وزیر فوڈ سیکیورٹی کا خط صوبوں کے نام

وزیر فوڈ سیکیورٹی کا خط صوبوں کے نام

  

فوڈ سیکیورٹی کے وفاقی وزیر سید فخر امام نے کہا ہے کہ گندم کی سرکاری خریداری کی مہم سست روی کا شکار ہے۔ صوبوں کو تیزی سے گندم خریدنے کی ضرورت ہے تاکہ 82 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف پورا کیا جا سکے۔ ستمبر تک ڈرائی سیزن میں آٹے کی وافر فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے فلور ملز کے پاس گندم کے نجی ذخائر ہونا بہت ضروری ہیں لیکن ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ فلور ملوں کو گندم خریداری سے روکا جا رہا ہے۔ فلور ملز کو خریداری سے روکنے سے مارکیٹ میں عدم تحفظ اور بے چینی پیدا ہو گی آٹے کی طلب اور رسد میں فرق بڑھے گا۔ وفاقی وزیر نے سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے اور آٹے کی قیمت میں اضافے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اپنے خط میں وفاقی وزیر نے دونوں وزرائے اعلیٰ سے کہا ہے کہ وہ گندم خریداری کے معاملات پر ذاتی طور پر توجہ دیں۔ سیڈ کمپنیوں کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ انہیں آئندہ فصل کے بیج کے طور پر بھی گندم خریدنے سے روکا جا رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ صوبائی محکمہ خوراک اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی طور پر محتاط ہیں لیکن ان کے اس اقدام سے گندم کے بیج کی دستیابی کا بحران آ سکتا ہے۔

گندم بنیادی طور پر دو ہی صوبوں یعنی پنجاب ا ور سندھ کی فصل ہے۔ باقی ملک کی گندم کی ضروریات یہی دو صوبے پوری کرتے ہیں، مزید براں افغانستان میں جو گندم یا آٹا فروخت ہوتا ہے وہ بھی پنجاب یا سندھ ہی سے جاتا ہے۔ اگر دونوں اشیا کی قانونی برآمد نہ بھی ہو رہی ہو تو سمگلر اس خلا کو پر کرتے ہیں۔ اگر پنجاب اور سندھ اپنے ہدف کے مطابق بروقت گندم خرید کر ذخیرہ نہ کر سکیں تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ گندم اور آٹے کا بحران پیدا ہوگا۔ آٹے کے جس بحران کی ابھی تک تحقیقات ہو رہی ہے وہ بھی اس لئے آیا تھا کہ سندھ نے اپنی ضرورت کے مطابق گندم نہیں خریدی تھی پنجاب میں محکمہ خوراک نے بڑی مقدار میں ایسی فلور ملوں کو بھی گندم کا کوٹا جاری کر دیا جو سال ہا سال سے بند پڑی تھیں اور صرف کوٹے کی خاطر ان کا اندراج سرکاری کاغذات میں موجود تھا یہ سب کچھ محکمہ خوراک کی سرپرستی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جس کا دوہرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اول تو ان فلور ملوں کو ضرورت کے مطابق گندم نہیں ملتی جو اپنی پوری استعداد سے چل رہی ہوتی ہیں اور دوسری جانب ایسی بند فلور ملوں کو کوٹہ مل جاتا ہے جو وہ منافع لے کر آگے فروخت کر دیتی ہیں۔ آٹے بحران کے دنوں میں یہی کچھ ہو رہا تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اس بحران کی جو تحقیقات اب تک سامنے آئی ہیں ان میں ان وجوہ کا تذکرہ تک نہیں۔

اس وقت پنجاب اور سندھ میں گندم کی خریداری سست روی سے جاری ہے۔ اس کی دو وجوہ میں ایک تو کورونا کا پھیلاؤ اور دوسرا غیر یقینی موسم ہے۔ بے موسمی بارشوں سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار بھی کم ہو گئی۔ اب تک موسم بے اعتبار ہی چل رہا ہے۔ اپریل کے اس آخری ہفتے میں بھی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان حالات میں ضرورت تھی کہ گندم تیزی سے خریدی جاتی اس کا فائدہ کسانوں کو بھی پہنچتا اور وسیع تر مفاد میں گندم بروقت محفوظ بھی ہو جاتی لیکن خریداری میں تیزی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے فوڈ سیکیورٹی کے وفاقی وزیر کو وزرائے اعلیٰ کو خط لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔پنجاب اور سندھ میں جتنی گندم پیدا ہوتی ہے وہ ساری کی ساری خریدی نہیں جا سکتی اگرچہ دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے کہ گندم کا دانہ دانہ خریدا جائے گا اور کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا لیکن ہم نے کاشتکاروں اور کسانوں کو اپنی گندم کی فروخت کے سلسلے میں خجل خوار ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، گندم کی فروخت کے سلسلے میں بنیادی کردار بار دانے کا ہوتا ہے۔ بڑے اور با اثر زمینداروں اور ارکانِ اسمبلی کو ان کی ضرورت سے بھی زیادہ بار دانہ مل جاتا ہے لیکن چھوٹے کسان محروم رہ جاتے ہیں۔ چند روز اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کر کے بھی جنہیں بار دانہ نہیں ملتا وہ مجبوراً اپنی گندم آڑھتیوں کو سستے داموں فروخت کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کاشتکاروں نے بیج، کھادیں اور دوسرے زرعی مداخل اُدھار خریدے ہوتے ہیں اور ادائیگی کے لئے ان پر دباؤ ہوتا ہے۔

گندم کی پوری فصل سرکاری طور پر خریدنا تو ممکن نہیں ہوتا اس لئے فلور ملیں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے اس موسم میں گندم خریدتی ہیں اور بعض جدید فلور ملوں نے اپنے سائیلوز بھی بنائے ہوئے ہیں جو گندم ذخیرہ کرنے کا جدید اور محفوظ طریقہ ہے۔ سرکار جو گندم خریدتی ہے اسے ذخیرہ کرنے کے انتظامات غیر تسلی بخش ہیں، گودام ضرورت کے مطابق ناکافی ہیں اس لئے کھلی جگہوں پر گندم سٹور کر کے اوپر ترپال ڈال دیئے جاتے ہیں ان ترپالوں کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے جو محکمے ان ترپالوں کی خریداری کے ذمے دار ہوتے ہیں وہ کاغذوں میں تو معیاری ترپال دکھاتے ہیں لیکن عموماً ان کی کوالٹی ناقص ہوتی ہے کیونکہ قواعد کے مطابق جو ترپال خریدے جانے چاہئیں وہ کسی کو ”وارا“ نہیں کھاتے نہ خریدنے ولوں کو اور نہ ہی فروخت کرنے والوں کو۔ کیونکہ اگر ایک بار کا خریدا ہوا ترپال ہی پانچ دس سال استعمال ہوتا رہے تو خریدنے اور بیچنے والوں کی دکانیں بند ہو جائیں گی چنانچہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ناقص ترپال خریدیں تاکہ ہر سال خریداری ہوتی رہے اور انہیں اس خریداری کا حصہ رسدی پہنچتا رہے پھر بھی ہر سال لاکھوں ٹن گندم بارشوں میں بھیگ کر ناقابل استعمال ہو جاتی ہے۔ یہ بھیگی ہوئی گندم بعض اوقات اتنی زیادہ خراب ہو جاتی ہے کہ جانوروں کی خوراک کے قابل بھی نہیں رہتی۔ اس لئے ضرورت تو یہ ہے کہ گندم خریدنے کے ساتھ ساتھ ذخیرہ کرنے کے انتظامات بھی بہتر بنائے جائیں لیکن اس جانب یا تو توجہ نہیں ہے یا پھر دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے اس کے مقابلے میں جدید فلور ملوں کے پاس بہتر انتظامات ہوتے ہیں لیکن جیسا کہ سید فخر امام کے خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلور ملوں کو گندم خریدنے نہیں دی جا رہی ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت تو پوری پیداوار خرید نہیں سکتی اس لئے اگر فلور ملیں بھی نہیں خریدیں گی تو پھر یہ گندم کہاں جائے گی؟ ظاہر ہے اسے آڑھتی خریدیں گے یا سمگلر۔

گندم کا بیج بھی ہر سال کی فصل کی تیاری کے دنوں ہی میں خریدا جاتا ہے اور سیڈ کمپنیاں اسے کیڑے وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ٹریٹ کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کی یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ انہیں بیچ کے لئے گندم کی خریداری سے روکا جا رہا ہے۔ اگر یہ شکایت درست ہے تو اس کے بھی فوری ازالے کی ضرورت ہے۔ اگر سیڈ کمپنیاں اب محفوظ بیچ کے لئے گندم نہیں خریدیں گی تو پھر کاشت کے وقت اچھا بیچ بھی دستیاب نہیں ہوگا۔ اچھی فصل کے لئے اعلیٰ قسم کے بیج نا گزیر ہیں اور ملک کو گندم میں خود کفیل بنانے میں ان بیجوں کا بھی کردار ہے اس لئے اچھے بیج کی وافر دستیابی کے لئے سیڈ کمپنیوں کی شکایات دور کرنا بھی ضروری ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -