ایپل کے لوگو میں ’کھایا ہوا ‘ سیب کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ وجہ سامنے آ گئی

ایپل کے لوگو میں ’کھایا ہوا ‘ سیب کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ وجہ سامنے آ گئی
ایپل کے لوگو میں ’کھایا ہوا ‘ سیب کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ وجہ سامنے آ گئی

  



نیویارک(نیوز ڈیسک) ہر بڑی کمپنی اپنی پہچان کے طور پر ایک لوگو(کمپنی کا نشان یا علامت) استعمال کرتی ہے لیکن امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے لوگو کو جو مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی اس کا کوئی ثانی نہیں۔

چینی کمپنی نے ایپل کے خلاف بڑا دعویٰ کر دیا

یہ لوگو ایک سادہ سی تصویر ہے جس میں ایک سیب دکھایا گیا ہے جس کے ایک طرف کاٹنے کا نشان ہے گویا کہ ابھی کسی نے ایک لقمہ لیا ہے۔

گزشتہ 30 سالوں سے لوگ اس نشان کے بارے میں مختلف نظریات پیش کرتے رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ یہ کمپیوٹر سائنس کی اصطلاح بائٹ(Byte) کو ظاہر کرتا ہے تو کسی کا خیال تھا کہ یہ جنت کے پھل سیب کو پہلی دفعہ کھائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے نیوٹن کے سر پر گرنے والے سیب سے بھی جوڑا۔ بالآخر اس شہرہ آفاق لوگو کے خالق جان رینیف سے ہی پوچھا گیا کہ انہوں نے سیب میں کٹ کیوں لگایا؟

جان کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی بھی پیچیدہ کہانی نہیں ہے بلکہ انہوں نے یہ نشان اس لئے لگایا تھا کہ لوگو اسے چیری کا پھل نہ سمجھ لیں اور چونکہ دنیا بھر کے لوگ سیب کو براہ راست دانت گاڑھ کر کھانا جانتے ہیں اس لئے تصویر سے واضح ہو گیا کہ یہ سیب ہی ہے۔ آج یہ دنیا کا مقبول ترین لوگو ہے اور کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے لے کر گاڑیوں تک پر نظر آتا ہے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی


loading...