عمران خان نے انٹراپارٹی الیکشن ٹریبونل تحلیل کردیا،چیئرمین کا حکم مسترد، ٹربیونل کل انتخابی دھاندلیوں کی سماعت کرے گا، جسٹس وجیہہ

عمران خان نے انٹراپارٹی الیکشن ٹریبونل تحلیل کردیا،چیئرمین کا حکم مسترد، ...
عمران خان نے انٹراپارٹی الیکشن ٹریبونل تحلیل کردیا،چیئرمین کا حکم مسترد، ٹربیونل کل انتخابی دھاندلیوں کی سماعت کرے گا، جسٹس وجیہہ

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لئے بنایا گیا الیکشن ٹربیونل تحلیل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایک نوٹیفیکیشن میں عمران خان نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے دوران بعض بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لئے 12 اکتوبر 2013ء کو جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کی سربراہی میں الیکشن ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس نے 17 اکتوبر 2014ء کو اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے لہٰذا اس کے بعد ٹربیونل خود ہی کالعدم ہو گیا ہے اور اس کے ارکان کے پاس کوئی اختیارات نہیں رہے کیونکہ یہ ٹربیونل ایک خاص مقصد کے لئے قائم کیا گیا تھا۔دوسری جانب جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کی سربراہی میں قائم الیکشن ٹریبونل نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی طرف سے ٹریبونل کو معطل کرنے کا حکم مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پارٹی کے اندر انتخابی دھاندلیوں کے بارے میں تحقیق کرنے والا ٹریبونل بدستور اپنا کام جاری رکھے گا اور 27 اپریل کو معمول کے مطابق شکایت کی سماعت کرے گا۔ ہفتہ کو ٹربیونل کی جانب سے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جس میں پارٹی چیئرمین کی جانب سے جسٹس وجیہہ ٹربیونل کا کالعدم قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا اور پرویز مشرف سمیت ماضی کے آمروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جس طرح آمروں نے پاکستان میں عدلیہ اور ججوں کو ان کے کام سے روکنے کے لئے ہتھکنڈے استعمال کئے.

اسی طرح تحریک انصاف کے اندر شکایات کیت حقیقات کے لئے ٹربیونل کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔ فیصلہ میں انکشاف کیا گیا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ ٹربیونل یا تو خود اسلام آباد آئے اور ’’ان (عمران خان) کے دروازے پر انہیں انصاف مہیا کرے یا پھر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ان کا بیان لے لیا جائے لیکن ٹربیونل نے ایسا کرنے سے انکار کردیا‘‘۔

تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ ٹربیونل نے عمران خان سے پرائیویٹ میٹنگ کرنے سے انکار کردیا کیونکہ عمران خان مقررہ تاریخ پر ٹربیونل کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ بعد ازاں کراچی دورہ کے موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی عوامی سماعت ہضم نہ کرسکے۔

عمران خان کی جانب سے الیکشن ٹربیونل کو ختم کرنے کے حوالہ سے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے فیصلہ میں تحریر کیا کہ عدالتی اقدار و ضابطہ کے مطابق زیر سماعت معاملہ کو انتظامی اقدام سے ختم نہیں کیا جاسکتا جبکہ ایک جج یا جج صاحبان اس معاملہ کی سماعت کررہے ہوں اور موجودہ ٹربیونل ابھی اس معاملہ کی سماعت کررہا ہے اور اس کے ایجنڈا پر موجود امور ابھی زیر سماعت ہیں۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ آئندہ حکومت ہے۔

یہ نئے پاکستان میں یقین رکھتی ہے لیکن اس کا طرز عمل پرانے پاکستان کی طرح کا ہے۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ پرویز مشرف نے عدلیہ کو اس روز گھر بھجوایا جس دن بھارت میں یوم جمہوریہ منایا جارہا تھا جبکہ عمران خان نے پارٹی الیکشن ٹربیونل وکا س روز گھر بھجوانے کی کوشش کی جس دن تحریک انصاف کا یوم تاسیس ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن ٹربیونل معمول کے مطابق کل 27 اپریل کو سہ پہر تین بجے گبول ہاؤس کراچی میں انتخابی دھاندلیوں کی سماعت کرے گا۔

مزید : اسلام آباد


loading...