پشاور سے مکہ تک

پشاور سے مکہ تک
پشاور سے مکہ تک

  



مجھے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز یعنی سی پی این ای یعنی انجمن مدیرانِ جرائد کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے دوسرا سال ہونے کو ہے۔ ڈاکٹر عبدالجبار خٹک اس کے سیکرٹری جنرل ہیں اور (خواتین ڈائجسٹ کے) عامر محمود سیکرٹری خارجہ۔ اس انجمن نے تاریخ میں پہلی بار یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر میڈیا ورکشاپس کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ کوئٹہ اور کراچی کے بعد پشاور کا رُخ کیا گیا، موضوع18ویں ترمیم کے نتیجے میں ملنے والی صوبائی خود مختاری اور مقامی حکومتوں تک اختیارات کی تقسیم تھا۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اس میں خصوصی دلچسپی لی اور ہماری تنظیم کا ڈھانچہ پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے قائم کئے گئے انڈومنٹ فنڈ کو گراں قدر عطیے سے نوازا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف سے تبادلۂ خیال کے لئے اُن کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تو سی پی این ای کے ارکان مُلک بھر سے لاہور میں جمع ہوئے، وزیراعظم کے گزشتہ دو سالہ اقتدار میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد تقریب تھی۔ مدیران اخبارات سے اس طرح کی ملاقات اس سے پہلے ممکن نہیں ہوئی تھی۔ اِسی ملاقات میں وزیراعظم نے انڈومنٹ فنڈ کے لئے پانچ کروڑ روپے مرحمت فرمانے کا اعلان کیا اور اسلام آباد میں سی پی این ای کے مرکزی دفتر کے قیام کے لئے زمین کے حصول کو ممکن بنانے کا حکم بھی جاری کیا۔ یہ دونوں احکامات ابھی ’’شرمندۂ تعبیر‘‘ نہیں ہوئے، لیکن مصدقہ اطلاعات کے مطابق فائلیں گردش کر رہی ہیں۔ پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین بار بار اِس کا یقین دِلا چکے ہیں اور وزیر اطلاعات برادرم پرویز رشید نے بھی اس کی توثیق میں کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا۔

سی پی این ای کی تیسری ورکشاپ کا آغاز24اپریل کو پشاور میں ہوا تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک مہمان خصوصی تھے۔ وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے بھی اس اجتماع کو رونق بخشی اور مختصراً خطاب فرمایا۔ وزیراعلیٰ کی تقریر مفصل تھی۔ انہوں نے اٹھارہویں ترمیم پر عمل درآمد کے حوالے سے جہاں اپنی کوششوں کا ذکر کیا، وہاں اپنی حکومت کی کارکردگی پر بھی خوب اچھی طرح روشنی ڈالی۔ اپنا سر فخر سے اونچا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اُن کی حکومت کی طرف سے دیئے جانے والے کسی اخباری اشتہار میں وزیراعلیٰ یا کسی دوسرے وزیر کی تصویر نہیں چھاپی جا سکتی کہ ہم سرکاری وسائل سے اپنی ذاتی تشہیر کا سامان نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے بار بار یہ بات دہرائی کہ اُن کی حکومت کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرنا تو درکنار لگایا بھی نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مخالفوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، ان کا ایک ایک دن ان کی نظروں کے سامنے ہے۔ انہوں نے جس طرح وسائل کو لوٹا اور قومی خزانے سے اپنے ہاتھ رنگے، وہ کوئی راز نہیں ہے۔ ہمارے ہاتھ صاف ہیں، ہم خدمت کے لئے آئے ہیں۔ اپنے انتخابی منشور کے ایک ایک لفظ پر عمل کر کے رہیں گے۔ ہمارے مخالف جنگلات کو صاف کرتے اور ان سے مال بناتے رہے، ہم نے ایک ارب نئے درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے انتظامات مکمل کر رہے ہیں۔ انشا اللہ ہم اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر رہیں گے۔ سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت درست کی جارہی ہے۔ سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی، تاکہ غریب کا بچہ امیر کے بچوں کا مقابلہ کر سکے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بھی کسی پولیس اہلکار کا تبادلہ نہ کراتاہے، نہ کرا سکتا ہے۔ پرویز خٹک کا دعویٰ تھا کہ ہم نے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لئے قانون سازی مکمل کرلی ہے۔ ہمارے قانون کے مقابلے کاقانون کوئی صوبہ پیش نہیں کر سکتا۔ ہم ترقیاتی اخراجات کا 30فیصد مقامی حکومتوں کے لئے مختص کریں گے۔ ہم نے اطلاعات تک رسائی کا حق لوگوں کو دینے کے لئے قانون بنا دیا ہے۔ سرکاری اہلکاروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لئے بھی قانون سازی کردی گئی ہے۔ اگر کوئی سرکاری اہلکار ایک مقررہ وقت میں کام نہیں کرتا تو اسے اس کے لئے جوابدہ ہونا پڑتا ہے، اس کا اداراتی اہتمام کر دیا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور شہر سے تجاوزات ختم کر دیئے گئے ہیں اور1930ء کے نقشے کے مطابق بازار بحال ہو چکے ہیں۔ ہم سے پہلے کوئی مائی کا لال پشاور شہر کا اصلی ناک نقشہ بحال کرنے کے لئے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکا تھا۔

وزیراعلیٰ خٹک کی تقریر کا ایک ایک لفظ دِل سے نکل کر دِلوں تک پہنچ رہا تھا اور مُلک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے سی پی این ای کے ارکان حیرت سے اپنے پختونخواہی ساتھیوں کو دیکھ رہے تھے۔ تفصیل طلب کررہے تھے یا یہ کہئے کہ توثیق کا مطالبہ کررہے تھے۔ تالیوں کی گونج میں پرویز خٹک صاحب نے دِل کا غبار نکالا۔ ان سے درخواست کی گئی تھی کہ ایک باوسیلہ صوبہ ہونے کے ناتے اگر وہ سی پی این ای سے تعاون فرمائیں گے تو اسے بصد مسرت قبول کیا جائے گا۔ انہوں نے انڈومنٹ فنڈ کے لئے دو کروڑ روپے کا عطیہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے دِلوں میں مزید جگہ بنا لی۔

پشاور میں ورکشاپ جاری تھی،لیکن مجھے لاہور میں دو انتہائی قریبی عزیزوں کی شادی اور نکاح کی تقریبات میں شریک ہونا تھا۔ امامِ کعبہ خالد الغامدی بھی لاہور میں اپنی شخصیت کی روشنی لئے موجود تھے، ان کی امامت میں نماز ادا کرنے کا شوق بھی پورا کرنا تھا۔ اس لئے ایک روزہ قیام میں اضافہ ممکن نہ تھا۔خالد الغامدی بیت اللہ میں (عام طور پر) جہری نمازوں کی امامت فرماتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کی جامع مسجد میں انہوں نے نماز جمعہ کی امامت کی تو ہفتہ کو فجر کی نماز منصورہ میں ادا کی۔ظہر کی امامت جامعہ اشرفیہ کے حصے میں آئی۔ ہزاروں کیا لاکھوں افراد اُن کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ سعودی عرب سے محبت کا خصوصی پیغام انہوں نے اس انداز سے اہلِ پاکستان کو پہنچایا ہے کہ ہر طرف ’’زندہ باد‘‘ کے نعرے گونج رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب اور پاکستان ایک ہیں۔ مَیں سعودی ہوں، لیکن پاکستانی بھی ہوں کہ ہمارا کلمہ ایک اور جینا مرنا ایک ہے جواباً پاکستانی اپنے آپ کو سعودی سمجھ کر نعرہ زن ہو جاتے ہیں۔ آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔

(یہ کالم روزنامہ ’’دُنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم