فحش فلموں کے خوفناک اثرات، سائنسدانوں نے نئی بیماری دریافت کر لی

فحش فلموں کے خوفناک اثرات، سائنسدانوں نے نئی بیماری دریافت کر لی
فحش فلموں کے خوفناک اثرات، سائنسدانوں نے نئی بیماری دریافت کر لی

  



بیجنگ ( نیوز ڈیسک ) فحش فلموں کے انسانی جسم اور ذہن پر منفی اثرات کا تذکرہ ہم اکثر سنتے ہیں لیکن کسی کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ ناسور ایک نئی ذہنی بیماری کو جنم دے سکتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حال ہی میں سائنسدانوں اور نفسیات دانوں نے ذہنی بیماریوں کی فہرست میں ایک نئے نام کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ فحش فلموں اور دیگر ایسے ہی مواد کو قرار دیا گیا ہے۔

اس بیماری کا نام " پورن ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر " رکھا گیا ہے اور یہ خصوصی طور پر ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو نوعمری سے ہی فحش مواد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔دماغ کے اس عارضے کا انکشاف اس وقت ہوا جب چین کے ایک ہسپتال میں ایک 16 سالہ لڑکے کو لایا گیا جو خود کشی کرنے پر تلا ہوا تھا۔نفسیات دانوں نے اس کے تفصیلی تجزیے کے بعد معلوم کیا کہ یہ بچپن میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک کمرے کے فلیٹ میں رہتا تھا اور اس کا باپ اکثر رات کے وقت کمرے میں فحش فلمیں دیکھتا تھا۔

لڑکے نے انکشاف کیا کہ جب ایک دفعہ اس نے اپنے باپ کو اس کام سے منع کرنے کی کوشش کی تو اس کی شدید پٹائی کی گئی۔اس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ ساری عمر اس کے ذہن سے فحش مناظر نہیں نکل سکے اور اس کی پڑھائی شدید متاثر ہونے کے بعد اسے سکول سے بھی نکال دیا گیا۔

شرمناک مناظر بار بار اسے احساس گناہ میں مبتلا کر تے رہے اور بالآخر اس نے خودکشی کا ارادہ کر لیا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ دماغی مرض کسی بھی عمر کے لوگوں کو لاحق ہو سکتا ہے لیکن بچے خاص طور پر اس سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...