تیل کے کنووں کی کھدائی زلزلوں کا سبب بن رہی ہے، امریکی ماہرین

تیل کے کنووں کی کھدائی زلزلوں کا سبب بن رہی ہے، امریکی ماہرین
تیل کے کنووں کی کھدائی زلزلوں کا سبب بن رہی ہے، امریکی ماہرین

  



واشنگٹن (اے پی پی) ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈرالک فریکچرنگ نامی آئل ڈرلنگ کی نئی لیکن متنازع تکنیک کا بڑھتا ہوا استعمال طور خاص زلزلوں میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔ امریکی ماہرین ارضیات نے اپنی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں آنے والے چھوٹے زلزلوں کی ایک بڑی وجہ خام تیل اور گیس کے لئے کی جانے والی کھدائی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں تیل اور گیس کے لئے پتھریلے اور چٹانی علاقوں میں کی جانے والی کھدائی کا دنیا کے ان علاقوں میں آنے والے زلزلوں سے براہ راست تعلق ہونے کا انکشاف ہوا ہے جہاں زمین کی پرتوں کی نقل و حرکت زیادہ نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈرالک فریکچرنگ نامی ڈرلنگ کی نئی لیکن متنازع تکنیک کا بڑھتا ہوا استعمال بطور خاص زلزلوں میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔

اس تکنیک کے تحت پانی، ریت اور کیمیائی اجزا کے ملاپ کو بہت طاقت سے زمین کی اندرونی تہہ میں داخل کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں زیر زمین چٹانیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں اور ان کے اندر موجود تیل اور گیس باہر آجاتے ہیں۔ برطانوی ارضیاتیا دارے سے منسلک ماہر راجر موسن نے بتایا ہے کہ ان زیر زمین چٹانوں کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں زمین کی پرتیں اپنی جگہیں تبدیل کرتی ہیں جس کے باعث کم اور درمیانی درجے کے زلزلے جنم لیتے ہیں۔ امریکہ میں تیل اور گیس نکالنے کے لئے مذکورہ تکنیک کے استعمال میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس پر ماہرین ماحولیات و ارضیات تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔

جعمرات کو امریکی ارضیاتی سروے کی جانب سے کی جانے والی مذکورہ رپورٹ میں امریکہ کی آٹھ مختلف ریاستوں کے 17ایسے مقامات کا تجزیہ کیا گیا ہے جنہیں ماہرین اور حکام نے حال ہی میں زلزلوں کے خدشے کا شکار قرار دیا ہے۔ تاریخی طور پر امریکہ کی مغربی ساحل پٹی زیر زمین پلیٹوں کے نقل و حرکت کے باعث زلزلوں کا نشانہ بنتی رہی ہے لیکن یہ نئے مقامات وسطی اور مشرقی امریکہ میں ہیں جہاں گزشتہ چند برسوں سے تواتر کے ساتھ زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زلزلوں کا نشانہ بننے والے یہ تمام مقامات یا تو تیل اور گیس کے ان کنوؤں کے نزدیک ہیں جہاں فریکچرنگ کا طریقہ استعمال کیا جارہا ہے یا ان کے قریب ایسی صنعتیں قائم ہیں جو زیر زمین پرتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیر زمین تبدیلیوں اور ان کے سبب آنے والے زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر وسطی ریاست اوکلاہوما ہوئی ہے جہاں 2008ء سے قبل تک سال میں صرف ایک یا دو ایسے زلزلے آتے تھے جن کی ریکٹر سکیل پر شدت تین یا اس سے زیادہ ہوتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اب ریاست میں روزانہ زلزلے ایک یا دو ایسے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں جن کی شدت ریکٹر سکیل پر تین سے زیادہ ہوتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...