پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہم ہے،چینی وزیر خارجہ

پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہم ہے،چینی وزیر خارجہ

  



 بیجنگ (آئی این پی)چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے چین کے صدر شی چن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف سدا بہار دوستی کو مزید مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے ، یہ عملی تعاون کو مزید بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو گا، دونوں ممالک کو اسٹریٹیجک تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہم ہے، شی چن پنگ کانئے سال میں پہلا سمندر پار پاکستان کا پہلا دورہ پاک چین تعلقات کی اہمیت کا عکاس ہے، چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ، پاکستان کے ساتھ تعلقات چین کی خارجہ پالیسی کے ایجنڈے میں سرفہرست ہیں اور وہ ر جنوبی ایشیائی ممالک میں اسے ’’فولادی دوست‘‘ کی نظر سے دیکھتا ہے، صد ر پنگ کی صدر ممنون حسین ، وزیراعظم نواز شریف، ارکان پارلیمنٹ، عسکری قیادت اور ملک کی بڑے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرینگی ،چین پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت ملنے کا حامی ہے، دونوں ممالک افغانستان میں مفاہمتی اور امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے، چینی وفد کا پاکستان میں گرمجوش اور پرتپاک استقبال اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے۔ وہ ہفتہ کو یہاں چینی صدر شی چن پنگ کے دورہ پاکستان اور انڈونیشیا مکمل ہونے کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ وانگ ژی نے کہا کہ صدر شی چن پنگ کا دورہ چین کے پڑوس میں مشترکہ نزل رکھنے والی برادری اور نئے قسم کے عالمی تعلقات کو بڑھانے کے حوالے سے ایک کامیاب عمل رہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی چن پنگ نے پاکستان اور انڈونیشیا کا دورہ کیا، دونوں ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات دوطرفہ اور سہ جہتی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے درمیان سیاسی، اقتصادی شعبوں میں تعاون کے ساتھ عالمی ڈپلومیسی اور پڑوسی ہونے کا تعلق بھی ہے۔ وانگ ژی نے کہا کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کا مقصد پاک چین روایتی دوستی کو مزید مضبوط کرنا اور عملی تعاون کو بڑھانا تھا تا کہ اس سے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی بلندی تک لے جایا جا سکے، ممالک کی مشترکہ منزل کے تصور کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ وانگ نے کہا کہ اس دورے کے دوران کئی دو طرفہ اور کثیر الطرفہ سرگرمیاں انجام پائیں۔ انہوں نے تمام سماجی و معاشرتی حلقوں تک رسائی حاصل کی، بڑی تعداد میں اہم پالیسی تقاریر کیں اور نئے اقدامات اور منصوبوں کا مجموعہ پیش کیا۔ انہوں نے نتیجہ خیز، عاجزانہ اورفیاضانہ سفارتکاری کے انداز کی بنیاد رکھی اور دوسرے کے دوران کثیر الطرفہ کامیابیاں حاصل کیں، نئے سال میں پاکستان کا پہلا سمندر پار دورہ پاک چین تعلقات کی اہمیت کا عکاس ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اس نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایجنڈے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح دی ہے اور جنوبی ایشیائی ممالک میں اسے ’’فولادی دوست‘‘ کی نظر سے دیکھتا ہے، دورہ کے دوران چینی صدر شی چن پنگ نے صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف، ارکان پارلیمنٹ، عسکری قیادت اور ملک کی بڑے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات میں تفصیلی دوطرفہ تعلقات سمیت دیگر اہم امور کی گہرائی اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا، یہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وانگ ژی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کی خواہش کو مزید استحکام ملا ہے اور دونوں ممالک کے رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کو سدابہار اسٹریٹیجک تعاون شراکت داری کی سطح تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے، سدا بہار دوستی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی تمام سمتوں کا مکمل احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کی بلندی ان کے مثالی ہونے کا واضح اظہار ہے، اس سے دوطرفہ پاک چین اسٹریٹیجک اعتماد کی بنیاد بھی مزید مضبوط ہوئی ہے، دونوں ممالک نے اسٹریٹیجک کمیونیکیشن اور روابط کو بھی مزید بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت ملنے کا حامی ہے اور دونوں ممالک افغانستان میں مفاہمتی اور امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان عملی تعاون مزید جامع بن چکا ہے، شی چن پنگ کے کامیاب دورہ سے پاکستان اور چین کے درمیان سیکیورٹی اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ دونوں اطراف سے پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ گوادر پورٹ، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور توانائی کے چار اہم شعبوں میں 1+4کی پیشکش پر بھی اتفاق کیا ہے۔سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے وانگ ژی نے کہا کہ دونوں ممالک نے سیف گارڈ سیکیورٹی مفادات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیلئے ہاتھ ملانے کیلئے دفاعی اور انسداد دہشت گردی تعاون کو مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، پاکستان اور چین کے عوام کو ملانے والی پٹی کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دورہ کے دوران چینی صدر شی چن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین روایتی دوستی کو برقرار رکھنا اور اسے آگے بڑھانا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے تا کہ اسے ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کیا جا سکے۔ وانگ ژی نے کہا کہ ’’2015کو پاک چین سال برائے دوستانہ تبادلے‘‘ قرار دیا گیا ہے اور چین نے مختلف تہذیبوں کے درمیان تعاون اور تبادلوں کی اچھی مثال قائم کرنے کیلئے پڑوسی ملک کیلئے 2000 تربیتی مواقع پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے چن پنگ کا دورہ پاکستان دوسرے گھر کی طرح کا دورہ تھا، اور یہ پورے ملک کیلئے ایک عظیم تقریب بن گئی۔ چینی وفد کا پاکستان میں گرمجوشی اور پرتپاک استقبال کیا گیا جو کہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے۔ وانگ نے کہا کہ چینی صدر شی چن پنگ کے دورہ پاکستان نے پاک چین تعلقات میں کئی ریکارڈ قائم کئے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی تاریخ کا سنگ میل قائم کیا چینی وزیر خارجہ

مزید : صفحہ آخر