محمد شہباز شریف سیاست اور خدمت

محمد شہباز شریف سیاست اور خدمت
محمد شہباز شریف سیاست اور خدمت

  

پورے ملک میں خادم اعلیٰ کے نام سے شہرت پانے والے محمد شہباز شریف نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب منصب سنبھالنے کے بعد پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو وزیراعلیٰ نہیں بلکہ خادم تصور کرتے ہیں ۔گزشتہ تقریباً ساڑھے سات سالہ اقتدار میں عملی اقدامات کی بناء پر انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ وزیراعلیٰ نہیں بلکہ واقعی خادم اعلیٰ ہیں۔ اقتدار میں عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے جو انقلابی اقدامات انہوں نے اٹھائے ہیں وہ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے لئے قابل تقلید ہے کیونکہ صوبہ خیبرپی کے،سندھ ،بلوچستان ،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور فاٹا سے بھی صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمیں بھی ایک خادم پنجاب محمد شہباز شریف چاہیے ۔محمد شہباز شریف اپنی پوری تنخواہ ہسپتالوں کو عطیہ کرتے ہیں اور مصروفیت کے لئے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر کا کرایہ بھی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں ۔محمد شہباز شریف کا کوئی غیر ملکی دورہ ایسا نہیں جو خزانے پر بوجھ ہو ۔ہمسایہ ملک چین ،ایران ،جرمنی،لندن،ترکی کے جتنے بھی دورے کئے ہیں خود اور وزرا نے بھی اپنا خرچ برداشت کیا ہے ۔بیرون ممالک اپنے علاج معالجے کا استحقاق حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے سرکاری خزانے سے رقم نہیں لی اور اپنی جیب سے اخراجات برداشت کئے حتیٰ کہ بیرون ممالک دوروں کے فیملی کے اخراجات بھی خود ادا کرتے ہیں ۔ملکی تاریخ میں کسی حکمران نے بیرونی دورے اپنی جیب سے برداشت نہیں کئے بلکہ قومی خزانے سے رقوم خرچ کیں۔ پانامہ لیکس میں ان کے نام کوئی آف شور کمپنی نہیں اور نہ ہی ان کے بیٹوں کے نام پر کوئی اکاؤنٹس ہیں ۔کرپشن کے خلاف جہاد کرتے ہیں ۔قومی خزانے کی ایک ایک پائی قوم کی امانت سمجھتے ہیں اور اپنی ذات سے متعلق یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر ان پر کرپشن ثابت ہو جائے تو مرنے کے بعد ان کی لاش کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔

راقم الحروف نے اپنی زندگی میں ایسا سیاستدان نہیں دیکھا جس پر اگر مرنے کے بعد بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو اپنی لاش کو پھانسی دینے کی بات کرے ۔پنجاب کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد شہباز شریف جیسا حکمران نصیب ہوا ہے ۔محمد شہباز شریف میں عوام کی خدمت کا اس حد تک جنون پایا جاتا ہے کہ ناساز طبیعت اور ڈاکٹروں اور اپنے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے منع کرنے کے باوجود بھی عوام کی مشکلات اور مسائل کے حل کیلئے رات کے ایک بجے تک کام کرتے ہیں صبح پانچ بجے اٹھ کر مختلف جاری ترقیاتی سکیموں کا دورہ کرتے ہیں ۔تھانوں اور ہسپتالوں کا بھی اچانک معائنہ کرتے ہیں ۔محمد شہباز اپنی محنت ،لگن ،ذمہ داری اور جانفشانی سے کام کرنے کی بین الاقوامی سطح پر بھی خاص شہرت رکھتے ہیں ۔محمد شہباز شریف سیاست کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں ۔غریب کی غربت کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی دادرسی اور دلجوئی کرتے ہیں ۔مظلوموں کی فریاد سنتے ہیں اور ظالم کا ہاتھ روکتے ہیں ۔یتیموں اور بیواؤں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں ۔عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔میرٹ ،دیانتداری،ایمانداری اور گڈ گورننس پر یقین رکھتے ہیں ۔بیس بیس گھنٹے کام کرتے ہیں ۔نہ دن کی دھوپ دیکھتے ہیں اور نہ ہی رات کی نیند کو دیکھتے ہیں ۔جہا ں بھی ظلم ہو فوراً وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔خادم بننے پر فخر کرتے ہیں ۔محمد شہباز شریف نے ساڑھے سات سالہ دور اقتدار میں جو انقلابی کام کئے ہیں ان کی مثال ملک کی 68سالہ تاریخ میں نہیں ملتی ۔ناخواندگی کے خاتمے اور غریب شہریوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے دانش ماڈل سکول قائم کئے جن کا معیار کیڈٹ کالجوں سے بہتر ہے ۔طالب علموں کے لئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی اور میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ۔اس سکیم میں خود وزیراعلیٰ،وزراء ،ایم این ایز اور ایم پی ایز کے لئے کوئی کوٹہ مختص نہیں تھا ۔محمد شہباز شریف نے ہونہار طلبہ کے لئے بارہ ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا ۔نوے فیصد سکالر شپ سرکاری سکولوں جبکہ دس فیصد پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ کو دئے جاتے ہیں، اب کوئی بھی ہونہار طالب علم غربت کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم نہیں رہے گا ۔پاکستان بھر میں میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن ہولڈر طلباء و طالبات کے لئے کروڑوں کے نقد انعامات کا سلسلہ شروع کیا ہے جو علم دوستی کا ثبوت ہے ۔بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کیلئے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا تاریخی منصوبہ شروع کیا اور غریب لوگوں کو اپنے گھروں کا مالک بنا دیا ۔عام آدمی کو سفر کی جدید اور آرام د ہ سہولیات کی فراہمی کیلئے میٹرو بس لاہور ،اسلام آباد مکمل کی ۔میٹرو بس کو عمران خان سمیت دیگر سیاسی مخالفین جنگلا بس قرار دیتے تھے لیکن اب میٹرو بس میں روزانہ دو لاکھ شہری جس میں طالب علم،مزدور ،سرکاری ملازم ،بوڑھے افراد اور خواتین سفرکرتی ہیں اور عام آدمی کیلئے ایک عظیم الشان منصوبہ ہے ۔محمد شہباز شریف نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس پر بھی ان کے سیاسی مخالفین تنقیدکرتے ہیں لیکن اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تکمیل کے بعد مخالفین کے منہ بند ہو جائیں گے ۔میٹرو ٹرین کا منصوبہ پاکستان کی پہچان ہے ۔پنجاب کے ہسپتالوں میں گردوں کے مرض میں مبتلا افراد کیلئے مفت ڈائیلائسز کی سہولتیں فراہم کی ہیں اس اقدام سے ہزاروں غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ۔

آخر میں قارئین کی خدمت میں ایک واقعہ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔کرم ایجنسی پاڑہ چمکنی قوم لسیانی کے معذور طالب علم عرفان اللہ جان صدہ بازار بم دھماکے میں دونوں پاؤں سے محروم ہو گئے تھے اس معذور طالب علم کے پاس مصنوعی ٹانگیں لگانے کے لئے رقم نہیں تھی اس نے اپنے علاقے کے ایم این اے ،سینیٹر ،پولیٹیکل ایجنٹ ،گورنر اور وزیراعلیٰ تک درخواستیں ارسال کیں کہ میں تعلیم کا سلسلہ مکمل کرنا چاہتا ہوں لیکن اس کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔آخر میں معذور طالب علم نے خادم پنجاب محمد شہباز شریف کو درخواست بھیجی محمد شہباز شریف نے معذور طالب علم کی نہ صرف دادرسی کی بلکہ اس کے لئے مصنوعی ٹانگیں جرمنی سے درآمد کروائیں اور معذور طالب علم نے اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا اور اسلامیہ کالجیٹ پشاور میں نویں جماعت کا طالب علم ہے ۔عمران خان اسلامیہ کالج پشاور کی سو سالہ تقریبات کیلئے آئے تھے ۔معذور طالب علم نے عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا عمران خان نے اسے بنی گالہ بلا لیا ۔بنی گالہ میں کور کمیٹی کا اجلا س تھا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سمیت دیگر لیڈر شپ موجود تھی ۔معذور طالب علم عرفان اللہ جان نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تم نیا پاکستان بنانا چاہتے ہو لیکن ابھی تک نیا خیبرپختونخوا نہیں بنایا ۔اب تبدیلی لانا چاہتے ہو لیکن آپ کے پاس ٹیم نہیں ہے ۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے اور عوام دوست پالیسیوں کی وجہ سے قبائلی عوام بھی محمد شہباز شریف کو پسند کرتے ہیں ۔جب میں معذور ہوا تو میں نے حکمرانوں کو کئی درخواستیں بھیجیں کیونکہ تعلیم جاری رکھنا میرا شوق تھا اور صبح اپنے سکول بیگ کو دیکھ کر روتا تھا لیکن میرے آنسوؤں کو خشک کرنے کے لئے کوئی نہیں آیا جب میں نے محمد شہباز شریف کو درخواست بھیجی انہوں نے میراعلاج کروایا اور آج میں اسلامیہ کالجیٹ پشاور میں نویں جماعت کا طالب علم ہوں ۔آج میری آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے ہیں ۔انہوں نے عمران خان کو کہا کہ جس طرح محمد شہباز شریف عوام کی خدمت کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں باقی تین صوبوں کے وزیراعلیٰ بھی محمد شہباز شریف کی تقلید کریں تو پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔

مزید :

کالم -