امامِ کعبہ کا ایمان افروز خطاب اور ہماری زندگیاں

امامِ کعبہ کا ایمان افروز خطاب اور ہماری زندگیاں

  



 امامِ کعبہ شیخ خالد الغامدی نے کہا ہے کہ اسلام میں مذہبی تعصب، منافرت اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بعض لوگ تشدد کے ذریعے دینِ اسلام کے تشخص کو مسخ کر رہے ہیں، ہمارا دین کسی کو زبردستی دینِ اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ اسلامی حکومتیں غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک رکھیں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور تفرقے میں نہ پڑیں، تمام فرقوں کے لوگ آپس میں مل سکتے ہیں، اتفاق بہت زیادہ فروعی اختلافات بہت کم ہیں، ہمیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ایک دوسرے کو معاف کر دینا چاہئے، بحریہ ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے امامِ کعبہ نے کہا اسلام رحمت اور درگزر کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے خصوصی دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دہشت گردی سے نجات دلائے انہوں نے حکمرانوں سے کہا کہ وہ قرآن و سنت سے رہنمائی لیں، علماء انصاف کے لئے جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کا اچھا دور آتے دیکھ رہے ہیں۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ دین کی تعلیمات کے مطابق وہ شخص مومن نہیں، جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچے، اسلامی تعلیمات میں ایک مسلمان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے، مگر مقام افسوس ہے کہ آج مسلمان نہ صرف دوسرے مسلمانوں کا گلا کاٹ رہے ہیں،بلکہ جائیداد وغیرہ کی خاطر اپنے قریبی عزیزوں اور خونی رشتے داروں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، بیٹے ماؤں کو قتل کر رہے ہیں، والدین اولاد کو قتل کر رہے ہیں، شوہر بیویوں کو مارنے سے دریغ نہیں کرتے اور بیویاں اپنے شوہروں سے بے وفائی اور اُن کا خون بہانے کے در پے رہتی ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان سمیت دُنیا کے ہر مسلمان معاشرے میں ہو رہا ہے۔ اِن حالات میں ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہم مسلمان ہیں اور کیا ہمارا دعویٰ اسلام سچا اور درست ہے؟ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ملت واحدہ قرار دیا ہے، لیکن آج مسلمانوں کے اندر سے ایسے فتنہ پرور گروہ اُٹھ رہے ہیں ،جو مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور اس دور میں وحشت و درندگی کے نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں، انسانوں کو پنجروں میں بند کر کے زندہ جلایا جا رہا ہے، اُنہیں جانوروں کی طرح چھریوں سے ذبح کیا جا رہا ہے، پھر اِن مناظر کی ویڈیو فلمیں بنا کر پھیلائی جاتی ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام اور مسلمانوں کے نام پرکیا جا رہا ہے، جو لوگ ایسے افعال میں ملوث ہیں ان کا فہم اسلام انتہائی ناقص ہے اور وہ اسلامی تعلیمات کی روح اور مغز سے قطعی بے بہرہ ہیں، جو اسلام ایک مسلمان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے رہا ہے اس کے نام لیوا ہونے کے دعویدار مسلمانوں سمیت انسانوں کو بڑی تعداد میں قتل کر کے جشن منا رہے ہیں۔ اسلام کے اندر فقہی اختلافات شروع سے موجود ہیں اور بڑے بڑے علماء و فضلا اور صلحائے اُمت نے اِن اختلافات کو کبھی باہمی تعلقات کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا، مسلمان اپنے اپنے فقہی اعتقادات کے مطابق عبادات کرتے رہے ہیں اور اِن اختلافات کو کبھی اس حد تک بڑھنے نہیں دیا گیا کہ اسے کشت و خون کا ذریعہ بنا دیا جائے، البتہ اسلام کے قِرن اول میں خوارج کا ایک ایسا گروہ ضرور ظہور پذیر ہوا تھا، جس نے اپنے ناقص فہم کی بنیاد پر کشت وخون کا سلسلہ شروع کیا، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آج کے دہشت گرد گروہ بھی کسی نہ کسی انداز میں خوارج ہی کا نیا روپ ہیں، جو خانہ خدا میں خدائے واحد کے حضور سجدہ ریز مسلمانوں کا خون بھی حلال اور مباح سمجھتے ہیں۔دہشت گردوں کو تو سمجھانا مشکل ہے لیکن عامتہ المسلمین کو امام کعبہ کے ایمان افروز خیالات پر عمل کااہتمام کرنا چاہئے۔  اس دور میں مسلمانوں نے اعلیٰ فنِ تعمیر کی مساجد تو تعمیر کر دیں، خانہ کعبہ کے امام صاحب کی اقتدا میں لاہور اور قرب و جوار کے لاکھوں لوگوں نے پاکستان کی سب سے بڑی مسجد میں نماز جمعہ بھی ادا کر لی۔ امام صاحب لاہور کی مختلف مساجد میں کہیں فجر اور کہیں ظہر کی نماز کی امامت بھی کر رہے ہیں اور اہلِ لاہور دور دور سے چل کر اُن کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کو اپنی سعادت سمجھ رہے ہیں، لیکن ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہم ان تعلیمات کو بھی حرزِ جاں بنانے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں، جن کی تلقین امام صاحب نے اپنے خطبہ جمعہ میں کی اور دیگر اجتماعات میں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اہلِ اسلام سے کہا کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور تفرقہ میں نہ پڑیں، تو کیا ہم آج سے یہ عہد کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ہم فرقہ وارانہ منافرت ختم کر کے اللہ رب العزت اوراس کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں گے، جیسا کہ امام صاحب نے فرمایا اسلام میں اتفاق بہت زیادہ اور فروعی اختلافات بہت کم ہیں، لیکن ہم نے فروعی اختلافات کو بنیادی اختلافات بنا کر رکھ دیا ہے اور اتفاقات کو کم سے کم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت گری عام ہے، ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے اور اس سے متاثر لوگ دوسرے فرقے کے لوگوں کی جان لینے سے گریز نہیں کرتے، اُن کا خون بہانے کو ثواب گردانتے اور اُن کی عبادت گاہوں کو خون سے رنگین کر دیتے ہیں، خان�ۂ خدا کی یہ توہین اسلام کے نام پر ہو رہی ہے اور کشت و خون کا یہ بازار اسلام کے فروغ کے نام پر سجایا جا رہا ہے۔ جن لوگوں نے ملک ریاض حسین کی بنائی ہوئی پاکستان کی سب سے بڑی مسجد میں امام خانہ کعبہ کا خطاب براہِ راست سُنا، اُن پر تو یہ بات عین واجب ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر چلنے کا اپنا عہد تازہ کریں، نہ صرف اسلام کی تعلیمات اور عبادات کو حرزِ جاں بنائیں،بلکہ اپنے کاروباری معاملات کو بھی اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ڈھالیں۔ اگر امام کعبہ کا خطاب براہ راست سننے اور میڈیا کے ذریعے پڑھنے اور دیکھنے والے لوگ بھی اپنے آپ کو اچھا مسلمان نہیں بناتے، اپنے کاروباروں کو دھوکے اور فریب سے پاک نہیں کرتے، اسلامی تعلیمات پر کما حقہ، عمل نہیں کرتے اپنے قلوب کو کلم�ۂ حق سے منور نہیں کرتے اور اپنے دِل میں اسلام کی شمع فروزاں نہیں کرتے تو پھر خانہ کعبہ کے امام کے پیچھے نمازوں کی ادائیگی کے لئے دور دراز کے سفر بھی اکارت جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پکے سچے مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم آج سے عہد کریں کہ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق گزاریں گے پھر کہا جا سکے گا کہ امام کعبہ کا یہ دورہ پاکستان ہمارے لئے باعثِ سعادت ہے، بصورتِ دیگر یہ ساری بھاگ دوڑ ریا کاری اور ملمع کاری نظر آئے گی۔

مزید : اداریہ


loading...