ثمربار جمہوریت ،خدمت گزار سیاست

ثمربار جمہوریت ،خدمت گزار سیاست
 ثمربار جمہوریت ،خدمت گزار سیاست

  



 سیاست میں کوئی مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا۔ یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں،البتہ مزید انتشار کا باعث ضرور بنی ہیں۔پاکستان کو اگر آگے لے جانا ہے تو سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ہم نے ماضی میں بہت سی کوششیں کرکے دیکھ لی ہیں کہ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو سیاست سے نکال باہر کریں، مگر ایسا ہو نہیں سکا۔ اس قسم کی حکمت عملی سے مزید ایسے لوگ پیدا ہوئے، جنہوں نے ریاست کو ہی چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے صوبہ بلوچستان کی مثال سب سے خراب رہی ہے۔ اکبر بگٹی جیسے محب وطن لیڈر کو بھی علیحدہ کرکے مار دیا جاتا ہے، حالانکہ بلوچستان میں سب کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔ جمعہ کی رات کراچی میں ایک سوشل ورکر اور دانشور سبین محمود کو ڈیفنس میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے اس بارے میں جو تفصیلی رپورٹ شائع کی، اس میں بتایا گیاکہ وہ اپنی تنظیم T2Fکے زیر اہتمام بلوچستان پر ایک مذاکرہ منعقد کراکے گھر جا رہی تھیں، جب ایک نقاب پوش موٹرسائیکل سوار نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا، ان کے ساتھ ان کی والدہ بھی تھیں،جو زخمی ہوئیں، جبکہ سبین محمود کو پانچ گولیاں لگیں اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئیں۔ سوشل میڈیا پر اس قتل کے حوالے سے بہت سی باتیں زیر گردش ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ سبین محمود کے قتل میں بھارت کا ہاتھ ہو سکتا ہے، کیونکہ T2Fکے مذاکروں میں کچھ ایسے شواہد سامنے لائے گئے تھے، جن کا تعلق بھارت سے جڑتا ہے۔ جو بلوچستان کو بدامنی کا گڑھ بنانے کے ضمن میں سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بلوچستان کے بارے میں ہماری پالیسی کیا ہے۔ناراض بلوچوں کو ہم نے کس طرح اپنے ساتھ رکھنا ہے، کیا وہاں بھی ہم نے کوئی مائنس ون فارمولا جاری رکھا ہوا ہے، اقتصادی راہداری کا منصوبہ سب سے زیادہ بلوچستان میں تنقید کا ہدف کیوں ہے؟ اس کے پس پردہ کوئی خفیہ ہاتھ ہے یا پھر وہ محرومیاں ہیں جو شروع دن سے بلوچوں کے دل و دماغ میں کچوکے لگا رہی ہیں، ان نکات پر غور ہونا چاہیے، مگر جہاں اس حوالے سے کوئی بحث ہوتی ہے، سبین محمود جیسے کسی کردار کی پراسرار موت واقع ہو جاتی ہے۔ کراچی میں جہاں بہت سی اچھی باتیں ہو رہی ہیں، وہاں اس قسم کی ٹارگٹ کلنگ سارے اثبات پر نفی کی سیاہی پھیر دیتی ہے۔حیرت ہے کہ قومی حلقہ 246 کے ضمنی الیکشن کی گہماگہمی اور بھرپور انتخابی مہم میں تو کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن انتخاب کے اگلے دن یہ ٹارگٹ کلنگ ہوئی، اور وہ بھی ڈیفنس جیسے محفوظ علاقے میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کراچی میں بہت سی ایسی طاقتیں موجود ہیں جو اپنا کام بہر طور جاری رکھے ہوئے ہیں، اس افسوسناک واقعہ کے باوجود میرا ذاتی تاثر یہی ہے کہ قومی حلقہ 246 کا ضمنی انتخاب کراچی کے لئے بہت اچھے اثرات چھوڑ گیا ہے۔ کئی حقیقتیں واضح ہو گئی ہیں اور کئی باتوں سے سبق سیکھا جائے گا۔ ایم کیو ایم کی اس حلقے سے دوبارہ جیت اس بات کو واضح کر گئی ہے کہ کراچی میں مائنس ون فارمولا شخصی ہو یا جماعتی کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ جو زمینی حقیقت ہے وہ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف خود ایم کیو ایم کو بھی یہ بات اب سمجھ لینی چاہیے کہ کراچی میں امن و امان کے لئے جو کچھ کیا جا رہا ہے، اس کا مقصد اسے ختم کرنا نہیں، جیسا کہ خود ڈی جی رینجرز نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ایم کیو ایم کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی آپریشن کسی خاصی جماعت کو ختم کرنے کے لئے نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور سماج دشمنوں کا خاتمہ ہے۔ اس انتخاب کے بعد ایم کیو ایم کی عوامی سطح پر جو ساکھ بحال ہوئی ہے، اسے اب رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایم کیو ایم خود سماج دشمنوں کو اپنی صفوں سے مائنس کر دے۔ اس کے پاس عوامی پذیرائی موجود ہے اور اس انتخاب سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صرف خوف کا عنصر ہی ایم کیو ایم کی کامیابی کا سبب نہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا جاتا تھا، بلکہ ایم کیو ایم کی سیاست بھی عوام کے لئے کشش کا باعث ہے، جس کے ذریعے ایم کیو ایم کراچی کے عوام کی خدمت کررہی ہے۔ اب اس پہلو کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے اور دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ نیز بھتہ خوری کے جو الزامات ایم کیو ایم پر لگتے رہے ہیں، ان سے دامن چھڑانے کا یہ سنہرا موقع ہے۔ ایم کیو ایم کو رینجرز کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے ایک منصفانہ اور پُرامن انتخاب کرایا۔ پورے ملک میں اس انتخاب کے انتظامات اور شفافیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔اگرچہ جماعت اسلامی نے انتخابات کو شفاف تسلیم نہیں کیا، تاہم عمومی طور پر سبھی نے کراچی کے ضمنی انتخاب کو مثالی قرار دیا ہے، بلکہ یہ تک کہا گیا کہ شفاف انتخابات کے لئے کیا ہر جگہ رینجرز کی تقرری ضروری ہوگی۔ ایم کیو ایم پر ہمیشہ یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ کراچی میں دھاندلی سے جیتتی ہے۔  پچھلے انتخابات میں خود الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے تسلیم کیا تھا کہ ہم کراچی میں منصفانہ انتخابات نہیں کرا سکے اور اس کا بالواسطہ طور پر ایم کیو ایم پر اس لئے اثر پڑا تھا کہ انتخابات میں وہی ساری نشستیں جیتی تھی۔ اس ضمنی الیکشن میں شفافیت کے لئے کئے جانے والے انتظامات کی وجہ سے جہاں یہ کہا جا رہا تھا کہ شاید ایم کیو ایم ہار جائے، وہاں اس کی جیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کراچی میں وہ ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے اور اس کے بغیر وہاں کا سیاسی منظر نامہ مکمل نہیں ہوتا۔ جہاں ایم کیو ایم کو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ مائنس ون فارمولا اس ضمنی الیکشن کی وجہ سے دریا برد ہو گیا ہے، وہیں اسے ان چیلنجوں پربھی نظر رکھنی چاہیے جو اسے درپیش ہیں، اسے اپنی سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔ ہر الزام کو جھٹلا دینے سے بات نہیں بنتی، تاوقتیکہ حقیقت میں ایسے شواہد نہ دیئے جائیں جو ان الزامات کی نفی کرتے ہوں۔ہر پکڑے جانے والے مجرم سے اعلان لاتعلقی کا فارمولا بھی اب کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ اب خود ایم کیو ایم کو اپنے اندر مائنس ون کا فارمولا نافذ کرنا پڑے گا۔ یعنی یہ کہ خود کو ان لوگوں سے آزاد کرانا ہوگا، جو اس کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ کالم کے آغاز میں مَیں نے کہا تھا کہ سیاست میں کوئی مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا۔ اس حقیقت کو پلے باندھنے کی ضرورت ہے۔ دھرنے کے دنوں میں جب بہت شور اٹھا اور نوازشریف مائنس فارمولے کی باتیں ہونے لگیں تو سیاست میں ایک عجیب قسم کی بے چینی پھیل گئی۔ پاکستان میں یہ حقیقت اب تسلیم شدہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی شناخت شخصیات کی وجہ سے ہے۔یہ بات اچھی ہے یا بُری، مگر ہے ایک بڑی حقیقت، اس لئے اس قسم کی کوششیں ہمیشہ سیاسی انتشار کا باعث بنتی ہیں، جو جہاں موجود ہے، اسے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ سیاست میں کسی کو ناپسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ حق صرف عوام کا ہے کہ جسے چاہیں رکھیں اور جسے چاہیں نکال دیں۔ ہم بلوچستان میں یہ تجربہ کرکے دیکھ چکے ہیں، جن سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو معتوب قرار دے کر سیاست سے مائنس کیا گیا وہ کسی نہ کسی رنگ میں موجود رہیں، البتہ ان کا کردار منفی ہوگیا۔ منفی کردار کی بجائے مثبت کردار کو کام کرنے دیا جائے تو ملک وقوم کے حق میں بہتر ہے۔ جب پرویز مشرف نے نوازشریف کا تختہ اُلٹا تھا تو انہیں نکال کر مسلم لیگ کو اپنا سہارا بنا لیا تھا، اس سے نوازشریف کی مقبولیت تو ختم نہ ہوئی ، البتہ مسلم لیگ کے ٹکڑے ہو گئے ۔ یہ صورت حال اب کبھی نہ پیدا ہو، اس پر تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق ہونا چاہیے۔ پچھلے کچھ عرصے سے سیاست نے بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ سیکھا ہے۔ بالغ نظری کی کئی منزلیں عبور کی ہیں اور اب پاکستانی سیاست میں اتنی سکت پیدا ہوگئی ہے کہ چھوٹے موٹے جھٹکوں کو برداشت کرسکے۔ بہتری کا یہ سفر اس وقت اپنی منزل کو پالے گا، جب سیاست کو صحیح معنوں میں عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھ لیا گیا۔ تب جمہوریت بھی ثمربار ہو جائے گی اور پاکستانی سیاست بھی قدم قدم پر ہچکولے کھانے سے محفوظ ہو جائے گی۔

مزید : کالم