پاکستان ہاکی ٹیم کا امتحان شروع!

پاکستان ہاکی ٹیم کا امتحان شروع!

  

ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔پاکستان کی ہاکی ٹیم کو تین اولمپک گولڈ میڈل، چار عالمی کپ، تین چمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔پاکستان نے آخری مرتبہ عالمی کپ 1994 میں جیتا اور اس کے بعد پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بری ہی ہوتی گئی ہے۔اس سال ہونے والے اولمپک گیمز میں بڑے وعدوں اور دعوؤں کے ساتھ شرکت کرنے والی پاکستان کی ٹیم نے خراب کارکردگی کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے اور بارہ ٹیموں میں آٹھویں نمبر پر آئی۔پاکستانی ہاکی ٹیم اگلے سال جاپان میں ہونے والے اولمپکس گیمز میں شر کت نہیں کرسکے گی۔ ٹیم کا ایونٹ میں کھیلنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔پاکستان کے ہاکی ماہرین نے جن ایشیائی ملکوں کی ٹیموں کو ہاکی کھیلنا سکھایا وہی ایشین ٹیمیں آج پاکستان پر بھاری ہیں دوسری جانبقومی ہاکی ٹیم کے وڈیو لنک فٹنس ٹیسٹ شروع ہوگئے۔ پہلے روز 15کھلاڑیوں نے دیے گئے ایک منٹ کی وڈیو ٹیم انتطامیہ کو بھیج دی۔ ہیڈ کوچ خواجہ جنید نے براہ راست وڈیو لنک سے کھلاڑیوں کی فٹنس کا جائزہ لیا۔ٹیسٹ میں لینجز، موڈیفائیڈ پلنک اور پش اپس شامل ہوں گے۔برپیز، باڈی اسکواٹس اور جمپنگ اسکواٹس بھی اس فٹنس ٹیسٹ کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ کورونا وائرس وبا کی وجہ سے سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ ملتوی کر دیا گیا تھا، 11 اپریل سے 18 اپریل تک ملائیشیا کے شہر ایپو میں ٹورنامنٹ کھیلا جانا تھا، جس میں ہاکی ٹیم نے بھی شرکت کرنا تھی۔منتظمین نے کھلاڑیوں کی حفاظت کے پیش نظر اس ایونٹ کو ملتوی کر دیا ہے اور اب یہ ایونٹ 24 ستمبر سے 2 اکتوبر تک کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رواں سال کا مینز ہاکی جونیئر ایشیا کپ بھی کورونا وبا کی وجہ سے منسوخ کیا جا چکا ہے، ایشین ہاکی فیڈریشن کے مطابق یہ کپ بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکا میں 4 جون سے 12 جون تک 10 ٹیموں کے درمیان شیڈول تھا۔جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی پاکستان سپر ہاکی لیگ کا انعقاد ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس سال اکتوبر میں اس لیگ کے انعقاد کے لئے ابتدائی تیاری بھی شروع کردی تھی، تاہم کورونا وائرس کے باعث پچھلے ایک ماہ سے پی ایچ ایف کے دفاتر کی بندش اور اسپانسرز کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ دوسری جانب پی ایچ ایف کے حکام لیگ کیحوالے سے کوئی کمیٹی بھی تشکیل نہیں دے سکے ہیں، فیڈریشن نے دس سے بارہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ پی ایچ ایف کے ذرائع نے جنگ کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جن اداروں کے ساتھ مین اور کو اسپانسر شپ کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی اس میں سے بیشتر نے مالی مشکلات کے سبب معذرت کرلی ہے۔ جبکہ ٹیموں کی فرنچائز کے لئے جن شخصیات سے رابطہ تھا وہ بھی مثبت جواب دینے سے قاصر ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت کی بڑا مالی تعاون کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کورونا سے بگڑتی ہوئی صورت حال میں غیر ملکی کھلاڑی بھی اس سال بیرون ملک سفر کے لئے رضامند دکھائی نہیں دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب کورونا وائرس نے قومی ہاکی کھلاڑیوں کو شدید مشکل میں ڈال دیا، مالی مشکلات کے شکار قومی ہاکی پلیئرز کو کورونا وائرس کے باعث لاکھوں روپے نقصان کا اندیشہ ہے کیونکہ موذی وباء کی وجہ سے دنیا کی ٹاپ لیگز ملتوی ہوگئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹاپ پاکستانی کھلاڑیوں کی معاشی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ جن میں 20 سے 25 پاکستانی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں اور اس طرح انہیں 25 سے 30 لاکھ روپے فی کس کا نقصان پہنچا ہے، لیگز سے ملنے والی رقم ٹاپ ہاکی کھلاڑیوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، ڈچ، جرمن، آسٹریلین، ملائیشین لیگز کے ساتھ ہانگ کانگ پریمیر لیگ بھی ملتوی ہوئی ہیں

مزید :

ایڈیشن 1 -