جوڈیشل کمیشن کی انتخابی دھاندلی کیخلاف ثبوت جمع کروانے کی ڈیڈ لائن ختم

جوڈیشل کمیشن کی انتخابی دھاندلی کیخلاف ثبوت جمع کروانے کی ڈیڈ لائن ختم

  



 اسلام آباد (آن لائن) جوڈیشل کمیشن کی طرف سے انتخابی دھاندلی کے خلاف ثبوت جمع کروانے کی ڈیڈ لائن ختم ۔ مسلم لیگ (ن ) اور ایم کیو ایم نے جوابات جمع کروائے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے دھاندلی کے ثبوت جمع کروائے ۔ ق لیگ نے گواہوں کو پیش کرنے کی استدعا کی اور اے این پی نے دھمکیوں اور سیکیورٹی معاملات پر شکایات درج کروائیں ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن میں انتخابی دھاندلی کے الزامات پر جوابات اور ثبوت جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی اور اس حوالے سے چھٹی کے باوجود سپریم کورٹ آف پاکستان میں خاص گہماگہمی رہی ۔ ن لیگ نے خود پر لگائے گئے انتخابی دھاندلیوں کا جواب جمع کروایا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ تحریک انصاف کے الزامات میں قانونی طور پر جان نہیں ہے ان کی خواہش پر آرڈیننس منظور کیا گیا اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن تحریک انصاف کے پاس دھاندلی کے کوئی شواہد نہیں ہیں ۔ انہوں نے بے ضابطگی اور بدانتظامیوں کے ثبوت جمع کروائے ہیں ن لیگ کسی قسم کی منظم یا غیر منظم دھاندل میں شریک نہیں تھی تحریک انصاف کی طرف سے دھاندلی کے ثبوت اسحاق خاکوانی نے جمع کروائے جس میں 43 قومی اسمبلی کی نشستوں جبکہ 35 صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر دھاندل کے شواہد دیئے گئے ۔ متحدہ کے رہنما فروغ نسیم نے جوڈیشل کمیشن سے گزارش کی ہے کہ متحدہ پر لگائے گئے الزامات متحدہ کو بتائے جائیں تاکہ ان کا جواب دیا جا سکے تاحال متحدہ کی طرف سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا ق لیگ کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے جوڈیشل کمیشن سے استدعا کی ہے کہ 32 لوگوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے جن میں 25 مسلم لیگ ق کے ہارے ہوئے امیدواران ہیں جبکہ ان کے علاوہ سابق چیف الیکشن کمیشں پاکستان فخرو الدین جی ابراہیم ، جسٹس حامد علی مرزا ، سابق و موجودہ سیکرٹریز الیکشن کمیشن آف پاکستان ، رجسٹرار سپریم کورٹ پاکستان ، رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ اور FAEEN کے ہیڈ آف پروگرام مدثر رضوی کو پیش کرنے کی استدعا کی ۔ اے این پی کی سینیٹر بشری گوہر نے انتخابات سے قبل ملنے والی طالبان دھمکیوں کے خلاف ایف آئی آر اور خطوط اور خفیہ اداروں کی رپورٹس پر تحفظات جمع کروائے ۔ خاص بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف کوئی ثبوت جمع نہ کروایا جوڈیشل کمیشن

مزید : علاقائی


loading...