یہ تو ہو گا

یہ تو ہو گا
 یہ تو ہو گا

  

میری بھینس کو ڈنڈا کیوں مارا، بلکہ آ پ نے میرے چھابے میں ہاتھ کیوں مارا، بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالیں گے تو پھر 'یہ تو ہو گا'۔ لیکن بات ابھی پوری طرح بوڑھ تھلے نہیں آئی۔ مولانا طارق جمیل صرف صحافیوں سے معافی مانگ کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ہیں ابھی تو انہیں پوری قوم سے معافی مانگنی ہو گی۔ میں تو تجویز کروں گا کہ وہ فرداً فرداً بیس کروڑ افراد تک نہیں پہنچ سکتے تو وہ ہمارے نمائندوں تک پہنچیں اور قوم کو جھوٹی بد دیانت بے حیا اور رزق حلال نہ کمانے والی قوم کہنے پر پہلے گٹے گوڈوں کو ہاتھ لگا کر پھر جن جن کی داڑھی ہے اسے اس کا ترلا واسطہ دیکر معافی مانگیں۔ میں مولانا کی آسانی کیلئے کچھ انتہائی بے سود تجاویز فوری طور پر پیش کرتا ہوں۔ مولانا سب سے پہلے اس لیموں والے سے معافی مانگیں جس نے عین جذبہ حریت اور ایمان کے تحت لیموں راتوں رات دو ڈھائی سو روپے کلو کا اضافہ کر دیا، کیونکہ مولانا کو لیموں والے پاس ہونگے تو لگے ہاتھوں سیب، کیلے خربوزے، امرود کی قیمتیں آسمانوں تک پہنچانے والے دکانداروں سے بھی سوری شوری کر لیں، درخواست ان سے یہ ہے کہ اگر اپنی معافی میں زیادہ رقّت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اپنی گاڑی میں نہ جائیں جب وہ رکشہ والے کو ڈبل کرایہ دیں گے تو انہیں اس قوم کی عظمت سچائی حلال بازی کا مزید بہتر اندازہ ہو جائے گا۔اس وقت سینیٹائزراور ماسک بیچنے والے انسانیت اور ضرورت مندوں کی کی خدمت کررہیہیں ان سے نہ معافی مانگنا رب کو کوناراض کرنے والی بات ہوگی۔ سنتا سنگھ نے اپنی بیٹے سے پوچھا دس 80تے 80کتنے ہوتے ہیں وہ بولا ایک سو تی، سنتا نے جیب سے دس روپے نکالے اور انعام دیتے ہوئے بولا ویری گڈ پترا۔ سنتا کا دوست بولا سردار جی غلط جواب پہ انعام، سنتا سنگھ بولا پہلے سے بہت بہتری ہے۔ پہلے تو یہ اسی تے اسی اک سو پنج دسدا سی۔

شکر ہے پٹرول سستا ہوا ور نہ یہ رکشہ ڈرائیور تو ڈبل کے ٹرپل کرائے وصول کر رہے تھے میرے مولانا جب ان چھوٹے لوگوں سے فارغ ہو کر شوگر مافیا، آٹا مافیا اور آئی پی پیز مافیا سے بھی معافیاں کھڑادیں۔ بے شک یہ لوگ بہت اعلیٰ بنگلوں میں ملیں گے لیکن اندر سے یہ بھی لیموں بیچنے والے ہی ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب کی معافی تو بنتی ہے انہوں نے صحافیوں سمیت اس بیس کروڑ سچی کھری راست باز رزق حلال دیانتدار قوم کا دل دکھایا جو اپنے سچے اور سچے اوصاف کے باعث پوری دنیا میں اپنی انوکھی مثال رکھتی ہے۔مولانا کو چاہئے کہ احتیاطاً علماء حضرات سے بھی معافی مانگ لیں جنہوں نے انتہائی محنت کے ساتھ قوم کو فرقوں میں تقسیم کیا اور حدیث مبارکہ کے عین مطابق اکثر مساجد کو خیر کے فلسفے سے آزاد کر کے فتنہ فساد کا ذریعہ بنایا۔ ہو سکے تو ایسے علماء سے بھی معافی مانگیں جو قوم کو تقویٰ کے درس دیتے رہے اور خود کو کروڑوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر بھائی بھائی زور دی کہتے رہے۔جو قوم کونبیوں کے بھوکے رہنے کی روایات سنا کر اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔جو طاقتوروں ڈویروں حکمرانوں کی منڈیروں پر بانگین دینے کو آزان سمجھتے ہیں۔منجھے تھلے ڈالنگ پھیرنے میں کوئی حرج نہیں۔

مجھ جیسے ٹٹ پونجھئے تھڑے باز کالم نگار سے لیکر برادرم حامد میر تک سب خوش ہیں اور گدے کی شکل میں گا رہے ہیں اساں جتنا سی جت گئے ہے جمالو، مولانا صاحب ہم اس قوم کی زبان چہرہ ہیں۔ اگر آپ ہمیں چیلنج کریں گے تو پھر 'یہ تو ہو گا 'جو ہوا۔ پاکستان اگر اجڑا باغ ہے اور اس باغ کی ایک ایک کلی آئی ایم ایف ورلڈ بنک کے پاس گروی رکھی ہے تو اس میں ہم صحافیوں کا کیا قصور؟ اجڑے باغوں کے گالڑ ہی پٹواری ہوتے ہیں۔ایک ملک کو تباہی کا شکار کرنے والوں، اس کا ایک ایک بال قرضے میں ایڈجسٹ کرنے والوں کو اگر میڈیا نے ہیرو بنا کر پیش کیا اور ایک ناخواندہ عوام کو ہر بار یقین دلایا کہ یہی تمہارے نجات دہندہ ہیں تو اس میں پاکستانی صحافیوں کا کیا قصور یہ پراپیگنڈہ تو اسرائیل، انڈیا اور امریکہ کے صحافی پاکستان آ کر کرتے ہیں، تسی سارا مدّا ساڈے تے پا دیتا۔ حالانکہ آپ جاتنے ہیں کہ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ اگر ہم جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھا سکتے ہیں تو اسے ہمارا کردار کا نقص نہ سمجھیں اسے آرٹ سمجھیں۔ ہم سا آرٹسٹ اور کہاں ملے گا۔

بھائیو تے بہنوں، ہم خبردار کئے دے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے ”چتاؤنی دی ہے کہ جولائی کے آخر تک پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد دو لاکھ ہو سکتی ہے۔ بھائی جی احتیاط کر لیں ورنہ لکیر پیٹنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ سردار سنتا سنگھ اپنی موٹر سائیکل پر اپنی بیگم اپنی سالی اور خیر سے پانچ بچوں کو بٹھا کر فراٹے بھرتے جا رہا تھے۔ پولیس والے نے روکا اور کہا کہاں جا رہے ہیں بنتا سنگھ بولے بچے ضد کر رہے تھے انہانوں لاک ڈاؤن وکھاریا ہاں۔ شوقینو رنگ بازو بس ایک نظر دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کو دیکھ لو۔ ٹرمپ ورگا خر دماغ اپنی آکڑ بھول چکا ہے۔ یہ ایک بھیانک وبا ہے میں کہے دیتا ہوں کا کا بچ موڑ توں بعد میں نہ کہنا یہ بھل چک لین دین والا معاملہ نہیں ہے۔ کورونا کے دوران آندھی چلی تو سنتا سنگھ کے ہمسائی کا دوپٹہ اڑ کر اس کے آنگن آگرا۔ سنتا نے صبح اسے خوشبو والے صابن سے دھویا اسے پیکوکرایا اور دوپٹہ لیکر ہمسائی کے گھر پہنچ گیا۔ وہ باہر آئی تو سنتا سنگھ نے انتہائی رومانٹک انداز میں کہا، جانو آپ کا دوپٹہ اڑ کے آ گیا تھا۔ ہمسائی بولی فٹے منہ تہاڈا ایہہ تے باپو دی دھوتی سی۔ بھیا میرے پاکستانی شناختی کارڈ ہولڈر آئی ایم ایف کی کورونا امداد یہ اتنا خوش نہ ہو۔ یہ پینو کا دوپٹہ نہیں باپو کی دھوتی ہے۔ اتنا دینگے نہیں جتنا پھر ادا کرنا پڑ جائے گا۔ امتحان سا امتحان ہے اور اس میں کسی کمپارٹ کی گنجائش ہی نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -