ایم کیو ایم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ؟

ایم کیو ایم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ؟
 ایم کیو ایم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ؟

  



ایم کیو ایم نے کراچی میں پھر میدان مار لیا۔ حلقہ این اے 246میں تین پارٹیوں کے درمیان گھمسان کا معرکہ تھا۔ الیکشن تو ضمنی تھا، لیکن میڈیا اور سیاسی جماعتوں نے اسے جنرل الیکشن سے بھی زیادہ اہم بنا دیا۔ یہ سیٹ پہلے بھی ایم کیو ایم کی تھی جو نبیل گبول کے استعفے کے بعد خالی ہوئی۔ جہاں سے یہ ضمنی الیکشن ہونے جا رہا تھا۔ یہ حلقہ ایم کیو ایم کا ہیڈ کوارٹر ،سپورٹرز اور ووٹرز کا گڑھ تھا۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے اسے چیلنج کیا اور اپنے ایک مقامی رہنما عمران اسماعیل کو ایم کیو ایم سے مقابلے کے لیے میدان میں اتار دیا، جہاں انہیں کنور نوید جمیل کا سامنا تھا جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ وہ ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر حیدرآباد سے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی خدما ت رہی ہیں۔ اِسی نشست پر ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی بھی اپنا زور آزما رہی تھی۔ جماعت اسلامی اور اُس کے نامزد امیدوار راشد نعیم کو یہ گمان تھا کہ وہ اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف سے زیادہ مضبوط جماعت اور امیدوار ہیں۔ کراچی کی مخصوص صورتِ حال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وفاقی وزارت داخلہ کے علاوہ سندھ حکومت نے بھی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے ہوئے تھے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کا بھی بھرپور اور مربوط سسٹم ڈی سی آفس میں قائم کیا گیا تھا، جس کے باعث دھاندلی اور امیدواروں کے حامیوں کے مابین لڑائی جھگڑے کے سنگین واقعات دیکھنے میں نہیں آئے۔ الیکشن مجموعی طور پر پُرامن رہا ، جس کا سارا کریڈٹ انتظامیہ اور رینجرز کو دیا جا سکتا ہے۔ضمنی الیکشن سے قبل ایم کیو ایم اور اُس کی قیادت پر بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ شاید اس بار الیکشن نتائج کے بعد ایم کیو ایم کو شدید دھچکا محسوس ہو،لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ البتہ یہ ضرور دیکھنے میں آیا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے فقید المثال جلسوں اور بڑی بڑی ریلیوں، دیگر اجتماعات اور کارنرز میٹنگ کے بعد ایم کیو ایم کی بیرونی اور مقامی قیادت بھی آرام سے نہیں بیٹھی۔ الطاف حسین کارکنوں کا جذبہ بڑھانے اور اُن کے ولولوں کو زندہ و جاوید کرنے کے لئے اُن سے روز ٹیلی فونک خطاب کرنے لگے۔ ایم کیو ایم کی مقامی قیادت بھی دن رات ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم میں بڑی سرگرمی سے مصروف نظر آنے لگی، جبکہ اس سے پہلے کبھی ایسا ہوتے نہیں دیکھا گیا تھا۔یہ الیکشن درحقیقت ایم کیو ایم کی اپنے حلقے یا کراچی میں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کا ایک پیمانہ تھا۔ اگر وہ ہار جاتے تو مخالفین کا یہ مؤقف درست دکھائی دینے لگتا کہ ایم کیو ایم دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کرتی ہے، انتخابی عملے سمیت انتظامیہ کو سخت دباؤ میں رکھنا اور انہیں خوفزدہ کئے رکھنا اُن کے نام سے منسوب تھا۔ انہی خدشات اور الزامات کے پیش نظر حکومت، خصوصاً الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایسے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہوئے تھے کہ کسی کو بھی دھاندلی اور کسی کو خوف میں رکھ کے اپنے مقاصد پورے کرنے کا موقع نہ ملے۔ شکرہے کراچی کا یہ ضمنی الیکشن جس پر پورے ملک کی نظریں تھیں، بخیر و خوبی گزر گیا اور نتیجہ بھی سامنے آ گیا، جس کو تسلیم بھی کر لیا گیا ہے، لیکن میں کچھ محرکات پر ضرور روشنی ڈالنا چاہوں گا، کیونکہ وہ اہم ہی نہیں، غور طلب بھی ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسے ماحول میں جب ایم کیو ایم پوری طرح زیر عتاب تھی ، نائن زیرو پر جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے لئے رینجرز کا چھاپہ پڑ چکا تھا۔ کے الیکٹرک کے ایم ڈی شاہد کے قتل کا قصّہ بھی صولت مرزا کے ذریعے کوئٹہ کی مچھ جیل سے منظرِ عام پر آ چکا تھا۔ جس کے تانے بانے الطاف حسین اور بابر غوری سمیت ایم کیو ایم کے دیگر کئی رہنماؤں سے مل رہے تھے۔ منی لانڈرنگ کیس بھی لندن میں الطاف حسین کے لئے وبالِ جان بنا ہوا تھا۔ یہ وہ حالات یا پروپیگنڈہ تھا جس کا ایم کیو ایم اور الطاف حسین ’’سامنا‘‘کر رہے تھے۔ سمجھا یہی جا رہا تھا کہ ان حالات کے پیش نظر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا گراف نیچے آ گیا ہے، جس کا نقصان انہیں شاید اس ضمنی الیکشن میں بھی پہنچے اور وہ اس بار اپنی یہ قدیمی اور روائتی نشست ہاتھ سے کھو دیں، مگر نتائج نے جو کہانی بیان کی اُس نے یہ بات تو ثابت کر دی کہ لوگ اب بھی ایم کیو ایم کے سپورٹرز اور ورکرز ہیں۔ کوئی بھی منفی پروپیگنڈہ کیا جائے یا میڈیا میں کوئی بھی منفی کمپین چلائی جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم زیر عتاب سہی، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہ سیٹ ایم کیو ایم کی تھی، جو آسانی سے اُسے واپس مل گئی۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہوا کہ پی ٹی آئی نے کے پی کے اور پنجاب سے آ کر اسے کراچی میں للکارا اور ایسی سیٹ پر للکارا جو ایم کیو ایم کا مضبوط گڑھ ہے۔ اس چیلنج نے ایم کیو ایم کی صفوں میں شدید ہلچل مچائی۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ ایم کیو ایم کیسی بھی جماعت ہو، وہ اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کے بہت قریب ہے۔وہ کچھ بھی ہو، اُس کے کردار پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ کی جائے، لیکن یہ طے ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی اب بھی ایک مقبول جماعت ہے۔ اُسے باقی صوبوں میں شاید اس لئے پذیرائی نہیں مل رہی یا مل سکی کہ اُس کے دامن پر شدید نوعیت کے الزامات اور داغ ہیں۔ اگر ایم کیو ایم یہ الزامات اور داغ دھولے تو شاید دیگر صوبوں میں بھی اُس کی کوئی جگہ بن سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے ماضی کے تمام سنگین الزامات سے بری الذمہ ہونے کے لئے عدالتوں میں اپنی صفائی کے ساتھ پیش ہونا پڑے گا۔ یہی وہ میکنزم ہے جو اُسے پورے ملک میں مقبول جماعت بنا سکتا ہے۔ ورنہ ایم کیو ایم کی کراچی، سکھر اور حیدرآباد کے سوا کہیں کوئی گنجائش نہیں۔ منی لانڈرنگ کیس ہو، کے الیکٹرک کے ایم ڈی شاہد کا قتل یا ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، ان سب میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کردینا چاہئے۔ یہی وہ تینوں کیس ہیں جو اُن کے آئندہ کے سیاسی مستقبل اور لائحہ عمل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...