پاکستان پبلیکیشن لاء رولز اور پاکستان لاء سیل کی قانونی حیثیت لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

پاکستان پبلیکیشن لاء رولز اور پاکستان لاء سیل کی قانونی حیثیت لاہور ...

  



 لاہور(نامہ نگار خصوصی )وفاقی حکومت کی جانب سے قانونی کتب کی اشاعت کے لئے بنائے گئے پاکستان پبلیکیشن آف لاء رولز اور پاکستان لاء سیل کی قانونی حیثیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ۔یہ درخواست سعدرسول ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان پبلیکیشن آف لاء رولز اور پاکستان لاء سیل تشکیل دیا ہے کہ جس کے تحت قانونی کتب شائع کرنے والے تمام پرائیویٹ پبلشرز کو پاکستان لاء سیل سے پبلشر کمپنی کو ایک لاکھ روپے میں رجسٹرڈ کرانے کی پابندی عائد کی گئی ہے اور سالانہ 25ہزار روپے فیس بھی ادا کرنے کا پابند کیا گیا ہے، درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان پبلیکیشن آف لاء رولز میں قانونی کتب کے پبلشرز کو اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ کسی بھی قانونی کتاب کی اشاعت سے قبل پاکستان لاء سیل سے نظر ثانی کے لئے بھجوایا جائے اور پاکستان لاء سیل اس کتاب کے ریویو کے عوض ایک روپیہ فی لفظ وصول کرے گا، دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی کتب کی اشاعت کے لئے فیس وصول کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تا ہم وفاقی حکومت کے اس اقدام سے سائلین، قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا ء اور وکلاء متاثر ہوں گے اور سائلین کے لئے انصاف کا حصول مزید مہنگا ہو جائے گا جبکہ قانون کی کتب بھی مہنگی ہو جائیں گے، وفاقی حکومت کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 2(اے) 4،5،8اور10(اے )اور144کے تحت بنیادی ، برابری ، تحفظ اور آزادی تجارت حقوق کی خلاف ورزی ہے تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے پاکستان پبلیکیشن آف لاء رولز اور پاکستان لاء سیل اور نوٹیفیکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے ۔ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

مزید : علاقائی