چارسدہ،سب انسپکٹر گل نبی کا اعلی پولیس افسران پر سنگین الزامات

چارسدہ،سب انسپکٹر گل نبی کا اعلی پولیس افسران پر سنگین الزامات

  

چارسدہ(بیو رو رپورٹ)سب انسپکٹر گل نبی کا اعلی پولیس افسران پر سنگین الزامات۔ بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ انکار پر چارج شیٹ کرکے ضلع بدر کر دیا گیا۔ احتجاجاً اپنا استعفیٰ جمع کر دیا۔ سب انسپکٹر گل نبی اور میرے خاندان کو کچھ نقصان پہنچا تو ذمہ دار محکمہ پولیس ہو گی۔ پی ٹی آئی کے ناصرعلی خان اور سب انسپکٹر گل نبی کی ہنگامی پریس کانفرنس۔ڈی پی او نے الزامات مسترد کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ضلعی رہنماء ناصر علی خان کی معیت میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے سب انسپکٹر گل نبی نے انکشاف کیا کہ ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان، ایس پی انوسٹی گیشن افتخار شاہ اور ڈی ایس پی فضل شیر خان نے تنگی میں مجھے دو افراد ناصر علی خان اور شیر علی خان کو گرفتار کرکے پار کرنے کا ٹاسک دیا جس پر میں نے اپنے افسران کو بتایا کہ میری ڈیوٹی تھانہ بٹگرام میں ہے اور مذکورہ افراد تنگی میں رہائش پذیر ہے اس لئے وہ کسی غیر قانونی عمل میں ملوث نہیں ہو سکتے جس پر حکام بالا نے مجھ پر منشیات فروشوں سے روابط کا الزام لگا کر چارج شیٹ کرکے صوابی تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ مایوس ہو کر انہوں نے اپنا استعفیٰ حکام بالا کے پا س جمع کیا ہے کیونکہ ان کی ضمیر اس قسم کاموں کی اجازت نہیں دیتا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے ضلعی رہنماء ناصر علی خان نے واضح کیا کہ پولیس افسران نے اے ایس آئی گل نبی کو مجھے اور میرے بھائی شیر علی خان کو قتل کرنے کا ٹاسک سونپ دیا تھا مگر ان کی غیرت نے اجازت نہ دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی اس بہادر پولیس اے ایس آئی کو ترقی دیکر ایس ایچ او کی سیٹ پر تعینات کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے بھائی شیر علی خان کو کچھ ہو اتو ذمہ دار محکمہ پولیس ہو گی۔ ناصر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک فلاحی تنظیم عدن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں اور کرونا وائر س کے پیش نظر وہ غریب اور مسکینوں میں امدادی سامان تقسیم کر رہے ہیں جس کو بھی پولیس برا سمجھتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان، آئی جی خیبر پختونخواڈاکٹر ثناء اللہ عباسی اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ سے مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری کرنے اور قانونی کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عرفان اللہ خان نے اپنے موقف میں کہا کہ مذکورہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر گل نبی پر جرائم پیشہ عناصر سے روابطہ کے الزامات تھے اور آر پی او مردان نے ان کا تبادلہ کرکے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو تاحال جاری ہے۔ موصوف کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -