ہر ماضی اچھاہوتا ہے،”چڑی روزہ”اور ”چھکے پر روزہ“

ہر ماضی اچھاہوتا ہے،”چڑی روزہ”اور ”چھکے پر روزہ“
ہر ماضی اچھاہوتا ہے،”چڑی روزہ”اور ”چھکے پر روزہ“

  

گزشتہ روز عرض کیا تھا کہ ارادہ بچپن اور لڑکپن والے ماہ رمضان کے ذکر کا مقصود لیکن ذہنی رو حالات حاضرہ کی طرف بہک گئی تھی، جس کی وجہ سے ”چڑی روزہ“ اور ”چھکے پر روزہ“ کا بھی ذکر نہ کیا جا سکا، ایک دو قارئین نے چڑی اور چھکے کے الفاظ سے تاثر لیا، شائد یہ کاک ٹینس والے کھیل کی بات ہے، جسے عرف عام میں ”چڑی، چھکا“ کہتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں یہ تو ہمارے بزرگوں کی ذاتی اصطلاع تھی جو ننھے بچوں کے روزے اور ان کے بہلانے کے لئے استعمال کی جاتی تھی اور ہماری ضد کو پورا کرنے کے لئے ہماری دادی جان کبھی ہمارا روزہ ”چڑی روزہ“ قرار دیتیں اور کبھی یہ کہتیں کہ میرے بیٹے کا روزہ تو ”چھکے“ پر ہے، چھکے سے مراد وہ ٹوکری ہوتی جو ہمارے گھروں میں چولھے کے اردگرد لٹکا کر رکھی جاتی اور اس میں عموماً لہسن، پیازوغیرہ ہوتا،یہ ”چھکا“ لوہے کی پٹیوں سے بنا ہوتا تھا۔اس معمولی وضاحت کی شروع میں ضرورت ابہام دور کرنے کے لئے تھی، ورنہ تو اس ماہ رمضان کے حوالے سے اپنا بچپن اور لڑکپن یاد آیا تھا، آج ہم سالوں بعد ایک ان دیکھی وبا ایک نامعلوم جرثومے (جسے کرونا کا نام دیا گیا) کی تباہ کاریوں کے باعث گھر میں محبوس دفتری کام بھی زیادہ تر آن لائن کرنے پر مجبور ہیں اور وہ رمضان کی تمام تر رونقیں ہوا ہو گئی ہیں، جو ہم عبادت کے ساتھ نام و نمود اور نمائش کے لئے بھی اختیار کئے ہوئے تھے۔ اسی سے گزرا ہوا زمانہ یاد آیا اور ”جبری قرنطینہ“ کے اس دور میں ذہن نے تقابل بھی کیا کہ ہمارے بچپن اور لڑکپن کا دور کتنا بہتر، سادہ، پاکیزہ اور عقیدت والا تھا جس میں نام و نمود اور فیشن کی گنجائش ہی نہیں تھی کہ روایات کے پابند لوگ تھے۔ اس دور میں نام بنانے کے لئے نیاز دی جاتی اور دیگیں زیادہ پکتی تھیں۔

ہماری پیدائش اندرون شہر اکبری دروازہ کے محلہ باغیچی صمدو میں ہوئی۔ یہ بھی عرض کر دیا ہوا ہے کہ اس محلہ اور ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل تھا کہ کشف المعجوب کے مترجم اور جمعیت علماء پاکستان کے بانی صدر علامہ ابوالحسناتؒ کا سایہ شفقت حاصل تھا اور ہم سب پیدائش سے جوانی تک یہیں کھیلے کودے اور تعلیم حاصل کی۔ ہمارے والدین یہاں قریباً ڈیڑھ مرلے کے ڈھائی منزلہ مکان میں رہتے تھے۔ اس مکان میں پہلی منزل پر کوئی الگ کمرے نہیں تھے اگلے اور پچھلے حصے کو درمیانی در تقسیم کرتے جو لکڑی کے تھے اور یہاں پردے ڈال کر علیحدگی پیدا کی گئی، البتہ دوسری منزل کو دالان یا صحن اور ایک بڑے کمرے کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا اور یہاں بھی لکڑی استعمال ہوئی، جبکہ چھت پچھلے حصہ پر تھی، اس صحن کے ایک کونے میں بیت الخلاء تھا جبکہ موسم سرما کے لئے چولہا بھی باہر بنا تھا، ورنہ پہلی منزل پر غسل خانہ اور ایک طرف چولھے چوکے کا انتظام تھا، ہماری دادی جان تو ناشتہ، چاء (خصوصاً سردیوں میں) یہیں کوئلے والی انگیٹھیوں پر تیار کرکے ہمیں کھلاتی تھیں، یہ بڑا سادہ دور تھا، محلے داری تھی، ایک دوسرے کا احترام ہوتا اور ہمسائے کا احساس بھی تھا،ہمارے بڑوں میں اخوت کا جو رشتہ تھا وہ بہن بھائیوں جیسا ہوتا، ہم نے بھی زندگی بھر اپنے والدین کے ان منہ بولے بہن بھائیوں کو پھوپھی اور چچا ہی جانا اور جوابی طور پر پیار اور دلار بھی ملا۔

ہم نے جب بچپن میں چلنا پھرنا، بولنا اور شرارت کرنا سیکھا تو معاشرتی روایت کے مطابق عربی قاعدہ تھما کر محلے کی ایک چھوٹی مسجد میں بٹھا دیا گیا۔ یہ مسجد محلے کے پانی والے کنوئیں سے بھی منسلک اور ایک حصے پر چھت کا بھی کام دیتی تھی، کنواں پینے کے پانی سے لے کر غسل کے لئے بھی کام آتا تھا اور یہ سلسلہ نلکے آ جانے کے بعد بھی جاری رہا کہ گھروں میں کنکشن تاخیر سے ملنے لگے تھے، بہشتی چاچا پہلے کنویں ہی سے پانی لے کر چھتوں تک پہنچاتے اور نل آ جانے کے بعد محلے کے درمیان والے سرکاری نلکے سے مشکیزے بھرتے تھے، یہ سلسلہ یونہی جاری تھا، ایک خوشگوار ماحول میں آنکھ کھولی، جب بڑوں کی عزت، ان کی ڈانٹ کا خوف اور اثر ہوتا تھا، یونہی ہماری پرورش ہوئی اور اسی چھوٹی مسجد سے عربی قاعدہ اور سپارہ پڑھتے پڑھتے پرائمری کے لئے سکول چلے گئے۔

بات تو روزوں اور ماہ رمضان کی مقصود تھی لیکن اس ماحول کا ذکر کئے بغیر شائد دل کو تسلی نہ ہوئی تو قارئین! اسی معاشرتی ماحول اور اقدار کے دوران علاقائی، موسمی اور دینی تہوار آتے تو مل جل کر منائے جاتے تھے، اس ساری تفصیل سے یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ ہر چیز، سب کچھ بالکل ہی اچھا تھا، ہم نے مجموعی کیفیت کا ذکر کیا ہے، اگرچہ تنازعات بھی ہوتے۔ ہم لڑکے ہی ایک دوسرے سے جھگڑ لیتے تھے، تاہم دستور یہ تھا کہ سب والدین اپنے بچوں کو ڈانٹتے، محلے کے بزرگوں کا احترام ہوتا اور کبھی کوئی جھگڑا ہوتا تو نوبت تھانے تک نہیں جاتی معاملہ محلے ہی میں نمٹ جاتا اور تنازعہ طول نہیں پکڑتا تھا، اسی ماحول میں رمضان المبارک کا انتظار ہوتا اور مرد و زن اور ہم بچے بڑے شوق سے چاند دیکھنے چھتوں پر چڑھتے۔

آلودگی نام کو نہیں تھی اور چاند واضح نظر آتا تھا، ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارک دی جاتی اور خوشی کا اظہار ہوتا۔ ہم نے اپنی زندگی کی حالیہ طویل اننگ میں گرمیوں اور سردیوں کے رمضان والے ایک سے زیادہ مہینے دیکھے ہوئے ہیں اور اس دور کی مبارک ساعتوں اور پاکیزگی کے ساتھ بہتر عمل والی زندگی ہی کے باعث ہم بچوں اور لڑکوں میں روزہ رکھنے کا ذوق اور شوق پیدا ہوتا رہا اور الحمدللہ اب تک روزے رکھنے چلے آئے ہیں، صرف ایک سال ایسا آیا جب مجبوراً تیرہ روزے نہ رکھ سکے، یا شائد کبھی کسی بہت مجبوری کے باعث ایک آدھ روزہ نہ رکھا ہو، اللہ کے کرم سے آج بھی یہ سطور روزہ ہوتے ہوئے تحریر کی جا رہی ہیں، اگرچہ ہمارے معالج ڈاکٹر تو ہمیں استثنیٰ دے چکے ہوئے ہیں، لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں، بچوں نے بھی احتیاطاً معالج کی رائے سے اتفاق ظاہر کیا، تاہم مان گئے کہ اللہ کا نام لے کر شروع کرتے ہیں نبھ ہی جائیں گے۔ توقع ہے کہ رحمت ہو ہی جائے گی۔

بات تو بچپن اور لڑکپن کی کرنا تھی، بہرحال ماحول کی نشاندہی سے قارئین کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پرورش کا دور کیسا تھا، چنانچہ جب بھی رمضان آتا، ہم بھی سحری کو اٹھ کر بیٹھ جاتے اور روزہ رکھنے کی ضد کرتے، ہماری دادی جان ہمیں سحری کھلاتیں، دیسی گھی کے پراٹھے، سالن اور دہی کا اپنا ہی مزہ ہوتا تھا، ہماری دادی جان تشریح کرتیں، ہمارے بیٹے نے ”چڑی روزہ“ رکھا ہے۔ ان کی وضاحت یہ تھی کہ چڑیا بھی روزہ رکھتی ہے اور دن میں کئی بار چونچ سے پانی پی لیتی ہے، لہٰذا ہمارا بیٹا بھی ایسا کر سکتا ہے اور ہم یہی کرتے اور دوستوں کو سناتے ہمارا ”چڑی روزہ“ ہے۔ اس سے اگلی باری چھِکے پر روزہ کی تھی۔ جب ذرا اور بڑے ہوئے تو ضد کی۔ دادی جان، والد صاحب اور والدہ نے نئی ترکیب بتائی اور کہا، چلو تم روزہ رکھ لو، لیکن ”چھکے“ پر ہو گا، کہ جب زیادہ طلب اور بھوک بڑھے تو ”چھکے“ سے روزہ اتار کر پھر وہیں رکھ دینا تو یوں ہمارے روزوں کی ابتدا ہوئی اور پھر ہم نے باقاعدہ روزے بھی لڑکپن ہی میں رکھنا شروع کر دیئےّ سحری کا اہتمام عرض کر چکا، افطار میں ”کتیرہ گوند“ اور ”تخم لنگاں“بھگو کر آمیزہ بنتا اور یہ دودھ میں ملا کر پلایا جاتا کہ اس سے روزے کی گرمی دور ہوتی ہے۔ کبھی کبھار بازار سے پکوڑے آتے یا پھر گھر میں بھی بنا لیتے تھے۔

مجموعی طور پر اسی سادہ انداز سے روزے گزرے، محلے داری کا رواج تھا کہ اچھے کھانے اور اچھی افطار کا تبادلہ بھی ہوتا تھا، تراویح کے لئے ڈانٹ پڑتی اور پڑھنا ہوتی تھیں، جبکہ ذرا بڑے ہوئے تو سحری جگانے والی ٹولیوں کا حصہ بنے اور نعتیں پڑھتے، روزہ داروں کو جگاتے تھے، وہ دور خلوص، پیار اور بہترین لگاؤ کا تھا، جب رمضان کی خوشی عیدالفطر پر اور دوبالا تر ہو جاتی۔ عیدی لے کر میلے پر جانے کا شوق آج بھی آنکھوں کے سامنے گردش کرتا ہے۔ دل دکھتا ہے کہ زمانہ کیا سے کیا ہو گیا اور یہ مہینہ تو یوں بھی جبری پابندیوں کا ہے، اللہ کرے کہ ہم سب کو توبہ کی توفیق عطا فرما دے اور قبول بھی کر لے۔ (قارئین! یہ موضوع طویل اور کتاب کا ہے، کالم قدرے طویل ہوا، معذرت قبول فرمایئے۔ اب بھی اظہار میں کمی کا احساس ہے)۔

مزید :

رائے -کالم -