حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر75

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر75
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر75

  

اس رات جب تاریکی گہری ہو گئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت البقیع جانے کا ارادہ کیا۔ میں اور علیؓ بھی ساتھ ہو لئے، اس خیال سے کہ کہیں ضعف کی وجہ سے گر نہ پڑیں مگر ہم نے دیکھا کہ اُن کے قدم نہایت مضبوطی سے پڑ رہے تھے۔ چلتے چلتے وہ قبروں تک پہنچ گئے اور بلند آواز میں فرمانے لگے:

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اے قبر کے رہنے والو تمہیں سلام،

خوشی مناؤ کہ تم زندہ لوگوں سے بہتر ہو،

وہ صبح جو تمہیں جگاتی ہے،

اُس صبح سے بہتر ہے،

جو زندہ لوگوں کو جگاتی ہے۔‘‘

گہری تاریکی میں اُن کا روئے مبارک مجھے نظر نہیں آ رہا تھا مگر اُن کے کلمات کا ایک ایک حرف میرے دل پر نقش ہو گیا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر74 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بقیع سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے عائشہؓ سے پوچھا کہ گھر میں کتنی رقم ہے۔ عائشہؓ کو اس سوال کا جواب دینے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ فوراً بولیں:

’’سات درہم۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’انہیں ابھی خیرات کر دو۔ میں اس رقم کے ساتھ اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔‘‘

اس کے بعد وہ صرف ایک بار اور مسجد میں تشریف لائے۔ میرے لئے یہ اُن کا آخری دیدار تھا۔ صرف چند گھنٹوں کی زندگی باقی تھی مگر چہرے سے پژمردگی کی کیفیت بالکل دور ہو چکی تھی۔ انسؓ نے جو میرے قریب کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہا کہ میں نے کبھی اُن کا چہرہ اتنا حسین نہیں دیکھا۔ اُن کا چہرہ دمک رہا تھا۔ بہت آہستہ آہستہ کلام فرما رہے تھے:

’’اگر میری وجہ سے کسی کو کوئی دکھ پہنچا ہو تو وہ مجھے معاف کر دے۔قرآنِ حکیم ہدایت کا سرچشمہ ہے اسے سینے سے لگا کر رکھنا۔‘‘

جب انہیں سہارا دے کر اُٹھایا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر چاروں طرف نظر دوڑائی اور فرمایا:

’’میں تم سے رخصت ہو رہا ہوں لیکن یاد رکھنا تمہیں میرے پیچھے آنا ہے۔‘‘

اب جو میں بیان کرنے لگا ہوں وہ میں نے دیکھا نہیں سنا ہے۔ نزع کے عالم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک عائشہؓ کی گود میں تھا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بازوؤں میں سنبھال رکھا تھا۔ کسی نے مسواک پیش کی تو کچھ دیر مسواک کرتے رہے۔ پھر آہستہ آہستہ جسم ڈھیلا چھوڑ دیا۔ آخری لمحے میں عائشہؓ نے انہیں یہ کہتے سنا۔

’’اے اللہ حشر کے دن مجھے غریبوں کے ساتھ اُٹھانا۔‘‘

اور پھر کچھ اور الفاظ فرمائے جو سنائی نہیں دئیے یا سمجھ میں نہیں آئے یا یاد نہیں رہے یا ہمارے لئے تھے ہی نہیں۔ اُس وقت وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب تھے۔ پھر اچانک انہوں نے سر اٹھایا اور یہ لفظ ادا کئے:

الرفیق الاعلی

باہر بیٹھے ہم نے حضرت عائشہؓ کے رونے کی آواز سنی تو ہمیں پتا چل گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرما گئے ہیں۔ عمرؓ جلدی سے اندر گئے، مگر اُن کی آنکھوں نے صرف یہ دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم استراحت فرما رہے ہیں۔ غم نے اُن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اُن کے ذہن نے یہ قبول ہی نہیں کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب ہم میں نہیں ہیں۔ وہ نہایت غیظ و غضب کے عالم میں باہر نکلے۔ ہوا میں مکے لہراتے ہوئے اور زور زور سے چلاتے ہوئے کہ اگر کسی نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے تو وہ اپنے انجام کے لئے تیار ہو جائے۔ ہم کئی لوگوں نے مل کر انہیں سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے ہمیں دھکا دے کر پرے کر دیا۔ پھر خود ہی اپنے موقف کی توجیہ کرنے لگے۔ اُن کا استدلال یہ تھا:

’’موسیٰ علیہ السلام کا قصہ یاد ہے جب وہ کوہِ سینا پر اللہ کے پاس گئے تھے تو یہودیوں نے مشہور کر دیا تھا کہ وہ وفات پا گئے ہیں لیکن کیا ہوا، چالیس دن کے بعد وہ زندہ سلامت واپس تشریف لے آئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چالیس دن بعد انہی کی طرح واپس آ جائیں گے۔‘‘

بے چارے نیک دل عمرؓ۔ وہ صحن مسجد کے وسط میں کھڑے تھے۔ اُن کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ کبھی اِدھر مڑ کے کچھ کہتے کبھی اُدھر۔ اُن کا غم حقیقت کی تلخی سے نبرد آزما تھا، جیسے کوئی دیوانہ چاند پر پتھر پھینک رہا ہو۔

ابوبکرؓ بھی حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ کا روئے مبارک دیکھا۔ دیکھتے ہی انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین ہو گیا۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا اور چادر سے چہرہ ڈھانپ دیا۔

وہاں سے ابوبکرؓ مسجد میں تشریف لائے۔ آتے ہی اُس حلیم الطبع انسان نے ایک ہاتھ بلند کر کے سب سے خاموشی کی درخواست کی۔ آج اُن کے لہجے میں، اُن کی آواز میں، اُن کے الفاظ میں ساری دنیا کا اختیار جھلک رہا تھا۔

’’اگر ہم میں سے کوئی ایسا ہے جو محمدؐ کو معبود سمجھتا ہے تو وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو چکا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر انہوں نے اس درد ناک حقیقت کے دلوں میں اُترنے کے لئے جتنا وقفہ ضروری تھا، دیا اور پھر اعلان کیا:

’’لیکن جو اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہے، اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘

اُس کے بعد آل عمران کی یہ آیت پڑھی جو جنگ اُحد کے بعد نازل ہوئی تھی:

وما محمد الارسول قدخلت من قبلہ الرسل ط افائن مات او قتل انقلبتم علے اعقابکم ط ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا ط و سیجزے اللّٰہ الشکرین o

اور محمد تو صرف (اللہ کے) پیغمبر ہیں

ان سے پہلے بھی کئی پیغمبر ہو گزرے ہیں

بھلا اگریہ مر جائیں یا مارے جائیں

تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟

اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا

تو اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکے گا

اور اللہ شکر کرنے والوں کو ثواب دے گا

یوں لگتا تھا جیسے لوگوں نے اس آیت کا مفہوم پہلی مرتبہ سمجھا تھا۔

عمر فاروقؓ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا اور زور زور سے رونے لگے۔ گریہ و زاری کے عالم میں کھڑے نہ رہ سکے تو بیٹھ گئے، اُسی طرح چہرہ چھپائے زارو قطار روتے رہے۔ اُن کا سارا جسم لرزے کے عالم میں تھا۔ پھر مدینہ اس طرح گریہ کناں ہوا کہ معلوم ہوتا تھا ساری کائنات رو رہی ہے۔ میں نے آمدِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مدینے کی خوشی کی انتہا دیکھی تھی، آج مدینے کے غم کی انتہا دیکھ رہا تھا۔

تدفین کے بعد قبر پر چھڑکاؤ کرنے کی سعادت بھی میرے حصے میں آئی۔ میں آہستہ آہستہ قبر پر چھڑکاؤ کرتا جاتا تھا اور سوچتا جاتا تھا کہ آج کیسا آفتاب غروب ہو گیا۔ کیا سعادت ہے اس زمین کی، مٹی کے ان ذروں کی، جنہوں نے اس آفتاب کو اپنی آغوش میں لیا ہے۔ مٹی بیٹھ گئی تو میں نے ہاتھوں سے تھپک تھپک کر اُسے ہموار کیا۔ رخصت ہوتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو ساری قبر پر میرے آبنوسی ہاتھوں کے نشان بنے ہوئے تھے!(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر76 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال