سجادگانِ امام علی الحق ؒ کے عُرس کی تقریبات

سجادگانِ امام علی الحق ؒ کے عُرس کی تقریبات

  



 تبلیغ اسلام کے لئے برصغیر پاک و ہند میں علمائے کرام و مشائخ عظام کی خدمات ہمیشہ رشُد و ہدایت کا ذریعہ رہیں گی۔ اسلام کی سربلندی و سرفرازی کے لئے اللہ کے جن نیک بندوں نے اپنی زندگیاں وقف کئے رکھیں ان بزرگوں میں بر صغیر کی عظیم روحانی درگاہ حضرت امام علی الحق شہیدؒ المعروف امام صاحبؒ کے سجادگان حضرت پیرسیّد بابا نشان علی شاہؒ ،حضرت پیرسیّدحیدر علی شاہؒ ، حضرت پیرسیّد صفدر علی شاہؒ ، حضرت پیرسیّدجماعت علی شاہؒ اور حضرت پیرسیّدآصف علی شاہ مکیؒ کے نام تاریخ کے سنہری باب میں درج رہیں گے۔ متذکرہ روحانی ہستیاں انتہائی متقی اور پرہیزگار تھیں اور انہوں نے زندگی کا کوئی لمحہ بھی یادِ الٰہی کے بغیر نہ گزارا۔ان کی زندگیاں اتباع رسولؐ کی جیتی جاگتی تصویر تھیں یہ بزرگ بکثرت محبوب آقاؐ کے حضور درودِپاک کا نذرانہ پیش کیا کرتے۔ یہ ہستیاں روحانی طور پر حضرت امام علی الحق شہیدؒ المعروف امام صاحبؒ کو اپنا پیرو پیشوا مانتے تھے جن کی نظرکرم سے یہ بزرگ نہایت جلالی اور رعب ودبدبے والے تھے۔ان کے چہروں سے ہمہ وقت نورانیت ٹپکتی تھی۔ مخلوقِ خداوندی کا ہمیشہ بھلا سوچتے اور مستحقین کی یوں مالی اعانت کیا کرتے تھے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔بحمدہ تعالیٰ لاتعداد گھرانے ان کی کفالت میں پلتے تھے اور آج ان کی نسل اپنے بزرگوں کے اوصاف حمیدہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلام کی آبیاری کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔اور فیض کریمانہ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت پیرسیّد بابا نشان علی شاہؒ نیزہ بازی میں غیر معمولی شہرت کے حامل تھے اور مخلوق خداوندی کو ہمیشہ سادگی اپناننے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے حضرت پیرسیّدحیدر علی شاہؒ پیشہ کے لحاظ سے پٹواری تھے اور ان کی ایمانداری اور فرض شناسی پر اپنے پرائے سبھی نازاں تھے۔ حضرت پیر سیّدصفدر علی شاہ،ؒ حضرت پیرسیّدجماعت علی شاہؒ ، حضرت پیرسیّدآصف علی شاہ مکی اور پیرسیّد لیاقت علی شاہ بنیامین (ر) ڈسٹرکٹ اٹارنی کا شمار حضرت پیرسیّدحیدر علی شاہؒ المعروف باؤجی کے صاحبزادگان میں ہوتاہے۔حضرت پیرسیّدصفدر علی شاہؒ ؒ انتہائی جلالی چہرے کے حامل بزرگ تھے اور حق گوئی وبیباکی اُن کا شعار تھا۔انہوں نے اپنی عمر کا زیادہ حصہّ اسلام آباد میں حضرت بری امام سرکارؒ کے مزار کے پہلو میں ڈیرہ جماکرمخلوق خداوندی کو روحانی طور پر فیضاب کرنے میں گذارا۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ؍راولپنڈی اور دیگر نواحی علاقوں میں ان کے عقیدت مندان اور ان کے مرُیدین کا وسیع حلقہ ہے۔ مری والے بابا لعل شاہؒ کے ساتھ ان کی بہت قربت تھی ۔ حضرت پیرسیّدصفدر علی شاہؒ کی جانشینی کے فرائض ان کے بڑے بیٹے صاحبزادہ پیر سیّد ذوالفقار علی شاہ بخاری انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ ان کے دیگر صاحبزادگان میں سیّدتبسم علی شاہ، سیّد اسد علی شاہ، سیّد عظمت علی شاہ اور سیّدجعفرعلی شاہ شامل ہیں۔حضرت پیرسیّدجماعت علی شاہؒ انتہائی درویش منش اور پیکر فقر تھے۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ہراول دستہ کے سرگرم رکن کی حیثیت سے تحریک پاکستان میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔سادگی کے ساتھ ساتھ خوش مزاجی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ڈی سی آفس سیالکوٹ میں بطورسینئر اہلکار اپنی خدمات انتہائی اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیتے رہے۔یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرتے تھے۔ پیر سیّد جماعت علی شاہؒ کی بڑی صاحبزادی اپنے والد کی جانشینی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے مخلوق خداوندی کو امامی فیض سے مستفید کررہی ہیں اور محلہ امام صاحبؒ میں اپنی رہائش گاہ پر بچوں کو قرآن پڑھاتی ہیں اور گاہے بگاہے محافل میلاد کا انعقاد بھی کرتی رہتی ہیں اور حضرت پیرسیّد جماعت علی شاہ ؒ نے محلہ حضرت امام صاحبؒ میں ڈیرہ بابِ اُلفت کی بنیاد رکھی، جس کے مہتمم اعلیٰ ان کے چھوٹے بھائی پیرسیّد لیاقت علی شاہ بنیامین (ر) ڈسٹرکٹ اٹارنی و سینئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ہیں۔ پیر سیّد لیاقت علی شاہ بنیامین ڈیرہ بابِ اُلفت پر روزانہ بعد ازنماز عشاء جادو، گنڈے اور ٹونے وغیرہ اور جن بھوتوں کے شکنجے میں آئے ہوئے لوگوں کا مفت علاج کرتے ہیں اور لوگوں کے گھریلو مسائل سُن کر اصلاح احوال کے سلسلے میں ان کی ہر ممکن اعانت بھی کرتے ہیں۔ پیر سیّد لیاقت علی شاہ بنیامین کے صاحبزادگان میں سیّد رضاء علی شاہ ، سیّد عثمان علی شاہ، سیّد طیب علی شاہ اور سیّد یاسرعلی شا ہ شامل ہیں۔ حضرت امام علی الحق شہیدؒ کے مزار کے پہلو میں آپ کے سجادگان کے خصوصی قبرستان میں مرجع خلائق ہیں اور مخلوق خداوندی وہاں سے صبح وشام فیضاب ہورہی ہے۔مزارات پر ہمہ وقت انوار وتجلیات کی بارش کا احساس ہوتا ہے۔ حضرت پیرسیّد بابا نشان علی شاہؒ ،حضرت پیرسیّدحیدر علی شاہؒ ، حضرت پیرسیّدصفدر علی شاہؒ ، حضرت پیرسیّدجماعت علی شاہؒ اور حضرت پیرسیّدآصف علی شاہ مکیؒ کا مشترکہ سالانہ عرُس مُبارک ہر سال ڈیرہ بابِ اُلفت محلہ امام صاحبؒ میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ماہِ اپریل کی آخری اتوار کو زِیر سرپرستی پیرسیّد لیاقت علی شاہ بنیامین منایا جاتاہے،جس میں ملک کے گوشے گوشے سے زائرین وعقیدت مندان قافلوں کی شکل میں شرکت کرتے ہیں۔ اس سال یہ عُرس پاک بروز اتوار26اپریل کو منایا جارہا ہے۔ تقریبات کا آغاز رسمِ غسل کے ساتھ صبح 11بجے ہو گا۔مزارات کو کلمہ طیبہ کے زمزموں میں عرق گلاب اور مشک وعنبر کے ساتھ غسُل دیا جائے گا۔بعدازنمازِظہر حسُن قرأت و نعت خوانی اور عارفانہ ؍صوفیانہ کلام کی خصوصی نشست زیرصدارت صاحبزادہ سیّد ذوالفقار علی شاہ بخاری منعقد ہوگی، جس میں مقتدر قرآؤنعت خوانانِ حصہ لیں گے۔مختلف درگاہوں کے سجادگان مہمانان خصوصی ہوں گے۔اختتامی نشست میں ممتاز علماء و مشائخ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ صلوٰۃ وسلام کے بعد اجتماعی دُعا ہوگی،جس کے فوراً بعد مزارات پر رسم چادرپوشی جلوس کی شکل میں زیر قیادت پیرسیّد لیاقت علی شاہ بنیامین(ر) ڈسٹرکٹ اٹارنی ادا کی جائے گی ۔ بعداز نمازِ عشاء محفل سماع بھی منعقد ہوگی ،جس میں معروف قوال عارفانہ کلام پیش کریں گے۔اس موقعہ پر معزز مہمانانِ گرامی کی دستاربندی بھی ہوگی۔

مزید : کالم


loading...