ستیہ پال آنند اور نوجوانوں کی ادبی تقریب

ستیہ پال آنند اور نوجوانوں کی ادبی تقریب
 ستیہ پال آنند اور نوجوانوں کی ادبی تقریب

  

’’مجھے یوں لگا جیسے یہ طلبہ اور طالبات یورپ اور امریکہ کی ان یونیورسٹیوں کے ہیں جہاں مَیں طویل عرصے تک پڑھاتا رہا ہوں‘‘یہ تعریفی کلمات انگریزی اور اردو ادب میں بین الاقوامی شہرت کے حامل پروفیسر ستیہ پال آنند نے کراچی کے ان طلبہ و طالبات کے لئے ادا کئے جنہوں نے ایک ادبی تقریب میں انگریزی اور اردو زبان میں اپنی اپنی کاوشوں کا اظہار کیا تھا۔ یہ تقریب ’’سخن‘‘ کے عنوان سے کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والے میگزین ’’ضو‘‘ اور حبیب یونیورسٹی میں اس کے ثقافتی مرکز اُردو کے اشتراک سے گزشتہ دنوں منعقد کی گئی تھی۔ پروفیسرستیہ پال آنند اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے، جس میں ممتاز شاعر افضال احمد سید ،ممتاز شاعرہ انجمن ترقی اردو کی معتمد فاطمہ حسن اورحبیب یونیورسٹی کے ڈین آصف فرخی بھی شریک ہوئے۔ پروفیسر ستیہ پال آنند تقابلی ادب کے پروفیسر ہونے کی حیثیت سے یورپ کی سات زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ وہ یورپ کے علاوہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں بھی پڑھاتے رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد واشنٹگن ڈی سی میں امریکی شہری کی حیثیت سے سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ وہ آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں چکوال میں ان کی جنم بھومی بہانے بہانے سے انہیں پاکستان کھینچ لاتی ہے۔ انہوں نے راولپنڈی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے ،لیکن وہ اردو کے عشق میں مبتلا ہیں، جس میں ان کی کہانیوں کے چار مجموعوں اور چار ناولوں کے علاوہ ان کی شاعری کے تیرہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ پچاس سال میں چھ سو نظمیں لکھیں، جن میں نبی کریم محمدؐ پر بھی بارہ نظمیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت محمدؐ میرے بھی اتنے ہی نبی ہیں ،جتنے مسلمانوں کے۔ یہ باتیں انہوں نے ایک انگریزی معاصر کو اپنے تازہ انٹرویو میں بتائیں ،جس کے مطابق انگریزی میں بھی ان کی شاعری کے نو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ بقول ان کے وہ پنجابی اور ہندی میں بھی لکھتے ہیں لیکن محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے تقریب کے آخر میں پروفیسر ستیہ پال آنند نے اپنی نظمیں بھی سنائیں، لیکن صرف اردو میں اور وہ نظمیں جو انہوں نے کالج کے زمانے میں لکھی تھیں۔ اس تقریب کا، جس کی روح رواں رسالہ ’’ضو‘‘ کی مدیرہ عرفہ اعزازی تھیں، ایک انتہائی قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ اس کی کارروائی ٹھیک وقت پر شروع ہو گئی، اور یہ بھی کہ ہال مقررہ وقت سے پہلے ہی کھچا کھچ بھر گیا تھا، جس کی وجہ سے دیر سے آنے والوں کے لئے اضافی نشستوں کا اہتمام کرنا پڑا۔

تقریب کا آغاز نئے شعرا اور شاعرات کے تعارف سے کیا گیا۔عرفہ اعزازی نے اپنی چھ نظموں کے علاوہ طالب علم محمد علی کے ساتھ مل کر شیکسپیئر کی ایک سانیٹ اور ڈی ایچ لارنس کی نظم ’’پیانو‘‘ کا ترجمہ اصل کلام کے ساتھ پڑھ کر سنایا۔ کراچی یونیورسٹی شعبہ انگریزی کے پروفیسر افتخار شفیع کا کیا گیا یہ منظوم ترجمہ بے حد پسند کیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی سے حال ہی میں فارغ التحصیل زویا انور نے، جو ایک انگریزی معاصر سے منسلک ہیں، ہمارے معاشرے میں عورت کی بے چارگی پر طویل انگریزی نظم ’’مجھ سے اکثر کہا جاتا ہے‘‘ پیش کی ،جسے بے حد سراہا گیا۔ طلبہ و طالبات نے انگریزی میں رومانوی گیت پیش کرنے کے علاوہ امریکی شاعر ڈبلیو ایچ آڈن کی رومانوی نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ نثر میں ممتاز امریکی مزاح نگار مارک ٹوین کا اخباری رپورٹر سے مکالمہ، اس کی حس مزاح کو برقرار رکھتے ہوئے پڑھ کر سنایا گیا۔ تقریب کی ایک اور خاص بات انگریزی نظمیں پیش کرنے والی ان طالبات کی قابل ذکر تعداد تھی، جو سر سے پاؤں تک برقعے میں ملبوس تھیں۔ انگریزی ادب کا دور ختم ہوا تو اردو کی باری آئی جس میں نوجوان شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، ن م راشد کی نظم پڑھ کر سنائی گئی ،جبکہ مشتاق یوسفی اور پطرس بخاری کے شہ پاروں سے اقتباسات بڑی خوش اسلوبی سے پیش کئے گئے۔

نوجوان شعرا میں سے نابینا طالبعلم زین علی چودھری نے دل کھول کر داد وصول کی۔ نثری نظموں میں سے علی مہدی کی نظم ’’گھڑی کی سوئی‘‘ پسند کی گئی۔ پروفیسر ستیہ پال آنند نے نظمیں سناتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی جوانی کا زمانہ یاد آ گیا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ نثری نظم کا دوبارہ احیا ہو رہا ہے۔ ستیہ پال آنند کو غزل کی نسبت نظم زیادہ پسند ہے ،کیونکہ ان کے خیال میں اس کا تعلق روز مرہ کی زندگی اور اس کے حقائق سے ہے۔ وہ انگریزی کو اپنی عِلمی اور اردو کو ثقافتی زبان کہتے ہیں ،بلکہ ان کی نظر میں اردو محض ایک زبان ہی نہیں، بلکہ برصغیر میں رہنے والوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔ وہ اسے دو ثقافتوں کا ملغوبہ قرار دیتے ہیں۔ مقامی ثقافت اور مسلمانوں کے ساتھ آنے والی ثقافت۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو اگرچہ مختلف انداز میں لکھی جاتی ہے ،لیکن ہندی کے بجائے یہی وہ زبان ہے جو دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ستیہ پال آنند دونوں ملکوں کے درمیان محبت کی بات اپنی زندگی کی اس تلخ حقیقت کے باوجود کرتے ہیں کہ 1947ء میں جب ان کی عمر سولہ سال تھی، ان کے والد فسادات میں مارے گئے تھے اور انہیں ہندوستان ہجرت کرنا پڑی تھی، جہاں انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گزاری۔ ستیہ پال آنند نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ہندوستان میں کیا، جہاں انہیں کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی جیسے مشاہیر سے رفاقت کا موقع ملا۔ ستیہ پال آنند جو اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ ایک منفرد شخصیت ہیں، تقریب میں یہ کہتے ہوئے لہک لہک کر اپنی جوانی کا کلام سنا رہے تھے کہ اس تقریب میں آکر انہیں اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد آ گیا ہے۔

مزید :

کالم -