ملیریا قابل ِ علاج ہے، احتیاط کریں، محفوظ رہیں

ملیریا قابل ِ علاج ہے، احتیاط کریں، محفوظ رہیں
ملیریا قابل ِ علاج ہے، احتیاط کریں، محفوظ رہیں

  

ملیریا کا مرض متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ملیریاکو ایک متاثرہ ماں پیدائش کے وقت بچے کو منتقل کر سکتی ہے جسے ”پیدائشی ملیریا“ کہتے ہیں۔ملیریا کا مرض خون کے ذریعے پھیلتا ہے،لہٰذا ملیریا کے مریض کے اعضاء کی پیوند کاری، انتقال خون اور مریض کی استعمال شدہ سرنج ملیریا کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔یہ مرض پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے اور یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے جب یہ مرض خون کی نالیوں میں شامل ہو کر دماغ میں چلا جائے یا پھیپھڑوں میں سیال کی شکل میں جمع ہو تو سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مرض گردوں، جگر اور تلی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ملیریا خون کے سرخ جرثوموں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جسم میں خون کی کمی کرتا ہے اور کم بلڈ پریشر کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس وقت دُنیا کی تقریباًآدھی آبادی ملیریا کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس مرض سے اب تک دنیا میں دس ملین لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور ہر سال 500ملین افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال 4لاکھ سے زیادہ افراد ملیریا کے مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ علاج کی سہولت نہ ہونے یا علاج تک رسائی نہ ہونے کی بنا پر دنیا میں ملیریا سے ہر دو منٹ بعد ایک بچہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔اس مرض کے 70فیصد مریض دنیا کے 11 ممالک میں پائے جاتے ہیں جن میں 10 ممالک براعظم افریقہ میں ہیں۔ملیریا مون سون اور بارشوں اور گندگی والے علاقوں میں زیادہ پھیلتا ہے۔

ملیریا کی روک تھام کے لئے ابھی کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی ہے۔لہٰذا معلومات،آگاہی، بروقت تشخیص اور علاج سے ملیریا کے عالمی بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس مرض کے بارے میں شعور اور معلومات کے فروغ کی خاطر ہر سال 25اپریل ملیریا کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد متاثرہ ممالک میں شہریوں کو ملیریا سے بچنے کے اقدامات سے آگاہ کرنا، کمیونٹی، قومی اور عالمی رہنماؤں کو اس کے خاتمے میں شامل کرنا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کے خطرناک اثرات سے مطلع کرنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس سال کے ملیریا کے عالمی دن کا خصوصی پیغام ”زیرو ملیریا“دیا ہے۔ اور اس امر پر زور دیا ہے کہ ”زیرو ملیریا مجھ سے شروع ہوتا ہے“۔گویا ہر شخص اس کے خاتمے کے لئے کوششوں کا حصہ بن سکتا ہے، جن میں اشخاص سے لے کر ادارے، معاشرے کے فعال افراد، سیاسی رہنما، مقامی و قومی حکومتیں، مذہبی رہنما، پالیسی اور فیصلہ ساز ادارے، نجی شعبہ کی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ کمیونٹیز کو با اختیار بنایا جائے کہ وہ ملیریا کے خلاف احتیاط اور تحفظ میں ذمہ دارانہ رویہ اور OWNERSHIP کامظاہرہ کریں۔

ملیریا ایک قابل علاج اور قابل شفا مرض ہے تاہم بگڑ جانے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس کی وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ ملیریا کی علامات میں، تیز بخار، کافی پسینہ آتے رہنا، سر درد متلی، قے پیٹ درد، اسہال کی شکایت، شدید سردی لگنا، جسم درد، کمزوری، تھکاوٹ اور کھانسی شامل ہیں۔ عام طور پر جب ملیریا کا حملہ ہوتا ہے تو ابتدا میں شدید سردی اور کپکپی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد بخار اور پسینے آتے ہیں۔ ملیریا کی تشخیص کے لئے مریض کی ہسٹری جاننا ضروری ہے۔ مریض کے خون کے ٹیسٹ سے مرض کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تجزیاتی ٹیسٹ اور علامات سے مرض کا پتا چل جاتا ہے۔ ملیریا متعدی مرض نہیں اور نزلہ یا فلو کی طرح نہیں پھیلتا۔ تاہم ملیریا سے محفوظ رہنے کے لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔مچھروں سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنا چاہئے۔پوری آستین کی قمیض پہنی جائے اور نیکر وغیرہ استعمال نہ کی جائے۔ رات کو سوتے وقت مچھر مار تیل لگایا جائے اور مچھر دانی میں سویا جائے، بالخصوص برسات اور مون سون کے دنوں میں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ملیریا بچاؤ کی ادویات استعمال کرنا چاہیئں۔ان احتیاطوں کے علاوہ ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے جہاں یہ وبا پھیلی ہو اور مچھروں کی بہتات ہو۔ غیر متوقع موسمی حالات میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ گند، کوڑے اور تعفن زدہ علاقے اور ماحول سے بچا جائے۔ کھڑے پانی کے قریب نہ جایا جائے اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کیا جائے۔

ملیریا کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کیا جائے اور ٹیسٹ یا تشخیص کرائی جائے۔ ملیریا ہو جانے کی صورت میں فوری علاج پر توجہ دی جائے۔ مختلف علاقوں اور خطوں میں اور مرض کی نوعیت کے اعتبار سے اس کا علاج مختلف ہو سکتا ہے۔پاکستان میں ملیریا کے مرض کی صورت حال تسلی بخش نہیں۔ہر سال ہمارے ہاں ملیریا کیسز کی تعداد 3.5 ملین ہوتی ہے۔مون سون اور بارشوں کے بعد اس مرض میں خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔پاکستان میں ہر سال اگست تا نومبر50 ہزار افراد اس مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ مرض ملک میں ہلاکتوں کا باعث بننے والی چوتھی بڑی بیماری ہے۔پاکستان کی 60فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں کا یہ علاقائی مرض ہے۔ خاص طور پر پانچ سال تک کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ وقت پر تشخیص، علاج اور احتیاط سے ہزاروں بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں انسداد ملیریا کے لئے نیشنل ملیریا کنٹرول پروگرام، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے 1947ء میں شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت ملیریا کے مرض کی حفاظتی تدابیر پر آگاہی، علاج، تشخیص اور اس سے متعلق ضروری اعدادو شمار کا جمع کرنا شامل ہیں۔ اس پروگرام کی بدولت اس مرض پر قابو پانے میں بہت مدد ملی ہے اور اموات میں کمی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن بھی سرکاری اور غیر سرکاری علاج گاہوں میں صحت کی خدمات کی فراہمی کے معیار کو بہتر، محفوظ اور مستند بنانے کے لئے ہدایات، رہنمائی اور قانون سازی کرتا ہے تاکہ علاج کو باضابطہ بنایا جا سکے۔ کمیشن علاج گاہوں میں علاج میں غفلت، بے ضابطگی اور بد عنوانی کا نوٹس بھی لیتا ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن علاج کے معیار کا تعین بھی کرتا ہے، اور اس پر عمل در آمد کے لئے علاج گاہوں کی راہ نمائی و تربیت بھی کرتا ہے۔اس سلسلے میں علاج گاہوں کا کمیشن سے قانونی طور پر لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاکہ ملیریا اور دیگر خطرناک مرض کی معیاری تشخیص اور علاج کو ممکن بنایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -