ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ جعلسازوں کے سامنے بے بس ،قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ جعلسازوں کے سامنے بے بس ،قومی خزانے کو ...

  



لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ جعلسازوں اور دھوکے بازوں کے سامنے بے بس ہوگیا۔دوران انکوائری جعلسازی اور فراڈ ثابت ہونے کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی جاسکی۔جعلسازی میں ملوث ملازمین نے خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ڈالا۔معلوم ہواہے کہ ایکسائزاینڈٹیکسیشن نے گزشتہ مالی سال کے دوران ماہ اگست اور ماہ ستمبر میں جعلسازی کی بعض شکایات سامنے آنے پر انکوائری کا حکم دیا۔ دوران انکوائری یہ بات ثابت ہوئی کہ محکمے کے بعض انسپکٹروں نے ایجنٹ مافیا کی ملی بھگت سے LZJ-6093ََ۔LZJ- 6092اورLEC-14-8520اورLEE-14-9695کی جعلی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی جعلی اپ ڈیشن کی ہے۔انکوائری رپورٹ کے مطابق گاڑی نمبر LZJ-6093ََاور LZJ- 6092 کی رجسٹریشن کے بغیر ہی یکم اپریل 2005سے 30جون 2013تک 8برسوں کے ٹوکن ادا کئے بغیر ہی کمپیوٹر ریکارڈ میں اپ ڈیٹ کردیئے گئے۔ اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔دوران انکوائری یہ بات ثابت ہوگئی کہ ٹوکن ٹیکس ادا نہیں کیا گیالیکن اس کے باوجود اپ ڈیشن کی گئی ہے۔لیکن دوماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود محکمے کی طرف سے جعلسازی میں ملوث محکمے کے ملازمین اور ایجنٹوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔ اسی طرح گاڑی نمبرLEC-14-8520اورLEE-14-9695کے ٹوکن ٹیکس بھی جعلسازی کرتے ہوئے اپ ڈیٹ کئے گئے اور فراڈ بے نقاب ہونے پر موٹر برانچ کے متعلقہ انسپکٹر نے کمپیوٹر ریکارڈ میں ردوبدل کرڈالا ۔ معاملہ سامنے آنے پر محکمے نے انکوائری کا حکم دیا تو انکوائری میں یہ بات ثابت ہوئی کہ گاڑی نمبرLEC-14-8520اورLEE-14-9695 کے ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے جعلسازی کرتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔انکوائری افسر نے ایسے مزید سینکڑوں کیسوں کی نشاندہی بھی کی ۔ جو قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا باعث بن چکے ہیں۔ لیکن تین ماہ گزرنے کے بعد بھی محکمے نے ذمہ داروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق ڈائریکٹر موٹرزنے جعلسازی میں ملوث ان اہلکاروں کے خلاف دانستہ کارروائی نہ کی اور یہ معاملہ یونہی دب گیا۔جبکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلسازی میں ملوث یہ اہلکار سابق ڈائریکٹر موٹرز کے بھی چہیتے ہیں۔ اسی لیے کارروائی نہ کی گئی ۔البتہ عوامی حلقوں اور ایمانداری سے کام کرنے والے موٹر ایجنٹوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دوران انکوائری قصوروار ٹھہرائے جانے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ڈائریکٹر جنرل و صوبائی سیکرٹری اس معاملے کا ازخود جائزہ لیں تاکہ آئندہ کسی کو جعلسازی کرنے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہ ہوسکے۔ ایکسائز اینڈٹیکسیشن

مزید : صفحہ آخر


loading...