سی پیک منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نئی امریکی رپورٹ جاری کردی گئی لیکن پاک بھارت تعلقات پر کیا کہاگیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

سی پیک منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نئی امریکی رپورٹ جاری کردی گئی لیکن ...
سی پیک منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نئی امریکی رپورٹ جاری کردی گئی لیکن پاک بھارت تعلقات پر کیا کہاگیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دبے لفظوں میں کئی بار پاک چین اقتصادی راہداری پر اعتراضات اٹھانے والے امریکا کے سنٹر برائےعالمی پالیسی نے سی پیک پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام بنانا اب ممکن نہیں ہے۔ 

پاکستان میں چین سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ امریکا پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام پر توجہ دے۔

ڈینیئل مارکی کی اس رپورٹ میں کو امریکا پاکستان میں چین سے کیسے نمٹے کا عنوان دیا گیاہے۔ اپنی رپورٹ میں ڈینیل مارکی نے واضح کیا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے بیانات کے ساتھ ساتھ عملی تبدیلیاں بھی وقوع پذیر ہوچکی ہیں۔ اب یہ ناکامی کے خدشے سے آگے نکل چکا ہے، یہ ناکام نہیں ہوسکتا۔مارکی لکھتے ہیں کہ اس کو ناکام کرنا سیاسی وسماجی طور پر ناممکن ہوگیاہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ ایک آنکھ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام پر رکھے تو دوسری آنکھ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے بڑھتے ہوئے طویل المدتی جغرافیائی چیلنجز پر۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2015میں چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دورہ اسلام آباد کے بعد شروع ہونےوالےسی پیک کا پہلا فیز پاکستانی اداروں کی اپنی وجہ سے سست روی کا شکار ہوا تاہم دوسرے مرحلے میں اس نے رفتار پکڑ لی۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایلس ویلز سمیت امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اس منصوبے پر جب بھی تحفظات اٹھائے گئے تو نہ صرف چین نے بلکہ پاکستان نے بھی سخت ردعمل دیا۔

چین کے مطابق وہ اس منصوبے کے تحت 75ہزار پاکستانیو ں کی ملازمت کا باعث بنا ہے۔ دونوں ممالک کے مفادات پر مبنی اس منصوبے پر پاکستان اپنے آہنی اور چاروں موسموں کے دوست کا شکرگزار بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لپے چین ایک اہم شراکت دار اور لائف لائن ہے جبکہ چین کے لیے سی پیک چین کے ترقیاتی ماڈل اور ایک اہم منصوبے دونوں کی برآمد کے لیے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے۔

کارنیگی سنگھوا سینٹر فار گلوبل پالیسی واشنگٹن کے چین کے ماہر ڈینیئل مارکی نے پاکستان میں چین کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر توجہ دینے کی ضرورت کو نمایاں کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت اور پاکستان ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، اس موسم سرما میں ہوسکتا ہے بھارت اور پاکستان کا ایک اور فوجی بحران پیدا ہو‘۔

انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کو جنگ سے روکنے کے لیے ایک ممکنہ سفارتی شراکت دار کے طور پر بیجنگ کے کردار کی تعریف کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اگر چین اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ جنوبی ایشین بحران کے درمیان تعاون کو روکتا ہے تو تمام فریقین کی شکست ہوگی‘۔

ڈینیئل مارکی نے نشاندہی کی کہ اس وقت واشنگٹن پاکستان کے خلاف بھارتی فوجی حملوں کو ‘جواز انگیز ردعمل‘ کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ بیجنگ اپنے زیادہ بڑے ہمسایہ ملک کی جارحیت کے لیے پاکستان کی ‘پوری قوت سے ردعمل دینے کی‘ذمہ داری پر زور دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ بدقسمتی سے خطرناک ہے، امریکا اور چین دونوں کو مستقبل کی نئی دہلی اور اسلام آباد سے سفارتی مصروفیات کو نئے طرز پر لے جانا ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو امریکی پالیسی سازوں کے لئے ‘پہلی اور سب سے فوری تشویش‘ ہونا چاہیے تاہم انہیں افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے منصوبوں پر چین کے اثرات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

مزید :

قومی -بین الاقوامی -خصوصی رپورٹ -