جو لوٹا ہے وہ لوٹانے کا وقت آگیا 

جو لوٹا ہے وہ لوٹانے کا وقت آگیا 
جو لوٹا ہے وہ لوٹانے کا وقت آگیا 

  

پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ مُلک کاہر سیاست دان کسی نہ کسی طرح کرپشن میں ملوث ہے۔ اگر مُلک کی تاریخ پر ایک ایک نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھُل کر سا منے آ جائے گی کہ ہر دور حکومت میں کرپشن ہوئی ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کے بعض حُکمرانوں کے دور میں کرپشن قدرے کم تھی۔ چور بازاری کو معیوب سجھا جاتا تھا۔ شریف لوگ ایسے سیاستدانوں سے احتراز کرتے تھے۔ اُن سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے کہ مبادا اُن کا نام اُنکے ساتھ نہ آ جائے۔ کہنے کا مقصد ہے کہ لوگ کرپشن کو اخلاقی گرواٹ کا نام دیتے تھے اور حتیٰ الامکان کوشش کرتے تھے کہ اپنے دامن کو اس سے پاک رکھیں۔ لیکن آج کرپش کو بُرائی نہیں سمجھا جاتا بلکہ ہمارے معاشرے میں اسکو ایک ایک خصوصی خُوبی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے شخص کو با صلاحیت سمجھا جاتا ہے جو حکومت کو لوٹنے میں ماہر ہو۔

لوگوں کو یاد ہوگا کہ ہمارے پاکستان کے سامنے صدر محترم آصف رزداری کو مسٹر ٹن پر سینٹ کہا جاتا تھا۔ لیکین انہوں نے قلیل مُدت میں ہی اپنے گن کرپش کو کام میں لاتے ہوئے دن دُگنی رات چوگنی ترقی کی۔ یہاں تک کے لوگوں نے انہیں ھنڈرڈ پرسینٹ کا خطاب دیا۔ شروع شروع میں وُہ ہر پرو جیکٹ پر دس فیصد کمشن وصول کرتے تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے اپنے بندوں کے نام پر خُود ٹھیکے لینا شروع کر دئے۔ اس لئے مُوصوف نے ڈھیروں دولت کمائی۔ پاکستان ہونے کے بوجود برطانیہ کے رئیسوں کا مقابلہ کرتے تھے۔ سرے محل کروڑوں ہا ڈالرز کی مالیت کا محل خریدا۔سوئٹرز لینڈ میں اربوں ڈالرز جمع کر وائے۔ لیکن انکی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیب میں مقدمات چلنے کے باوجود وُہ ہر مقدمے سے بری قرار دئے گئے ہیں۔ نا جائز دولت کمانے کے باوجود بھی وُہ ہر الزام سے بری ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں سب سے زیادہ دولت کمائی۔ لیکن اُنکی مہارت ایسی ہے کہ وُہ ہر دفعہ قانون کو غچہ دیکر آسانی سے نکل جاتے ہیں۔

زرداری صاحب کے بعد اگر کسی نے مُلک کو صحیح انداز سے لوُٹا ہے تو وُہ شریف خاندان ہے۔ شریف خاندان نے بھی مُلک کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خود بھی کھایا اور د وستوں کو بھی کھلایا۔ لیکن انہوں نے دوستوں سے بھی کمشن وصول کیا۔ بلکہ دوستوں کو ٹھیکے اس لئے دئے گئے کہ وُہ اپنی حسبِ منشاء کمشن وصول کر سکیں۔میاں شریف صاحب کار وباری ذہن کے آدمی تھے۔ لین دین کو بڑی اچھی طرح سجھتے تھے۔ فوجی جرنیلوں سے روابط قایم کرنے کے لئے اور اپنی مرضی اور پر ٹھیکے لینے کے لئے انہوں نے جنرلز کو قیمتی تحفے دیکر خریدنا شروع کیا۔ اور وُہ اس کام میں بے حد تک کامیاب رہے۔ ایسے ہی کا ر ناموں کی بدولت جنرل ضیا الحق سے شاسائی پیدا کی۔ اپنے حُسن اخلاق اور تحفوں کی بھر مار سے بیٹے کے لئے پنجاب میں وزارت حاصل کی۔ بیٹے نے بھی باپ کی تربیت کو رائیگان نہیں کیا بلکہ قلیل مُدت میں اچھا خاصا مال بنایا۔ پھر اپنے بھائی کو بھی سیاست میں لے آئے۔ جنرل ضیا الحق سے مزید قُربت اختیار کی اور اُنکی مدد سے سا بقہ وزیر اعظم جونیجو کی مُسلم لیگ خُود ہتھیا لی۔ پنجاب میں کئی برس تک وزیر اعلٰی رہے۔ ہارس ٹریڈنگ کو ایک صنعت بنانے کو کارنامہ ا نجام دیا۔ چھانگا مانگا میں ایک نئی طرز سیاست کی بنیاد رکھی جس میں شریف خاندان نے اپنی صلاحیتوں کا کھُل کر مظاہرہ کیا۔ جس میں پنجاب کے با اثر امیدواروں اور چوہدریوں اور صنعت کاروں کو خرید لیا جاتا ہے اور اُنکے ووٹوں کے بدلے حکومت بنا لی جاتی ہے۔ اِس خریداری میں ادائیگی کئی طرح سے کی جاتی ہے۔ مُفت پلاٹ بانٹ دئے جاتے ہیں، کاروباری افراد کو فیکٹریاں لگانے کے پرمٹ دئے جاتے ہیں۔ قرضے بینکوں سے اثرو رسوخ کی بنیاد پر معاف کروا دئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، منظور نظر افراد کو بینکوں سے کم شرح پر قرضے دلوا دئے جاتے ہیں۔ یہ تمام کام کروانے کے لئے کمشن علیحدہ لیا جاتا ہے۔ یہ وُہ کک بیکس ہیں جو دُنیا کے دوسرے ممالک کے بینکوں میں جمع کروائی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی ٹھیکوں سے کمشن وصول کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے بینک اکاونٹس کو ا ستعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح شریف خاندان کی ترقی بھی ہو جاتی ہے اور عوام کو دکھانے کے پُل بھی بن جاتے ہیں۔ ان دو علاوہ ایک تیسرا مگر مچھ بھی ہے جو لندن میں بیٹھ کر کراچی کے عوام سے اور تجارتی طبقے سے بڑے منظم انداز میں بھتہ وصول کرتا ہے۔ 

جنرل مشرف نے ان نے کرپٹ لوگوں سے لوُٹی رقوم واپس لینے اور معا شرے کو کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلوانے کے لئے نیشنل اکاونٹیبیلٹی بیوریو جس کا مخفف نیب ہے ، ایک ادار قایم کیا تھا۔جس کا بنیادی مقصدمُلک کی لُوٹی ہوئی دولت کو مُلک میں واپس لانا اور کرپٹ لوگوں کا احتساب کرنا تھا۔ خیال بہت اچھا تھا لیکن یہاں بھی اقربا پروری نے راستہ روک لیا اور بعض فنی مجبوریوں کی بدولت بیرون مُلک میں جمع کی ہوئی سیاستدا نوں کی رقوم کی تفصیل جاننا دوبھر تھا۔ سیاستدانوں کے خلاف مقدمات قایم کرنے کے لئے بیرونی مُلکوں سے ہر شخص کی جمع شُدہ رقوم کے ثبوتوں کا ہونا اشد ضروری تھا۔ حکومت پاکستان کو بیروں ممالک سے اِس سلسلہ میں خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ لہذا نظریہ ضرورت کے تحت پلیی بارگین کی صورت نکالی گئی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ سیاستدان اپنے مرضی سے بیرون مُلک جمع رقوم کو ظاہر کرکے حکومت کو اُس رقم کا ایک حصہ دے دیتے تھے جس سے حکومت کی لُوٹی ہوئی رقم کا کُچھ حصہ مل جاتا تھا۔

مجرم اور کرپٹ لوگوں سے ساز باز کرنے کے لئے اور خُود کو اُن سے بچانے کے لئے جنرل مشرف نے این آر او کا تحفہ سیاستدانوں کو دیا۔یہ ایک عام معافی نامہ تھا جو کہ با اثر افراد کو پیش کیا گیا۔ جس سے اُن کا کالا دھن سفید بھی ہوگیا اور اُن کو قید کی ہوا بھی نہ کھانی پڑی۔ اعداد و شمار کے مُطابق اس این آراو سے اڑھائی سو کے قریب لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ لیکن کھر بوں روپے کی رقوم کو معاف کر دیا گیا۔ ایک اندازے کے مُطابق آٹھ ہزار ارب روپے ضائع کئے گئے۔ اگر یہی رقوم مُلک کے اندر رہتیں تو مُلک کی حالت دگر گوں نہ ہوتی۔ خوش قسمتی سے این آر او اب غیر موثر ہو چُکا ہے۔ تاہم ایک شہری کی دراخوست پر عدالت عالیہ نے مُفاد عامہ کے تحت سُننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جنرل مشرف، ملک قیوم اور زرداری صاحب اور دوسرے لوگوں کو جن نے اس این آر او سے فائدہ اٹھائے ہے نوٹسسز جاری کر دئے ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دورانِ ملازمت ہمیں اُمید ہے کہ اتنی بڑی رقم کا اگر پورا نہیں توہ کُچھ حصہ ضرور واپس لایا جا سکتا ہے۔ ہمیں خُوشی ہے کہ چیف جسٹس نے تمام تر مخالفت کے باوجود بھی ایسے کیس کو دوبارہ شروع کرنے کی ٹھان لی ہے۔ایسے فیصلے بہت کٹھن ہیں کیونکہ کرپٹ حضرات چیف جسٹس کو بد نام کرنے اور اُنکی شخصیت اور فیصلوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کیونکہ میاں ثاقب نثار ارادے اور اخلاق کے بڑے پکے اور سچے ہیں اس لئے مُخالفین اُن سے بڑے خائف ہیں۔ خواہش ہے کہ چیف جسٹس صاحب ہر خوف سے بالا تر ہو کر مُلک و قوم کی بہبو دکے لئے ایسی خطیر رقوم کو واپس لانے کا مناسب انتظام کریں۔ یہ قوم و مُلک پر ان کا احسان عظیم ہو گا۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ