئے شہربھر کی نفری طلب کرنا پڑی۔ ایسے میں تحریک انصاف کی جانب سے یہ دعوے کرنا کہ کچھ اور ہو یا نہ ہو شہر سے خوف کی فضا ختم کر دی، کہاں کا انصاف ہے؟ عام شہری تو یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر ملک بھر کے عوام اور ریاستی اداروں کی توجہ کے باوجود صرف ایک انتخابی حلقے میں یہ صورت حال رہی تو پھر اس وقت کیا ہو گا، جب مُلک بھر میں بیک وقت عام انتخابات ہو رہے ہوں گے؟ تحریک انصاف کی شکست پر مسلم لیگ (ن) والے شادیانے بجا رہے ہیں۔ شاید دھرنوں کا غصہ ابھی تک نہیں اترا۔ حکمران جماعت کے بڑوں کو اس حوالے سے بڑے پن کا ثبوت دینا چاہئے۔ تحریک انصاف والوں کو بھی اب ’’زبان و بیان‘‘ کا جائزہ لینا چاہئے۔ وہ دن ہوا ہوئے کہ جب وہ ہر ایک کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے میں آزاد تھے۔ اب اس طرح کی غیرپارلیمانی زبان اور حرکات کا فوری جواب ملے گا۔ این اے 246 میں امیدوار نہ کھڑا کرنے پر مسلم لیگ (ن) کو بھگوڑا کہنا بھی بے معنی ہے۔ یہ سچ ہے کہ وفاق میں حکمران جماعت کا وہاں کوئی امیدوار نہیں تھا، لیکن یہ بھی جھوٹ نہیں کہ اس حلقے کو مسخر کرنے کی ذمہ داری تحریک انصاف کو ہی سونپی گئی تھی، لیکن وہ بری طرح فیل ہو گئی۔ کراچی کی اس نشست پر آنے والے نتائج جماعت اسلامی کے لئے بھی چشم کشا ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بھرپور مہم جرأت مندانہ انداز میں چلائی، مگر ووٹ بہت کم ملے۔ ماض�ئ قریب میں جماعت اسلامی کا سب سے کامیاب تجربہ متحدہ مجلس عمل کے حوالے سے رہا۔ اس نوع کے انتخابی اتحاد پر پھر سے غور کرنا چاہئے۔ خوش فہمیاں تو دور ہو گئیں، لیکن خدشات اب بھی باقی ہیں۔ کیا پاکستان جو محاورتاً نہیں، بلکہ حقیقت میں تاریخ کے اہم ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ غلط پالیسیوں اور غیرسنجیدہ اقدامات کا متحمل ہو سکتا ہے۔ کراچی کے حوالے سے ہی دیکھ لیں کہ نائن زیرو سے گرفتاریوں کے اگلے ہی روز پکڑے گئے افراد کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش کرنے کی کوریج نے لسانی عصبیت کو بری طرح سے جگا ڈالا۔ اس کا ذمہ دار کون تھا؟ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب سزائے موت کے بدنام زمانہ مجرم صولت مرزا کو پھانسی سے چند گھنٹے قبل سزا معطل کر کے ٹی وی پر قوم سے خطاب کا موقع دیا گیا۔ قانونی عمل آگے بڑھانے کے بجائے خود کو ضرورت سے زیادہ چالاک ثابت کرنے کی کوشش میں ایم کیو ایم کو پہلے سے بھی کہیں زیادہ مضبوط کر دیا گیا۔ آنے والے دنوں میں نہ صرف مقامی، صوبائی بلکہ ملکی سطح پر بھی ایم کیو ایم کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ اب سب کے لئے یہی بہتر ہو گا کہ ایم کیو ایم کو مین سٹریم میں واپس لا کر قومی معاملات میں شامل کیا جائے وگرنہ بیرونی مداخلت کے راستے چوپٹ کھل سکتے ہیں۔ چین سے آنے والی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ثمرات سمیٹنے کے لئے ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر سنجیدگی سے فیصلے کئے جائیں۔ حکومت میں شامل شخصیات سمیت دیگر سیاسی مخالفین تحریک انصاف کو طعنے دینے کا سلسلہ بند کریں۔ جوڈیشل کمیشن بننے کے بعد بظاہر تحریک انصاف کا اپنا امتحان شروع ہو چکا۔ کراچی والوں نے سونامی کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب تحریک انصاف کو کئی اور محاذوں پربھی چیلنجوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ چیلنج تو حکومت کے لئے بھی موجود ہیں خصوصاً جب خود ہی اپنے لئے گڑھے کھود رہی ہو۔ سعودی عرب کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قرارداد میں تحریک انصاف کے دین بیزار عناصر کے مطالبے پر ’’غیرجانبدار‘‘ کے فالتو الفاظ شامل کر کے اب کیا حکومت، کیا اسٹیبلشمنٹ سب صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی غیرمشروط حمایت کا واضح سٹینڈ لے لیا جاتا تو حالات کچھ اور ہوتے۔

مزید : کالم