دہشت گردی کے بعد کوروناگردی پاکستان میں کھیل کے میدان اور شائقین پھر اداس

دہشت گردی کے بعد کوروناگردی پاکستان میں کھیل کے میدان اور شائقین پھر اداس

  

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ کو ایک اور دھچکہ،پاکستان کرکٹ بورڈ نے کے این سی بی کے مشورے کے بعد جولائی میں شیڈول دورہ نیدرلینڈز کو غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔ پی سی بی نے یہ اعلان ڈچ حکومت کی جانب سے کوروناوائرس کی وباء کے پیش نظر یکم ستمبر 2020تک تمام سپورٹس اور کلچرل ایونٹس پر پابندی عائد کرنے کے بعد کیا۔دونوں ٹیموں کے درمیان ایک روزہ سیریز میں شامل تین میچز نیدرلینڈز کے شہرایمسٹلوین میں 4، 7 اور 9 جولائی کو کھیلے جانے تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے ا فسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں شیڈول دورہ نیدرلینڈز ملتوی کررہے ہیں مگر موجودہ حالات میں یہ بالکل درست فیصلہ ہے کیونکہ انسانی زندگیاں کسی بھی کرکٹ میچ یا کسی بھی سرگرمی سے بہت زیادہ قیمتی ہیں۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہاکہ نیدر لینڈز کورونا وائرس کے باعث شدید متاثرہوا اور ہم اس دوران جانیں گنوانے والے افراد کے لیے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع پر دیگر تمام ممالک کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی کے این سی بی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس مشکل صورتحال پر جلدقابو پالے گا۔وسیم خان نے کہاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے ہمیشہ دورہ نیدرلینڈز کا بھرپور لطف اٹھایا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے ویسے ہی پی سی بی اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس کرتے ہوئے کے این سی بی کی مشاورت سے دورہ نیدرلینڈز کے نئے شیڈول کی تیاری کاآغاز کردے گا۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہاکہ اس موقع پر پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کا 2 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل دورہ آئرلینڈ اور 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل دورہ انگلینڈکا شیڈول برقرار ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ بالترتیب ڈبلن اور لندن میں اپنے ہم منصب نمائندگان سے رابطہ میں ہیں۔ وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی ہمیشہ کی طرح ان دوروں کے حوالے سے بھی میزبان بورڈز سے رہنمائی حاصل کرنے پر خوش ہوگا تاہم کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئیاپنے کھلاڑیوں اور منیجمنٹ اراکین کی صحت اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔چیئر آف کے این سی بی بیٹی ٹمر نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ہم موسم گرما کے دوران نیدرلینڈز میں کسی بھی قسم کی کرکٹ سرگرمی کی میزبانی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں، مداحوں اور عملے کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں ڈچ حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی بھی قابل فہم عمل ہے۔چیئر آف کے این سی بی نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ آئندہ سیزن تک صورتحال قابو میں ہوگی اور ہم ایک بار پھر کرکٹ ٹیموں کی میزبانی کے لیے تیار ہوں گے۔دوسری جانب دنیا بھر میں کورونا وائرس وبا کی وجہ سے متاثرہ کرکٹ سیریز کی بحالی پر بات چیت کیلئے آئی سی سی چیف ایگزیکٹو کمیٹی کی ٹیلی کانفرنس میں فیوچر ٹور پروگرام اور متاثرہ سیریز کی ری شیڈولنگ پر غور کیا گیا۔آئی سی سی کے ترجمان کے مطابق ٹیلی کانفرنس میں تمام بارہ ممبر ملکوں کے بورڈز کے چیف ایگزیکٹوز شریک ہوئے اور مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اور آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ سپر لیگ پر صورتحال واضح ہونے کے بعد کسی قسم کا فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم یہ بات طے ہوگئی کہ فیوچر ٹور پروگرام میں ردوبدل ہوگا اور اس پر باہمی مشاورت کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی سی سی وویمن ورلڈ کپ کو موخر کرنے پر بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فی الحال دونوں ایونٹس کی تیاری شیڈول کے مطابق ہی کی جائے۔اس موقع پر کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شیڈول کے مطابق انعقاد کے لئے آسٹریلوی حکومت کے فیصلوں کی روشنی میں کام کیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ سی ای سی کی ٹیلی کانفرنس کرکٹ کی بحالی کیلئے مشترکہ اقدامات کی جانب پہلا قدم ہے، یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں سب کا مل کر کام کرنا بے حد ضروری ہے۔دوسری جانب پاکستانی کرکٹرزنے گھر میں فٹنس ٹیسٹ کو اچھا تجربہ قرار دیا ہے۔ ویڈیو لنک پر میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے مستقبل میں اپنے ارادوں سیپر کھل کر اظہار خیال کیا۔اوپننگ بیٹسمین امام الحق نے کہا کہ فٹنس ٹیسٹ کا تجربہ اچھا رہا، محدود وسائل میں سب نے اچھی کوشش کی، گھر میں جم کی سہولت قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا جس کا فائدہ ہوا۔ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین نے کہا کہ فرسٹ کلاس میچوں کی بنیاد پر پاکستان ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوا تھا، انٹرنیشنل سطح پر ون ڈے کی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کرسکاہوں۔ پوری کوشش ہے کہ اپنی خامیوں پر قابو پاکر پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کروں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کی مالی مشکلات کے سبب اگر کرکٹرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، بحرانی صورتحال کا کسی ایک فرد کو نہیں سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ اسد شفیق نے کہا کہ فٹنس پر سب کام کررہے ہیں۔ جس مقام پرمجھے ہونا چاہیے تھا۔ جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو ڈبل محنت کرنا ہوگی،فٹنس پر تو گھر میں محنت ہورہی ہے لیکن اسکیل لیول بڑھانے کیلئے پراپر جگہ ہوگی۔ دو سال میں مصباح بھائی اور یونس بھائی کے جانے کے بعد حالات مختلف ہیں، آئندہ سیریز میں آپ مجھے مختلف بیٹسمین کے روپ میں دیکھیں گے۔74ٹیسٹ میں 39.25کی اوسط سے بارہ سنچریوں کی مدد سے4593رنز بنانے والے34سالہ اسد شفیق نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں 80,85فیصد بیٹنگ چھٹے نمبر پر کھیلی اس نمبر پر بڑی اننگز کھیلنا مشکل ہوتا ہے کیوں کہ اکثر آپ کو ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔ دنیا میں چھٹے نمبر کے کسی بیٹسمین کی پندرہ یا بیس سنچریاں نہیں ہوں گی۔ ٹیل کے ساتھ اور ریگولر بیٹسمین کے ساتھ کھیلنے میں فرق ہے۔ میری کوشش تھی کہ اس پوزیشن پر بڑی اننگز کھیلوں۔60,70کی اننگز ٹیم کے کام تو آتی ہیں لیکن لوگوں کو یاد نہیں رہتی۔ اب میں چار اور پانچ نمبر پر کھیلتا ہوں اور اسی نمبر پر اپنے انداز میں کھیلنے کی کوشش کروں گا۔ٹیسٹ اوپنر شان مسعود کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کو صرف فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے کاہدف سامنے نہیں رکھنا چاہیے۔ پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلئے شارٹ ٹرم نتائج کی بجائے لانگ ٹرم حکمت عملی بناکر مستقبل کا سوچا جائے، فوری نتائج کو ہدف بناکر ہم کبھی بھی کھلاڑی نہیں تیار کر سکیں گے۔ ضروری ہے کہ آپ پورا سال فٹ رہنے کی عادت ڈالیں۔ کسی بھی کھلاڑی کو ڈولپمنٹ میں ٹیم کے ماحول کا کافی اثر ہوتا ہے۔ میں نے کبھی کوچز میں یہ نہیں دیکھا کہ وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی، اینڈی فلاور یا مکی آرتھر نے بڑی ٹیموں کے ساتھ کام کیا اس لئے ان کو ایکسپوڑر زیادہ تھا۔ پاکستان کے کوچز بھی کافی اچھے ہیں۔ ہیڈکوچ مصباح الحق بھی فٹنس کلچر پر کافی توجہ دے رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی وارننگ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اپنے کھلاڑیوں کو خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں کرپٹ عناصر سے ہوشیار رہیں۔ پی سی بی نے ایک خط کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں اورڈومیسٹک کرکٹرز کو متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا کے ذریعے سٹے باز آپ سے رابطہ کرسکتے ہیں ان سے بچیں اور اگر کوئی پیشکش کرتا ہے تو اس کی اطلاع پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو دیں۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے خط بھیجنے کی تصدیق کی اور کہا کہ کوئی بھی سٹے باز کھلاڑی کو یہ پیشکش اور لالچ دے کر گھیر سکتا ہے۔ امکان ہے کہ میں آپ کی بڑی اسپانسر شپ ڈیل کی پیشکش کرسکتا ہے۔ کسی ملک کے دورے کی دعوت دیتا ہے۔ یا کسی اور ذریعے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس وقت تو سب کچھ بند ہے لیکن آئی سی سی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سٹے باز حالات نارمل ہونے کے بعدکھلاڑیوں کو دبئی یا بھارت بلانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ سلمان نصیر نے کہا کہ سٹے باز کرکٹرز سے دوستی کریں گے اور انہیں اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کریں گے۔ لاک ڈاؤن میں کھلاڑی وقت گذارنے کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس لئے ہم نے اس ہدایت نامے میں پاکستانی ٹیم اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو محتاط رہنے اور ان سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ جبکہ سلمان نصیر نے پی سی بی کے قانونی مشیر کی حیثیت سے شرجیل خان اور خالد لطیف سمیت اسپاٹ فکسنگ کے کئی کیسوں کو حل کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -