کورونا صرف طبی نہیں معاشی چیلنج بھی ہے،مل کر مقابلہ کرنا ہو گا، شاہ محمود

    کورونا صرف طبی نہیں معاشی چیلنج بھی ہے،مل کر مقابلہ کرنا ہو گا، شاہ محمود

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کورونا صرف طبی نہیں معاشی چیلنج بھی ہے، دنیا کو مل کر جان لیواوبا ء کا مقا بلہ کرنا ہوگا، مشکل کی گھڑی میں بیرون ملک رہنے والوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی نے امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی سے ویڈیو لنک خطاب کے دوران کیا،ویڈیو لنک خطاب کے دوران سیکر ٹر ی خارجہ سہیل محمود، امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید اور امریکہ میں پاکستانی کے افسران بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ پاکستانی کمیونٹی کی کثیر تعداد ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ کرونا عالمی وبا کے سامنے آنے پر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک بیرون مما لک میں مقیم، واپسی کے منتظر، پاکستانیوں کی جلد واپسی ہے،ابھی ہزاروں پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں، ہمیں ان کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے،اللہ اب ہم ہر ہفتے سات ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی استعداد رکھتے ہیں،ہمارے معاشی حالات ابتری کا شکار ہیں، عالمی برادری کی معاونت سے معاشی طور پر سنبھلنے کی کوشش میں ہیں،کرونا وبا کی وجہ سے خلیج ممالک میں آئل میں مندی کی وجہ سے بہت سے پاکستانیوں کے بیروزگار ہونے کا امکان ہے۔ ہفتہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ویڈیو لنک کے ذریعے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں آپکی ورچوئل شرکت پر آپ کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں آپ سب کو رمضان المبارک کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس ماہ صیام کے صدقے پوری انسانیت کو اس وبا سے نجات دے۔ امریکہ میں 50 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور نو لاکھ سے زیادہ لوگ اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔ میں ان تمام خاندانوں کیساتھ اظہار تعزیت کرنا چاہتا ہوں جن کے پیارے اس وبا کے دوران جدا ہوئے۔ہماری ملاقات ایک ایسے مشکل اور غیر معمولی وقت میں ہو رہی ہے جب کورونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت ہے اس کا عالم یہ ہے تو ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کی صورتحال کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فراخ دلی کو ہم نے کئی مرتبہ دیکھا ہے جب بھی پاکستان کو کسی مشکل گھڑی کا سامنا ہوا وہ زلزلہ ہو یا سیلاب، امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جس طرح دل کھول کر معاونت کی پوری قوم آپ کی ممنون ہے۔ آج بالخصوص طبی شعبے سے وابستہ پاکستانی امریکی ڈاکٹرز اور نرسز، جس انداز میں لوگوں کی جانوں کو بچانے کیلئے خدمات سر انجام دے رہے ہیں پوری قوم کو ان پر فخر کر ہے۔ کورونا عالمی وبا کے سامنے آنے پر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک بیرون ممالک میں مقیم، واپسی کے منتظر، پاکستانیوں کی جلد واپسی ہے۔ اب تک ہم تقریبا ًدس ہزار کے قریب بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو واپس لا چکے ہیں تاہم ابھی ہزاروں پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں، ہمیں ان کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے۔ قبل ازیں ہمیں ٹسٹنگ اور کوارنٹائین سہولیات کی استعداد کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا،اس لیے ہم شروع میں دو ہزار پاکستانیوں کو فی ہفتہ واپس لا رہے تھے لیکن رفتہ رفتہ ہماری استعداد کار اور حوصلے میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ اب ہم ہر ہفتے سات ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی استعداد رکھتے ہیں۔ ہم نے پی آئی اے کیساتھ ساتھ قطر آئر لائن کے ساتھ بھی رابطہ کر لیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو عید الفطر سے قبل واپس لایا جا سکے۔ آپ کے علم میں ہے کہ پچھلی سات دہائیوں میں ہم نے اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں کوئی خاص توجہ نہیں دی لیکن اب ہم اپنے ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنانے جا رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ہماری کورونا کی بلند ترین سطح 25 مئی تک متوقع ہے اللہ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ ہمارے معاشی حالات ابتری کا شکار ہیں لیکن عالمی برادری کی معاونت سے معاشی طور پر سنبھلنے کی کوشش میں ہیں۔میں وزیر اعظم کرونا ریلیف فنڈ میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے فراخ دلانہ عطیات پر، ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہم نے قومی سطح پر کرونا متاثرین کو ٹریک کرنے کیلئے خصوصی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے،ہم نے صوبوں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی معاونت کے ساتھ،کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے، ایک جامع نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا ہے۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -