شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی ایک خفیہ بیٹی بھی ہے، امریکی جریدے کا انکشاف

شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی ایک خفیہ بیٹی بھی ہے، امریکی جریدے کا انکشاف

  



 لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ شہزادہ چارلس، ولیم اور جارج بالترتیب شاہی تخت کے امیدوار ہیں لیکن ایک امریکی جریدے نے یہ انکشاف کرکے تہلکہ مچادیا ہے کہ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی ایک خفیہ بیٹی بھی ہے اور وہ تخت کے امیدواروں میں بھی شامل ہے۔جریدے ’’گلوب‘‘ کے مطابق شہزادہ ولیم، لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس کی پہلی اولاد نہیں ہیں بلکہ ان سے پہلے دونوں کی ایک بیٹی کی پیدائش ہوچکی تھی جو تاحال دنیا کی نظروں سے خفیہ ہے۔ جریدے کے مطابق خفیہ شہزادی کا نام سارہ ہے اور وہ اب 33 سال کی ہوچکی ہیں۔ جریدے نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب ڈیانا 19 سال کی کنواری لڑکی تھیں اور شہزادہ چارلس ان سے شادی کرنا چاہ رہے تھے تو ملکہ برطانیہ نے ڈیانا کا طبی معائنہ کروایا۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ ڈیانا صحت مند اولاد کو جنم دینے کے قابل ہیں یا نہیں۔ جریدے کے مطابق شہزادہ چارلس اور ڈیانا کے بیضہ اور سپرم سے ٹیسٹ ٹیوب تکنیک کے ذریعے ایمبریو پیدا کیا گیا اور بعد ازاں اسے ضائع کرنے کا حکم دیا گیا لیکن اس عمل کا حصہ رہنے والے ایک نامعلوم ڈاکٹر نے ایمبریو کو ضائع کرنے کی بجائے اپنی اہلیہ کے رحم میں امپلانٹ کردیا جس کے نتیجے میں ایک بچی پیدا ہوئی۔ جریدے کے مطابق یہ بچی اکتوبر 1981ء میں پیدا ہوئی جبکہ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے ہاں شہزادہ ولیم کی پیدائش جون 1982ء میں ہوئی۔ جریدے نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ شہزادی سارہ کو پالنے والا ڈاکٹر اور اس کی اہلیہ ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوچکے ہیں اور سارہ اپنی جان کے خوف سے امریکہ منتقل ہوچکی ہیں کیونکہ انہیں برطانیہ میں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ اپنے والدین کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں۔ جب اس کہانی پر برطانوی میڈیا کی طرف سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تو جریدے نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ حال ہی میں برطانوی شہزادی کیٹ نے امریکا میں شہزادی سارہ سے 44 منٹ پر مشتمل ملاقات کی ہے اور یہ کہ اس کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ برطانوی میڈیا نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ ساری کہانی افسانوی ہے اور اس کی بنیاد نینسی ریان کے ناول "The Disappearance or Olivia" پر رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب حیران کن انکشافات کرنے والے جریدے کا کہنا ہے کہ اس کے ذرائع کے پاس مکمل شواہد موجود ہیں اور اس سلسلہ میں مزید انکشافات بھی کئے جائیں گے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...