مولانا طارق جمیل سے غلطی کہاں ہوئی؟

مولانا طارق جمیل سے غلطی کہاں ہوئی؟
مولانا طارق جمیل سے غلطی کہاں ہوئی؟

  

بے شک مولانا طارق جمیل اس عہد کے جید عالم دین اور بے مثل خطیب ہیں تاہم اُنہیں عمران خان سے دوستی مہنگی پڑ رہی ہے۔اُن کی ساری مخالفت کا اگر سرا ڈھونڈیں تو کھرا یہی نکلے گا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی بہت تعریف کرتے ہیں، کورونا متاثرین کے لئے فنڈ جمع کرنے کی ٹیلی تھان ٹرانسمیشن نشریات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اجتماعی دُعا کے لئے اُنہیں منتخب کیا۔ سچی بات ہے وہ دُعا ایک عاجز و بے کس قوم کی دُعا تھی، میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ مولانا طارق جمیل نے جب یہ کہا کہ مَیں تو کیمروں کے سامنے بیٹھا رو رہا ہوں، شاید میرے رونے میں ریا کاری ہو،لیکن جو لوگ گھروں میں بیٹھے اے اللہ تیرے آگے گڑ گڑا رہے ہیں،آنسو بہا رہے ہیں کم از کم اُن کی فریاد ہی سن لے، تو میری آنکھوں سے جھڑی مزید تیز ہو گئی۔ واقعی اُس وقت رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔یوں لگا کہ جیسے ہم سب اللہ کے حضور اپنے گناہوں، خطاؤں، حکم عدولیوں، زیادتیوں اور برائیوں کی صدقِ دِل سے معافی مانگ رہے ہیں۔ اس دُعا میں ٹی وی چینلز کے معروف اینکرز بھی شامل تھے وہ بھی دست ِ بدعا تھے،لیکن بعد میں اُنہوں نے اپنے پروگراموں میں جاتے ہی مولانا طارق جمیل پر چڑھائی کر دی کہ انہوں نے22کروڑ عوام کو بُرا کیوں کہا، کیوں یہ تسلیم کیا کہ ہم گنہگار، ریا کار، جھوٹے اور نافرمان ہیں، طوفان اتنا بڑھا کہ مولانا طارق جمیل کو میڈیا کے بارے میں کہے گئے الفاظ پر معافی مانگنا پڑی، ویسے معافی مانگنے میں پہل کرنے کی وہ ہمیشہ تبلیغ کرتے رہے ہیں تاہم اس بار انہوں نے ثابت بھی کر دیا۔

سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان سا برپا ہو گیا کہ مولانا طارق جمیل نے پوری قوم کو خائن، بددیانت، مکار، عیار اور نافرمان کیوں کہاں اور مَیں یہ سوچ سوچ کر اپنے ذہن کو ہلکان کرتا رہا کہ مولانا طارق جمیل نے کسی شخص، کسی دنیاوی طاقت، کسی وقت کے یزید کو سامنے رکھ کر یہ سب کچھ کہا،وہ کس کے سامنے پوری قوم کی کوتاہیوں کو تسلیم کر رہے تھے، اُس اللہ تعالیٰ کے سامنے جو عاجزی کو پسند کرتا ہے، جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے گناہوں کو تسلیم کر کے اُس سے معافی مانگی جائے۔ یہ پیغمبروں اور صوفیوں کا راستہ ہے کہ خود کو معتوب و مصلوب قرار دے کر خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اس میں کون سی غلطی ہے کہ ہم خود کو گناہوں میں ڈوبا ہوا تسلیم کر کے اللہ سے معافی مانگیں۔کیا ہم اکڑ جائیں کہ بہت نیک ہیں، پارسا ہیں، ایماندار ہیں، سچے ہیں،دیانت دار ہیں غرض ہر نیکی و اچھائی اپنے اندر ظاہر کر کے یہ ضد کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما، کیا ہم اپنے کسی وعدے کی بنیاد پر اللہ سے اپنا حق طلب کر سکتے ہیں، کیا پیغمبروں نے ایسا کیا، کیا ولیوں، صوفیوں اور اللہ والوں نے ایسا دعویٰ کیا، کیا دُعا مانگنے کا کبھی یہ طریقہ کسی نے دیکھا یا سنا کہ اپنی نیکیاں گنوا کر خدا سے اُن کے بدلے میں رعایت مانگی جائے، کیا انسان اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا بدلہ چکا سکتا ہے، تو پھر مولانا طارق جمیل نے کیا غلط کیا ہے۔

کیا ہم بحیثیت قوم اخلاقی زوال کا شکار نہیں،کیا اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کا جو راستہ بتایا ہے ہم اسی کے خلاف زندگی نہیں گزار رہے، کیا ماہِ رمضان میں ناجائز منافع کے لالچ میں ہم ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور مصنوعی مہنگائی نہیں کرتے۔کیا ہمارے نظام میں رشوت کی گرم بازاری موجود نہیں۔ کیا اربوں روپے کی لوٹ مار ہمارے نظام کا حصہ نہیں،کیا مظلوموں پر ظلم ڈھانے والے ہمارے معاشرے میں دندناتے نہیں پھرتے، کیا جھوٹ مکر و فریب ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں،ہم ایک دوسرے سے تو اِن باتوں کو چھپا سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے، وہ تو دِلوں کے حال جانتا ہے، اُس کے سامنے اگر ہم اِن گناہوں کا اقرار کئے بغیر معافی کے طلب گار ہوں تو کیا معافی ملے گی؟ کیا معافی مانگنے کا یہی انداز ہوتا ہے؟

مولانا طارق جمیل بھی ایک انسان ہیں، انسان میں بشری کمزوریاں بھی ہوتی ہیں،وہ بھٹک بھی جاتا ہے اور اُس کے خیالات کی رو کہیں جھول بھی کھا جاتی ہے۔ میرے نزدیک اُن سے دو جگہوں پر زیادتی ہوئی۔ وہ یہ نہ کرتے تو شاید انہیں اتنا زیادہ تنقید کا نشانہ بھی نہ بننا پڑتا۔وہ اِن دو باتوں سے اجتناب بھی کر سکتے تھے،لیکن دُعا کی روانی میں وہ یہ باتیں کہہ گئے، اتنی طویل دُعا میں ایک دو جملوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،لیکن جب توجہ دینے والے نظر ہی کسی ایسی بات پر رکھے بیٹھے ہوں تو پھر صرف وہی باتیں یاد رہ جاتی ہیں،انہوں نے ایک تو یہ کہا کہ وزیراعظم عمران خان کوایک اُجڑا اور لٹا پھٹا چمن ملا، جسے وہ اکیلے سنوارنے اور آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ عمران خان ایک ایماندار، سچا اور کھرا بندہ ہے، اُن کی یہ دونوں باتیں تھوڑا سیاسی رنگ لئے ہوئے ہیں، جب وہ22کروڑ پاکستانیوں کے گناہوں، برائیوں، خرابیوں اور بد اعمالیوں کو اللہ کے سامنے تسلیم کر چکے تھے، تو انہیں کسی ایک بندے کو ایمانداری کی سند جاری نہیں کرنی چاہئے تھی۔

یہاں ایسا لگا کہ جیسے وہ اُس دھیان میں نکل آئے ہوں،جس میں محو ہو کو خضوع و خشوع سے دُعا مانگ رہے تھے، جیسے انہیں یکدم یہ خیال آ گیا ہو کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے ہیں اور سامنے وزیراعظم عمران خان بھی موجود ہیں، اِس لئے اُن کو رعایت دینی چاہئے، حالانکہ وہ یہ رعایت دینے کے مجاز ہی نہیں تھے کہ معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دیا گیا تھا۔ مجھے بھی مولانا طارق جمیل کی اس بات سے اتفاق نہیں کہ عمران خان کو ایک اجڑا ہوا چمن ملا، اللہ نہ کرے پاکستان کبھی اجڑے، لگتا ہے مولانا طارق جمیل جو لفظوں کے بادشاہ ہیں، یہاں الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے چُوک گئے۔ کہنا وہ یہ چاہتے تھے کہ پاکستان معاشی مشکلات میں گھرا ہوا تھا، جب وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا، مگر وہ پاکستان کو اجڑا ہوا چمن کہہ گئے۔ اب ظاہر ہے ایک عالم دین جب حاکم وقت کی اتنے کھلے الفاظ میں تعریف کرے اور وہ بھی کسی ایسے ملک میں جہاں بادشاہی نظام نہیں، جمہوریت ہو، تو اُسے سیاسی رنگ ہی دیا جائے گا۔

ٹی وی اینکرز نے مولانا طارق جمیل کو اس بات پر آڑے ہاتھوں لے کر کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جھوٹ اور فریب کی آماجگاہ ہے، اُن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ وہ معافی مانگ کر ایک سائڈ پر ہو گئے، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ ٹی وی اینکرز دِل بڑا کرتے اور مولانا طارق جمیل کی باتوں کو اُن کی رائے سمجھ کر قبول کر لیتے، فیصلہ تو قوم نے کرنا ہوتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، مگر اس طرح کا ردعمل ظاہر کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ میڈیا ایک مقدس گائے ہے،اُس کے بارے میں جو کوئی بھی بات کرے گا، حتیٰ کہ کسی دُعا میں بھی اللہ سے یہ معافی مانگے گا کہ ہمارا میڈیا بھی جھوٹ پھیلاتا ہے تو اُسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات بذاتِ خود ظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔

مزید :

رائے -کالم -