حکومت پرائیویٹ سکولوں کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کرے، ساجدالیاس چوہدری

    حکومت پرائیویٹ سکولوں کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کرے، ساجدالیاس چوہدری

  

رحیم یارخان (بیورورپورٹ)حکومت کی جانب سے پرائیویٹ سکولوں کے حوالے سے کیا جانے والا فیصلہ منظور نہیں کیا جا سکتا،پرائیویٹ سکولز مالکان کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، حکومت ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دینے پر اتر آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے چیئرمین ساجدالیاس (بقیہ نمبر31صفحہ6پر)

چودھری،وائس چیئرمین پروفیسر سبزل شاہین،تحصیل چیئرمین قاضی حفیظ الرحمن، تحصیل صدر ارشد جاوید،نائب صدر مخدوم سید علی احمد شاہ،ڈپٹی سیکرٹری ساجدثناء اللہ،فنانس سیکریٹری عبدالرؤف ناز، نائب صدر ذوہیب حنیف،سٹی جنرل سیکرٹری اکبر علی ندیم نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ ا نہوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قدرتی آفت وبائی وائرس کورونا کے مسائل پرائیویٹ سکول مالکان کے سر ڈال کر ناکردہ گناہ کی سزا دی جائے،98.1 فیصد پرائیویٹ تعلیمی ادارے جو حکومتی ذمہ داریوں کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انتہائی مناسب فیس (چند ہزار روپے) میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں جبکہ حکومتی اداروں میں جہاں تعلیم وتربیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے عوام سے حاصل شدہ ٹیکسوں سے ایک بچہ پر 7000 ہزار سے 9000 روپے خرچ کیے جاتے ہیں، حکومتی وزراء پرائیویٹ سکولوں کو حسد کی بنیاد پر مافیا کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق اگر فیصلہ کیا جائے تو انتہائی غیرمعیاری سرکاری تعلیمی ادارے سرکاری خزانے پر بوجھ اور مافیا ہیں،،حکومت کا یہ انتہائی غیر منصفانہ فیصلہ کہ پرائیویٹ سکول والدین سے کرونا وائرس کی وجہ سے 20 فیصد کم فیس وصول کریں۔اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا پرائیویٹ سکول اور اس کی انتظامیہ کرونا وائرس کی وجہ سے حالات کا شکار نہیں ہیں، کیا حکومت نے ان تعلیمی اداروں کو کوئی سبسڈی دی ہے، ظالمانہ ٹیکسوں میں کوئی چھوٹ دی ہے، یوٹیلٹی بلوں میں کوئی آسانی کر دی ہے یا ان کا کمرشل ٹیرف منسوخ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور دیگر صوبائی محکموں کی جانب سے انڈسٹری اور تاجر برادری کو سبسڈیز اور مختلف پیکجز دیے جارہے ہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دی جارہی ہے جبکہ پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کی جانب سے معزز ترین پیشہ سے منسلک اساتذہ کرام کو دھمکیاں دی جارہی ہیں توہین آمیز سلوک کیا جا رہا ہے مختلف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے بلیک میل کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ عوام کی توجہ حکومتی کارکردگی سے ہٹانے کے لیے سکول انتظامہ اور والدین کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا ہے،عمومی طور پر 90 فیصد پرائیویٹ سکول پہلے ہی اپنی سروائیول کی جنگ بمشکل لڑ رہے ہیں اوپر سے لاک ڈاون کی وجہ سے والدین فیس کی ادائیگی بھی نہیں کر رہے ہیں اگر ان سے فیس کا مطالبہ کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ادھر لوگ مر رہے ہیں آپکو فیس کی پڑی ہے،کیا سکول والے اس سلسلہ کو چلانے کے لئے بنکوں سے قرض لیں؟ کیا حکومت نے اس ضمن میں بنکوں کو ایڈوائس جاری کر دی ہے اگر نہیں کی تو پھر کیا سکول انتظامیہ بنک ڈکیتی کا ارتکاب کریں۔تعلیم دشمن پالیسی اپنانے کے بجائے چاہیے تو یہ کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ان تعلیمی اداروں کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے نہ کہ انسانیت کے منافی ایسے اقدام کریں جس سے مالکان تعلیمی اداروں پر تالا لگانے پر مجبور ہو جائیں سب جانتے ہیں کہ ملک و قوم کے 80 فیصد سے زائد بچے ان پرائیویٹ سکولوں میں معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگر عوام کی حقیقی خیر خواہ ہے تو وہ تعلیمی اداروں پر عائد بے شمار ظالمانہ ٹیکسوں کی بھر مار ختم کرتے ہوئے ان کے لئے سہولیات کا اعلان کرے،کیا حکومت نہیں جانتی کہ ان تعلیمی اداروں پر عائد ٹیکسوں کا بچوں اور والدین پر برائے راست اثر پڑتا ہے کہ سکول والے یہ ٹیکس والدین سے ہی وصول کر کے حکومتی خزانہ میں جمع کرواتے ہیں،یہاں یہ بات اہم ہے کہ کچھ والدین نہ صرف بڑی حثیت کے مالک اور اتنے مخیر ہوتے ہیں کہ وہ فیس میں رعایت حاصل کرنے کے بجائے ڈونیشن دینے والے ہوتے ہیں کیا حکومت ان کو زبردستی فیس میں رعایت دلانا چاہتی ہے دوسری طرف انتظامیہ نے مستحق افراد کو پہلے سے ہی 20 فیصد سے لیکر 60 فیصد تک رعایت دی ہوتی ہے اس رعایت کا کون مستحق ہے کون نہیں اس بات کا علم سکول انتظامیہ کو ہوتا ہے نہ کہ حکومتی وزراء کو بے شک موجودہ حکومت اور حکمران محب وطن اور عوام دوست ہیں تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم پاکستان اور تمام وزراء اعلی سے مطالبہ ہے کہ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے تعلیم دوست پالیسی کو اپناتے ہوئے تعلیمی اداروں کو ہر قسم کے ٹیکسوں سے استثنیٰ دے کر دیگر سہولتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں اور 20 فیصد والی غیر منطقی غیر حقیقی اور انصاف کے منافی قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔

ساجد الیاس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -