پنجاب کا بینہ نے خواتین کے تحفظ کے بل 2015ء کی مشروط منظوری دیدی ‘ شہباز شریف نے گندم کٹائی مہم کا افتتاح کر دیا

پنجاب کا بینہ نے خواتین کے تحفظ کے بل 2015ء کی مشروط منظوری دیدی ‘ شہباز شریف ...

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی زیر صدارت یہاں پنجاب کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس کے دوران تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کے تحفظ کے بل2015ء کی مشروط منظوری دی گئی جبکہ پنجاب لیبر پالیسی کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس کے دوران اس امر کاانکشاف کیاگیا کہ لاہور اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ میں چین کی کمپنیوں کے ساتھ کامیاب گفت و شنید کے ذریعے 100ارب روپے کی بچت کی گئی ہے جس پر پنجاب کابینہ کی جانب سے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف اور ان کی ٹیم کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔پنجاب کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ تمام صوبائی و زراء،مشیران، معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس،سیکرٹریز،کمشنرز، ڈی سی اوز، آرپی اوز اورڈی پی اوز ایک ایک سرکاری سکول کو اپنائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے صدر شی چن پنگ کے دور ہ پاکستان کے دوران 46ارب ڈالرکے تاریخ ساز اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جن میں صرف بجلی کے منصوبوں کیلئے 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔چین کے تعاون سے پاکستان میں شمسی ،کوئلے،ونڈ اورپن بجلی سے10400 میگاواٹ کے منصوبے لگیں گے اور اکثر منصوبے 2017ء کے اختتام تک بجلی کی پیداوار شروع کردیں گے۔ساہیوال میں 1320میگاواٹ کے کول پاور پراجیکٹ لگائے جارہے ہیں جودسمبر2017ء تک مکمل ہوں گے۔اسی طرح جہلم میں مقامی کوئلے سے 300میگاواٹ بجلی پیداکرنے کا کارخانہ لگایا جارہا ہے اوریہ منصوبہ بھی 2017ء کے اختتام تک کام شروع کردے گا۔ بہاولپور میں شمسی توانائی سے900میگاواٹ کے منصوبے پر تیزرفتاری سے کام ہورہا ہے اورامید ہے کہ 350میگاواٹ شمسی توانائی دسمبر2015ء تک نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی جبکہ 550میگاواٹ شمسی توانائی ستمبر2016ء تک بننا شروع ہو گی۔اس ضمن میں بہاولپور میں ٹرانسمشن لائن کو بھی اپ گریڈ کیا جارہاہے تاکہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو بھی بجلی کی پیداوار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چینی سرمایہ کاری سے 4.5ارب ڈالرکے منصوبوں پر عملدر آمدہوگاجبکہ سندھ میں 9ارب ڈالر کی مالیت کے منصوبے لگیں گے ،یہ تمام منصوبے پاکستان کے ہیں اوراس کافائدہ بھی 18کروڑ عوام کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے مشکل وقت میں پاکستان کا ہاتھ تھاما ہے اوراللہ تعالیٰ نے چین کو ایک وسیلہ بنایا ہے ،چین کے اس احسان عظیم پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اب ہم سب نے مل کردن رات محنت کرنی ہے اوران منصوبوں پر عملدر آمد کیلئے شب وروز ایک کردینے ہیں ۔میرایقین ہے کہ اگر ہم ایمانداری سے محنت کریں گے تو اس تاریخی موقع کو پاکستان کی ترقی اورخوشحالی میں بدل دیں گے اورآئندہ نسلیں یاد رکھیں گی اوردعائیں دیں گی۔اتنا بڑا موقع تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا۔چین نے عملی طورپر ثابت کردیا ہے کہ وہ پاکستان کا انتہائی بااعتماد ،مخلص اورسچا دوست ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تساہل کی کوئی گنجائش نہیں ،سب کو ملکر دیوانہ وار محنت کرکے پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ،یہی واحدراستہ ہے جس پر چلنا ہوگااورتاریخ میں روشن حروف میں نام درج کرانے کیلئے ان معاہدوں پرعملدر آمد کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چار ،چار ہزار میگاواٹ کی 2 ٹرانسمشن لائن بچھانے کے حوالے سے بھی چین 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ ایک لائن مٹیاری سے فیصل آباد جبکہ دوسری مٹیاری سے لاہور تک بچھائی جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ چین کا تاریخ ساز اقتصادی پیکیج پاکستان کیلئے عظیم تحفہ ہے اور ایک شاندار سفر کاآغاز ہے ،اگر ہم نے اس تاریخ ساز اقتصادی پیکیج سے بھر پور فائدہ اٹھایا تو پاکستان کی تاریخ بدل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گیس سے بجلی پیدا کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے گیس سے 1200میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کامنصوبہ لگائے گی جبکہ وفاقی حکومت بھی پنجاب میں گیس سے 2400میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے گی۔بہاولپور میں قائد اعظم سولر پارک میں 100میگاواٹ کامنصوبہ مکمل ہوچکا ہے اور بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی جارہی ہے ۔بہاولپور میں ایک جدید انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کی منصوبہ بندی کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے منصوبے لگنے سے زراعت ،صنعت اوردیگر شعبے ترقی کریں گے اور لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔وزیراعلیٰ نے خادم پنجاب دیہی روڈ ز پروگرام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے سے شروع کیے جانے والا دیہی معیشت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور2018ء تک پنجاب کی تمام دیہی سڑکوں کو 12فٹ چوڑا کرنے کا کام مکمل کیا جائے گا جبکہ رواں مالی سال اس پروگرام کے لئے 15ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی پراجیکٹ کا آغاز بہاولپور سے کیا جارہا ہے اورتین برس کے دوران پنجاب کی ہر تحصیل تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔لاہور اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا اورمنفرد پراجیکٹ ہے جو ٹرانسپورٹ کا کلچر تبدیل کردے گا۔لاہور اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ27کلو میٹر طویل ہوگااورروزانہ 2لاکھ سے زائد شہری اس منصوبے سے مستفید ہوں گے اورمنصوبے کو 27ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے چینی کمپنیوں کیساتھ گفت وشنید کر کے اس منصوبے میں100ارب روپے کے قومی وسائل بچائے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں عوام کے خون پسینے کی کمائی کی بچت کی ایسی مثال نہیں ملتی۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی پنجاب حکومت نے لاہور اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں 100ارب روپے کی بچت کر کے ایک روشن اورقابل تقلیدمثال قائم کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا کی ہے ۔وزیراعلیٰ نے چین کی کمپنیوں کے ساتھ کامیاب بات چیت کے ذریعے 100ارب روپے کی بچت پر اپنی سیاسی و انتظامی ٹیم خصوصاً ایم پی اے رانا ثناء اللہ ،ایم ڈی پنجاب میٹروبس اتھارٹی سبطین فضل حلیم،ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ،چین میں پاکستان کے سفیر اورپاکستان میں چین کے سفیر کی خدمات کی تعریف کی ۔پنجاب کابینہ کے اجلاس کے دوران اورنج لائن لاہور میٹروٹرین کے منصوبے میں 100ارب روپے کی خطیر رقم کی بچت پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ذاتی کاوشوں اورولولہ انگیز قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاگیااورکہا گیا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایک ٹیم لیڈر کے طورپر شاندار قائدانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کرتے ہوئے قوم کے وسائل کو بچا کرایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی 67سال کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال اورچین کے شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چینی بھائیوں اورغیر ملکی باشندوں کی سکیورٹی کیلئے سپیشل پروٹیکشن یونٹ قائم کردیاگیا ہے اوراس ضمن میں صوبہ بھر میں فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اوروضع کردہ سکیورٹی پلان پر پوری طرح عملدرآمد کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبے میں اٹھائے گئے اقدامات پر موثر انداز پر عملدرآمد ہورہا ہے۔اس ضمن میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ سکولوں اورتعلیمی اداروں میں تحمل،برداشت ، رواداری ،بھائی چارے ،یگانگت اور امن کے عنوانات پر مبنی نصاب متعارف کرایا جارہا ہے جس سے انتہاء پسندی کے رجحان کے خاتمے میں خاطر خواہ مد د ملے گی ،اسی طرح مضمون نویسی اورتقریری مقابلہ جات کا اہتمام کیا گیا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر محاذ پرِ لڑی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تھانوں کی کمپیوٹرائزیشن کا کام مزید تیز کیا جائے اورپنجاب بھر میں تھانوں کی کمپیوٹرائزیشن کے کام کو 2016 ء کے اختتام تک مکمل کیا جائے۔شعبہ تعلیم کی بہتری کے لئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ’’پڑھو پنجاب ،بڑھو پنجاب‘‘کاانقلابی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بلند کیا جارہاہے۔اس پروگرام پر موثر عملدر آمد سے سرکاری سکول اپنانے کی پالیسی بھی بنائی گئی ہے جس سے معیار تعلیم میں بہتری آئے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری سکول اپنانے کے پروگرام پرقومی جذبے کے تحت کا م کیا جائے اورجوشخصیات سکول اپنائیں وہ مہینے میں کم از کم ایک بار سکول کا لازمی دورہ کریں۔وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد اورسیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی کارکردگی کو سراہا۔وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر محنت راجہ اشفاق سرور اورسیکرٹری محنت کو ہدایت کی کہ بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کا جامع پلان اگلے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے ۔تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کے تحفظ کے بل2015ء کی مشروط منظوری دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کابینہ کمیٹی 7روز میں جائزہ لے کر دوبارہ حتمی بل کابینہ اجلاس میں پیش کرے۔صوبائی وزراء ،مشیران ،معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اورمتعلقہ سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ معیاری اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فروخت کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے گھی کی قیمتوں میں کمی کے اقدامات سے نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر کے عوام مستفید ہو رہے ہیں اور پنجاب حکومت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے عوام کو ریلیف مل رہاہے ۔وہ آج یہاں ویڈیو لنک کے ذریعے سول سیکرٹریٹ میں صوبائی پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ گھی او رکوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی حکومت پنجاب کا ایک اور عوام دوست اقدام ہے اور اس ضمن میں صوبائی وزراء ،سیکرٹری صاحبان اور متعلقہ حکام کے مارکیٹوں و بازاروں کے دورے سود مند ثابت ہو ئے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی مفاد عامہ کے لئے یہ دورے جاری رکھے جائیں۔اجلاس کے دوران صوبائی وزراء نے مختلف اضلاع کے دوروں کے بارے میں رپورٹ پیش کی ۔صوبا ئی وزراء بلال یاسین، ملک ندیم کامران ، ڈاکٹر فرخ جاوید ،چودھری محمد شفیق، چیف سیکرٹری ، متعلقہ سیکرٹریز کے علاوہ اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

لاہور(نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لاہور کے نواحی گاؤں واڑہ ملک شاہ محمد اعوان میں گندم کی کٹائی مہم2015ء کاباقاعدہ افتتاح کیا ۔ وزیراعلیٰ نے روایتی درانتی کے ذریعے گندم کاٹ کرگندم کٹائی مہم کا آغاز کیا اور ہارویسٹر چلا کر بھی گندم کی کٹائی کی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے گندم کٹائی مہم کے افتتاح کے بعد کاشتکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے بے پایاں فضل و کرم اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث رواں برس گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی ہے جس پر میں کسان بھائیوں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے چھوٹے کاشتکاروں کو10ہزار ٹریکٹرز رعایتی نرخوں پر دینے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو فی ٹریکٹر2لاکھ روپے کی سبسڈی دے گی اوراس شاندار کسان دوست پروگرام کا آغازنئے مالی سال سے کیا جائے گااوررعایتی نرخوں پر ٹریکٹرز ان چھوٹے کاشتکاروں کو دےئے جائیں گے جوساڑھے بارہ ایکڑ اراضی تک کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو کاشتکاروں کے مسائل کا پوری طرح ادراک ہے اوروزیراعظم محمد نوازشریف نے کاشتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں اور مجھے بھی کسانوں کے مسائل کا پورا احساس ہے اور ہماری ہرممکن کوشش ہے کہ کسانوں کوان کی محنت کا پورا پورا معاوضہ ملے ۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بعض فصلوں میں منافع کی بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ،اس صورتحال کا وزیراعظم محمد نوازشریف اورمجھے بخوبی اندازہ ہے،یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں کاشتکاروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری حکومت نے گنے کی قیمت 180روپے مقرر کی اور جب سندھ میں گنے کی قیمت 182 روپے سے کم کر کے 155روپے کی گئی تو بھی پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کیلئے گنے کی قیمت کو180روپے سے کم نہیں ہونے دیا۔دوسری طرف عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی کاشتکاروں کو ہوا ہے اوربجلی کے بل بھی کم ہوئے ہیں،یقیناًان سے کسانوں کی مشکلات میں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ رواں برس پاکستان میں گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی ہے اورپنجاب حکومت نے 40لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا ہے اورگندم کی قیمت 1300روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔گندم خریداری مہم میں شفافیت کے ساتھ کسانوں سے گندم خریدی جائے گی اوراس ضمن میں محکمہ خوراک کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔سب سے پہلے چھوٹے کسانوں سے ان کا غلہ خریدا جائے گااورانہیں ان کی محنت کا اجر ملے گا۔میں خود تمام خریداری مہم کی نگرانی کروں گا اور کسی سے زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پہلے بھی چھوٹے کسانوں کو اربوں روپے کے رعایتی نرخوں پر ٹریکٹرز فراہم کیے ہیں جس پر 2لاکھ روپے سبسڈی دی گئی تھی اوراس سکیم کا اجرا ء نئے مالی سال سے دوبارہ کیا جارہا ہے جس میں 10ہزار ٹریکٹرز چھوٹے کاشتکاروں میں تقسیم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گندم خریداری مہم میں مڈل مین یا آڑھتی کو کسی نے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت ترین ایکشن ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسانوں کی دن رات کی محنت رنگ لائی ہے اور اس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور کسانوں کی سہولت کیلئے پنجاب میں گندم کی خریداری کے 376 مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ گندم کی خریداری کے عمل میں شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کسانوں کیلئے بے شمار اقدامات کئے۔ چھوٹے کسانوں کا استحصال نہیں ہونے دیں گے۔گندم کٹائی مہم کے افتتاح کے بعد ملک کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔اس موقع پر صوبائی وزراء بلال یاسین ،ڈاکٹر فرخ جاوید ،اراکین قومی وصوبائی اسمبلی،متعلقہ سیکرٹریز،کمشنر لاہورڈویژن،ڈی سی او لاہور اورکاشتکاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مزید : صفحہ اول


loading...