وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین ،پر عزم پاکستان کی نئی پہچان

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین ،پر عزم پاکستان کی نئی پہچان
وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین ،پر عزم پاکستان کی نئی پہچان

  



وزیراعظم عمران خان پاکستان کو عالمی سطح پر ایک عزت دار ملک بنانے کے لیے پرعزم ہیں،آپ ہمارے وزیراعظم کے عالمی دورے اور اس موقع پر انٹرنیشنل کمیونٹی سے بات کرتے ہوۓ دیکھ کر بغیر متاثر ہوۓ رہ نہیں پائیں گے۔ آج سے پہلے پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر شاید ہی اس طرح کی پہچان ملی ہو، ورنہ ہم تو پرچیوں کے عادی لوگ دکھائی دیتے تھے کہ اپنی بات کہنے کے لیے بھی پرچی نکالنی لازم ہوتی تھی۔ آج عمران خان کو دنیا کے بڑے فورمز پر دعوت دی جاتی ہے جہاں وہ کم از کم پاکستان کا موقف بیان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے، گویا کہ عمران خان پہلے ہی عالمی شہرت کے مالک ہیں۔

حال ہی میں وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر ہیں جہاں آج انھوں نےبیلٹ اینڈروڈفورم( بی آر آئی )سے خطاب کیا ہے۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بے شمار نکات اٹھاۓ جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔ ان کا عالمی دنیا سے خطاب کرتے ہوۓ کہنا تھا کہ پاکستان نے 

 ملک بھر میں موسمی تبدیلیوں کے لیے 10  ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے، ہم سب کو چاہیے کہ ملک کر اس خطے میں 100 ارب درخت لگائیں کیونکہ کل کو ہماری نسلوں کو آب و ہوا سے ہونے والی تبدیلیوں سے بچایا جا سکے۔ بی آر آئی منصوبہ میں ہی ہمیں ایک سیاحت کا کوریڈور بھی متعارف کروانا چاہیے جس سے دنیا بھر کی ثقافت کو جانا جا سکے اور لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوں۔

انھوں نے ایک ادارہ قائم کرنے کا بھی کہا جو دنیا بھر میں کرپشن کی روک تھام کے لیے مل کر کام کرے۔ غربت کے خاتمے کے لیے انھوں نے پاکستان کی مثال دی اور کہا عالمی سطح پر بھی ایسے پروگرام شروع ہونے چاہیے۔پاکستان کا ذکر کرتے ہوۓ انھوں بے دنیا کو بتایا کہ کیسے ہم تعلیم، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔انٹرنیشنل کمیونٹی کو پاکستان آنے کی دعوت دینا بھی ان کا خوش آئند قدم معلوم ہوا۔سی پیک کو انھوں نے پاکستان اور چین کے مابین ترقی کی علامت قرار دیااور دونوں ملکوں کی دوستی کے لیے دعاگو ٹھرے۔

بظاہر عمران خان نے پاکستان کی نمائندگی بھرپور انداز میں کی۔ ہم عمران خان کے عالمی سطح پر کافی معارکے دیکھ چکے ہیں، جن میں سعودی ارب سے قیدی چھڑوانا، پاکستان کے لیے بے شمار امدادی پیکج حاصل کرنا، ملیشیا ، دبئی، اور دیگر ملکوں تک بھی اپنا موقف پہنچانے میں عمران خان صاحب پیچھے نہیں ۔ آج وزیراعظم پاکستان کو دہشت گردملک کہنے پر بھی خاموش نہیں دکھائی دیتے۔ آج امریکہ بہادر بھی افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستان سے مدد مانگ رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا یہ خطاب دنیا کہ لیے ایک بہترین پیغام ثابت ہو گا کہ پاکستان بھی اب بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ