میں زمین ہوں زمین! سوچتا کیوں نہیں؟

میں زمین ہوں زمین! سوچتا کیوں نہیں؟
میں زمین ہوں زمین! سوچتا کیوں نہیں؟

  

اس سال 22اپریل2016 ؁کودنیا بھر کی طرح پاکستان اور بالخصوص صوبہ پنجاب میں ریسکیو 1122دیگر ضلعی محکموں کی معاونت سے 46واں یومِ ارض منایا گیا۔اس تحریک کا بانی امریکی سینیٹر گیلارڈ نیلسن تھا جس نے 22اپریل 1970 ؁کو امریکہ میں پہلی مرتبہ تقریباََ 20لاکھ لوگ ، 2000 کالجز/یونیورسٹی ،10ہزار گرائمر /ہائی سکول اور 1000کمیونیٹیز کو ماحولیاتی مسائل اور انسان کی وجہ سے ماحول کو درپیش خطرات کی نشاندہی اور تدارک کیلئے اکٹھاکیا۔کانگرس کے اجلاس کو ملتوی کر دیا گیاتاکہ ممبران اپنے متعلقہ اضلاع میں اس دن کی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔ گویا 22اپریل ماحولیات سے متعلق اس منظم اور جدید تحریک کا یومِ پیدائش بھی ہے۔1990 ؁میں 141 ممالک میں تقریباََ 2ارب لوگوں نے ماحولیاتی مسائل کو اُجاگر کرنے کیلئے مہم چلائی۔1995 ؁میں سینیٹر گیلارڈ نیلسن کو یومِ ارض تحریک کے بانی کے طور پو امریکا کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا گیا۔2009 ؁میں اقوامِ متحدہ نے 22اپریل کو Mother Earth Day کے نام سے منسوب کیا۔اب ہر سال 22اپریل کو یہ دن دنیا کے 175ممالک میں باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔پاکستان میں حکومتی سطح پر باقاعدہ طور پر اس کا آغاز 22 اپریل 2012 ؁میں ہوا جب پہلی مرتبہ ریسکیو 1122نے پنجاب کے تمام اضلاع میں انتہائی منظم اور مربوط طریقہ سے (ریسکیو دی مدر ارتھ Rescue The Mother Earth)کے نعرہ کے ساتھ اس دن کو منانے کا آغاز کیا اوراب ہر سال باقاعدگی سے صوبہ بھر میں 22اپریل کو اس دن کو منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تا کہ زمین کے باسیوں کو زمیں کو درپیش مسائل اور خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔

یوم ارض کا پرچم پہلی مرتبہ 1969 ؁میں رون کوبس (Ron Cobb's)نے ڈیزائن کیا اور نومبر 1970 ؁کو لاس اینجلس میں شائع ہوا یہ جھنڈا سبز اور سفید 13لمبی پٹیوں پر مشتمل ہے۔پرچم کے ایک کنارے میں سبز رنگ کے مربع پر پیلے رنگ کا Theta کا نشان ہے جو ماحولیات کو ظاہر کرتا ہے۔یہ نشان دراصل دو حروف "E"اور "O"کا مجموعہ ہے ۔E سے Environmentیعنی ماحول اور Oسے Organization یعنی تنظیم ہے۔بعد میں اس نشان کو یومِ ارض Earth Day سے منسوب کر دیا گیا۔

زمین کی پکار ۔آ مجھے سنوار

مان لیا کہ زندگی بہت مصروف ہے وقت کے پہیہ کی گردش سے زمین تو کیا ہمارے اپنے خدوخال بھی گہنا گئے ہیں ۔مگر ابھی بھی اس اُلجھی ہوئی گُتھی کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں ہے۔آئیے ہم سب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے زمین کی پکار کو سنیں ۔یہ زمین ،یہ مٹی،یہ کھیت،یہ کھلیان اسکی ہریالی اور شادابی،اونچے پہاڑ،گھنے جنگل،بہتے دریا،جھرنے،آبشاریں،جنگلی حیات سب ہمارے لئے ہیں ہمیں دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ ہم اس زمین کی خوبصورتی ،شادابی،ہریالی،اس میں بسنے والی مخلوقات کی حیات اور بقا ء کے تحفظ کیلئے کیا کر رہے ہیں؟یہ زمین ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ! میں زمین ہوں زمین سوچتا کیوں نہیں؟

اُس نے مجھ سے کہا !مجھ سے نفرت نہ کر

کتنی صدیوں سے بنجر ہیں آنکھیں میری

مجھ کو شاداب رکھ ،میری جلتی ہوئی راکھ ہوتی ہوئی

میری پلکوں میں تاریکیاں بھر گئیں

زرد تنہائی کے تن پہ برفاب رکھ

ہرنیاں ڈر گئیں ،تتلیاں مر گئیں

اُس نے مجھ سے کہا،مجھ پہ حیرت نہ کر

اُس نے مجھ سے کہا ! مجھ سے نفرت نہ کر

میرے بگڑے ہوئے خدوخال پر نہ جا

تجھ سے مُمکن ہو گر،مجھ کو شاداب رکھ

میرے چہرے پہ پٹرول کے داغ ہیں

مجھ کو پہچان۔تیری ضرورت ہوں میں

میرے دامن پہ چھینٹے ہیں کیچڑ میں لَت پَت لہو کے بہت

زندگی کی طرح خوبصورت ہوں

میری سانسوں میں بارود کا دیو قامت دُھواں بھر گیا

مجھ کو بنتی بگڑتی ہوئی موت کی وحشتوں سے بچا

میرے سینے میں لاوے کی صورت پگھلتی مشینوں کے بلغم کی بُو ہے بہت

میں زمیں ہوں۔۔۔۔ زمیں!

میرے کھیتوں کی ہریالیاں نوچ کر ،وحشیوں نے کمیں گاہیں تعمیر کیں

سوچتا کیوں نہیں؟ سوچتا کیوں نہیں؟

میرے خوابوں کے چہرے پہ خونیں خراشیں ہیں تعبیر کی۔

میری آغوش میں اب مسیحا نہیں ،قاتلوں کے قبیلے کی میراث ہے

(محسن نقوی)

یہ زمین کی پکار ہے۔ ہماری اس دھرتی ماں کی پکار جس کی آغوش میں ہم سب نے پرورش پائی ۔توکیا اس پکار کو سننے کے بعد بھی ہم اپنی دھرتی ماں کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کریں گے؟آئیے اپنے حصے کا ایک پھول اُگائیں اور اس سر زمین کو معطر کرنے کا آغاز کریں،ایک درخت لگائیں اور اس کی ہریالی میں اضافے کا سبب بنیں۔ایک کچرے کے ڈھیر کو سر سبز باغ میں تبدیل کردیں۔ایک گندے پانی کے جوہڑ کو کھیل کا میدان بنا ڈالیں۔اس زمیں کے مہذب باسی اور اس دھرتی کا سپوت ہونے کے ناطے ہمارا ہر عمل زمین کو آلودگی سے پاک کرنے ،قدرتی ماحول کی بقا ء،خوبصورتی ،شادابی، ہریالی، صفائی اور اس پر بسنے والی تمام مخلوقات کے بقاء اور تحفظ کیلئے انتہائی اہم ہے۔شعور اور آگہی کی اس مہم میں ہم سب کو اپنی دھرتی ماں کی بقاء اور تحفظ کے اس مشن کا حصہ بننا ہو گا۔زمین ہماری ماں ہمیں پکار رہی ہے آئیں اسکی آواز پر لبیک کہیں اور اسکے تحفظ اور بقاء کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور آج سے ہی یہ عہد کریں کہ:

*اپنے گھر /دفتر/دوکان/فیکٹری کی تمام فالتو /غیر ضروری بتیاں اور برقی آلات بند رکھیں گے۔

*کام ختم کرنے کے بعد ،یا کمرے /دفتر /دوکان سے باہر نکلنے کی صورت میں فوراََ تمام لائٹس اور برقی آلات بند کر دیں گے۔

*رات سونے سے پہلے تمام فالتو بتیاں اوربرقی آلات بند کو دیں گے۔

*شیونگ /ٹوتھ بُرش یا وضو کرنے کے بعد پانی کا نل کھلا نہیں چھوڑیں گے۔

*برتن /کپڑے /دھونے یا نہانے کے دوران پانی کے ضیاع سے اجتناب کریں گے۔

*روزمرہ کے سودا سلف کی خریداری کیلئے ہمیشہ کپڑے کا تھیلا استعمال کریں گے اور پولی تھین کے شاپنگ بیگ ہر گز استعمال نہیں کریں گے۔

*کوڑا کرکٹ گلی، سڑک یا راہ گزر میں ہر گز نہیں پھینکیں گے ہمیشہ کوڑا دان استعمال کریں گے اور جلانے سے اجتناب کریں گے۔

*کھانے پینے کی اشیاہ کے کالی ڈبے /پیکنگ اور پھلوں کے چھلکے سر راہ نہیں پھینکیں گے۔

*اپنے گھر /گلی/دفتر /محلے /فیکٹری اور اس سے ملحقہ قطعہ اراضی کو بھی صاف رکھیں گے،کچرے کا ڈھیر نہیں بنائیں گے،اور گردو نواح میں موجود خالی قطعہ اراضی پر پودے اور گھاس لگا کر مٹی اور گردوغبار سے محفوظ کریں گے۔

*اپنے گھر /دفتر /دوکان /فیکٹری سے ملحقہ کسی بھی جگہ پر ہر سال شجر کاری کے موقع پر ایک درخت لگا کر اسکی نگہداشت کریں گے۔

*اپنی گاڑی /موٹر سائیکل کے انجن کو ٹھیک حالت میں رکھیں گے تا کہ فضائی آلودگی کا سبب نہ بنے۔

*اپنی گاڑی /موٹر سائیکل میں پریشر ہارن نہیں لگائیں گے اور ہارن کا غیر ضروری استعمال کر کے شور کی آلودگی کا سبب نہیں بنیں گے۔

* دفتر /دوکان /پبلک مقامات پر ہر گز سگریٹ نوشی نہیں کریں گے۔

*سڑک /گلی/راہ گزر ،دفتر کے فرش یا دیواروں پر تھوک اور پان کی پیک نہیں پھینکیں گے۔

*اپنے گھر کی پرانی ،فالتو اشیاء (کپڑے ،کتابیں اور کھلونے وغیرہ)کچرے میں نہیں پھینکیں گے بلکہ دوسرے ضرورت مندلوگوں کو دے دیں گے۔

*ہم آج کے بعد ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جو زمین کے قدرتی حسن،صفائی ،فطری ماحول اور حیات کی بقاء اور تحفظ کیلئے نقصان دہ ہو اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں گے۔اللہ ہم سب کو اس عہد پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

مزید :

کالم -