ٹوکیو اولمپکس پر بھی سوالیہ نشان؟

ٹوکیو اولمپکس پر بھی سوالیہ نشان؟

  

ٹویو اولمپکس کا انعقاد آئندہ سال 24جولائی سے 8اگست تک ہوگا،مگر اولمپکس کو آخری مرتبہ جنگ عظیم دوئم کے موقع پر 1940 میں ملتوی کیا گیا اور حیران کن اتفاق یہ ہے کہ اس وقت بھی اولمپکس کا انعقاد ٹوکیو میں ہی ہونا تھا۔جاپانی ماہرین اور پروفیسرز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلا کو دیکھتے ہوئے 15ماہ بعد بھی اولمپکس کا انعقاد مشکل نظر آتا ہے۔جاپانی پروفیسر کی نتارو اواتا نے کہا کہ اگر میں آپ سے سچ کہوں تو میرا نہیں خیال کہ اگلے سال بھی اولمپکس کا انعقاد ممکن ہوسکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اولمپکس کے انعقاد کے لیے دو چیزیں سب سے اہم ہے ہیں، پہلی یہ کہ جاپان میں وائرس پر قابو پایا جائے اور دوسری کووڈ-19پر دنیا بھر میں قابو پا لیا جائے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب غیریقینی صورتحال کی وجہ سے منتظمین کے لیے ایونٹ کا انعقاد خطرے سے خالی نہ ہو گا خصوصا ایسے میں اگر کہ اگلے سال تک کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو جاتی۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلا کو دیکھتے ہوئے جاپان اور انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے رواں سال شیڈول ٹوکیو اولمپکس کو ایک سال ملتوی کردیا تھا۔تاہم ایک لاکھ 60ہزار سے زائد افراد کی موت اور 24 لاکھ متاثرین کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا 15ماہ بعد بھی اولمپکس کا انعقاد ممکن ہو سکے گا کیونکہ ابھی تک اس وائرس کے علاج کے لیے کوئی ویکسین بھی نہیں بنائی گئی۔امریکا کی ایموری یونیورسٹی کے پروفیسر زاک بنی نے کہا کہ جب ہم شائقین سے بھرے اسٹیڈیم کے ساتھ کھیلوں کی واپسی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب اس سلسلے میں کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو جاتی۔ٹویو اولمپکس کا انعقاد آئندہ سال 24جولائی سے 8اگست تک ہوگا اور اس کے بعد پیرالمپکس بھی شیڈول ہیں لیکن منتظمین منصوبوں میں مختلف تبدیلیوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس میں شائقین کے بغیر ایونٹ کے انعقاد پر بھی غور جاری ہے۔زاک ایتھلیٹکس ہیلتھ کے ماہر ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ویکسین بننے میں کم از کم 12 سے 18ماہ کا عرصہ لگ سکتاہے اور اسے سے قبل جو بھی شخص اس مجمع کا حصہ بنے گا وہ خطرے میں ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم 50 ہزار، 70 ہزار یا ایک لاکھ شائقین کو بغیر ویکسن کے ایک ساتھ جمع کرتے ہیں تو یہ دراصل انہیں خود ہی خطرے میں جھونکنے کے مترادف ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف علاقوں اور خطوں سے لوگ وائرس کو اپنے ساتھ لاسکتے ہیں اور ایسے میں مقامی افراد اور شائقین کے ساتھ ساتھ ایتھلیٹس کی زندگیاں بھی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔جاپان میں پہلا کیس تین ماہ قبل رپورٹ ہوا تھا لیکن اس کے باوجود ابتدائی طور پر وائرس کے خلاف اقدامات نہیں کیے گئے جس کے نتیجے میں اب وہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔اب تک جاپان میں وائرس سے کم ازکم 12ہزار سے زائد افراد متاثر اور 250 اموات ہو چکی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -