جیو پالیٹکس سے جیو اکنامکس تک

جیو پالیٹکس سے جیو اکنامکس تک
 جیو پالیٹکس سے جیو اکنامکس تک

  



 پاک چین دوستی، دُنیا میں دو ملکوں کی دوستی کے لئے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ بات ایک زندہ جاوید محاورہ بن چکی کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے اور اب یہ فولاد سے مضبوط ہوگئی ہے۔چین کے صدر شی چن پنگ کا دو روزہ دورۂ پاکستان تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ معزز مہمان کے لئے خصوصی پروٹوکول پاکستانی فضائی حدود سے ہی شروع ہوگیا تھا ، جب ان کا طیارہ پاکستانی حدود میں داخل ہوا اور پاک فضائیہ کے 8جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے اُسے حصار میں لے لیا اور عجیب شان و شوکت سے اسے نور خان ایئربیس پہنچایا۔ صدر، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور وفاقی کابینہ کے اراکین نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ چینی صدر اور ان کی اہلیہ اس فقیدالمثال استقبال پر پھولے نہ سما رہے تھے۔ چینی خاتونِ اوّل نے دورے کے دوران پاکستانی قومی پرچم کے ہم رنگ لباس ہی زیب تن کئے رکھا جو پاکستان کے لئے ان کی حقیقی محبت کی عکاسی کر رہا تھا۔ اس موقع پر پاکستان اور چین نے دوستی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اقتصادی راہداری (اکنامک کاریڈور) سمیت51 معاہدوں پر دستخط کئے جن کی رو سے چین پاکستان میں 45ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گا۔ دونوں ملکوں میں تجارتی حجم کو 20ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ 45ارب ڈالر کے ان منصوبوں میں 28 ارب ڈالر کے منصوبے فوری شروع ہوں گے، جبکہ 17ارب ڈالر کے منصوبوں کا آغاز ضروری تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا۔ ان منصوبوں میں اہم ترین بجلی کی پیداوار کے منصوبے ہیں جن سے ملک میں چھائے اندھیرے انشااللہ ختم ہوں گے۔ 8370 میگاواٹ کے 14منصوبوں میں ونڈ، سولر اور کول سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ چینی کمپنیاں اِن منصوبوں میں 20ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کریں گی اور 2017ء تک 8370 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی۔ خنجراب سے گوادر تک اقتصادی راہداری (پاک چائنا اکنامک کوریڈور) ان 51معاہدوں میں سب سے نمایاں ہے، جو گیم چینجر ہی نہیں بلکہ تقدیر کو بدلنے والا بھی ثابت ہوگا اور دونوں مُلک ’’جیو پالیٹکس‘‘ سے ’’جیو اکنامکس‘‘ میں داخل ہوجائیں گے۔ یہ کوریڈور دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، جس سے پاکستان میں انفراسٹرکچر کے شعبے میں وسعت آئے گی۔ اکنامک کوریڈور کے ساتھ اکنامک زون بنیں گے جن سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ یہ کوریڈور سنٹرل ایشیاء اور گلف کے لئے گیٹ وے ہوگا۔ گوادر پورٹ آپریشنل ہوجائے گی تو بندر عباس ، دبئی، سنگاپور اور عمان پورٹ کی اہمیت پر بھی فرق پڑے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے یہ جگہ آئیڈیل ہوگی کہ طویل روٹ کی بجائے مختصر روٹ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جائے گا۔ اس اکنامک کوریڈور سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے غریب عوام غربت سے خوشحالی کی طرف آئیں گے اور اکنامک زونز سے سندھ اور پنجاب بھی ترقی و خوشحالی میں حصہ دار ہوں گے۔ دفاعی لحاظ سے بھی چین ،پاکستان تعاون میں وسعت آتی جارہی ہے۔ چین پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کو جدید اسلحہ، گولہ بارود اور سازوسامان دے رہا ہے، جبکہ پاکستان میں جے ایف تھنڈر 17طیارے چینی اور پاکستانی انجینئر مل کر تیار کررہے ہیں۔ 45ارب ڈالر کے اِن منصوبوں میں میٹرو اورنج لائن لاہور، شاہراہِ قراقرم کی اپ گریڈیشن، اسلام آباد ایف ایم 98دوستی چینل، ڈی ٹی ایم بی براڈ کاسٹنگ، اسمال ہائیڈرو پاور مشترکہ ریسرچ، پاک چین ثقافتی مرکز کا قیام، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا کی لاہور میں برانچ ، ایل این جی ٹرمینلز کے قیام سمیت متعدد منصوبے شامل ہیں۔ چینی صدر کی آمد پر اسلام آبادہی نہیں پورے ملک میں جشن کا سماں تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا فقیدالمثال استقبال غالباً سعودی فرمانبرواؤں کے سوا کسی اور ملک کے سربراہ کا نہیں ہوااور نہ ہی اتنی بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی۔ امریکہ نے جو اربوں ڈالر دیئے، کولیشن فنڈ میں دیئے، جبکہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا اپنا 100ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ چینی صدر دورے کے پہلے دِن پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملے، اگلے روز (21اپریل کو) انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اور پاکستان کو اپنا ’’آئرن برادر‘‘ کہا کہ ’’ضربِ عضب‘‘ اس خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگی اور پاکستان ایشین ٹائیگر بنے گا۔ صدر شی چن پنگ نے کہا کہ پاکستان ہمارا اقتصادی اور دفاعی سٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔ چینی صدر کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ سے نوازا گیا۔ واپسی پر بھی انہیں بالکل ویسے ہی اہتمام سے رخصت کیا گیا ، جس اہتمام کے ساتھ استقبال کیا گیا تھا ۔ جے ایف تھنڈر 17کے 8طیارے پاکستانی حدود تک رخصت کر کے آئے۔ چینی صدر کے دورے کے دوران بھارتی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا اور یوں محسوس ہوا جیسے پورے بھارت میں صفِ ماتم بچھی رہی ہو۔ بی بی سی اور سی این این سمیت تمام غیر ملکی میڈیا نے اس دورے کو بھرپور کوریج دی۔ اربوں ڈالر کے معاہدے ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کی صبح ہیں۔ عالمی معاشی تجزیہ کار بھی جناب شی چن پنگ کے دورے کو گیم چینجر قرار دے رہے ہیں۔ چینی صدر کے اس دورے سے دُنیا پر واضح ہوگیا کہ پاکستان کی فضا سرمایہ کاری کے لئے سازگار ہے جہاں دُنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس سے پوری دُنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج جائے گا اور غیر ملکی سرمایہ کار بڑی تعداد میں پاکستان آئیں گے۔ اس عظیم کامیابی کا سہرا یقیناًنواز حکومت کے سر سجتا ہے، لیکن اگر ہم آرمی چیف جناب جنرل راحیل شریف کی تعریف نہ کریں تو یہ بھی بخل ہوگا کہ اپنے حالیہ دورۂ بیجنگ میں انہوں نے چینی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ اب پاکستان میں سیکیورٹی کے کوئی سنگین مسائل نہیں۔ چینی صدر کے دورہ پر اسلام آباد کی سیکیورٹی بریگیڈIII کے پاس تھی۔ اقتصادی راہداری سے متعلق آئی ایس پی آر سے خبر آئی ہے کہ پاک چین اقتصادی منصوبے کے لئے چینی ورکرز کی سیکیورٹی کے لئے فوج کی 9بٹالینز اور سول آرمڈ فورسز کی 6ونگز مامور ہوں گی اور سیکیورٹی کی سربراہی میجر جنرل رینک کے افسر کریں گے۔ ’’پاک چین دوستی زندہ باد‘۔‘

مزید : کالم