بنیادی ضرورت مکان

بنیادی ضرورت مکان
 بنیادی ضرورت مکان

  

معاشرے میں روز بہ روز بڑھتی نا انصافی نے انسان کو بنیادی ضروریات روٹی،کپڑا، اور مکان کے حصول کیلئے مختلف مسائل اور افراتفری میں جکڑرکھا ہے۔انسان ہی دوسرے انسان کی مشکلات کم کرنے کے بجائے اس پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے در پر  ہے نمایاں بنیادی ضرورت مکان یعنی رہائش کا تذکرہ کیا جائے تو اس کے حصول کا مقصد نہ صرف اپنے بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی سر چھپانے کا انتظام ہے۔ تاکہ بھاری  بھرکم کرایوں سے جان چھڑا کر باآسانی باقی دو بنیادی ضروریات روٹی اورکپڑا کے حصول پر توجہ دی جائے۔

رہائش کا مسئلہ قیام پاکستان (1947)کے بعد سے جاری وساری ہے  پاکستان بننے کے بعدجب غیرمسلموں نے نقل مکانی شروع کی تولوگ ان کے چھوڑے ہوئے مکانوں اور فلیٹوں پر قابض ہونے لگے۔چونکہ لاکھوں لوگ پاکستان ہجرت کرکے منتقل ہوئے اسی لئے رہائش کی طلب میں اضافہ اوررسد میں اشد کمی دیکھنے کو ملی لوگ فٹ پاتھ اور سڑکوں پر جھونپڑیاں بناکر رہنے لگے اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے حکومت نے جہاں ایک جانب ٹرسٹ قائم کیا اور غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی جائیدادیں ان کی تحویل میں دی تو دوسری جانب ہاؤسنگ انڈسٹری کی حوصلہ افزائی اور لوگوں کوسستی رہائش فراہم کرنے کیلئے امپروومنٹ بوڈزقائم کیئے جنہیں بعدازاں ہر شہر کے ادارہ ترقیات کا درجہ ملا مثلاادارۂ ترقیات کراچی (KDA)، ادارۂ تر قیات لاہور(KDL) اور ادارہ تر قیات پشاور(KDP) وغیرہ۔

صنعت وتجارت کا مرکز ہونے کی حیثیت سے کر اچی میں ابتدائی کچھ سالوں میں 1957ء میں صدارتی فرمان کے تحت عمل میں آنے والے ادارہ ترقیات کراچی KDA نے پوری تندہی سے کام کیا،ایوب خان سے لے کر یحیی کے زمانے تکKDAنے کئی اسکیمیں متعارف کروائی جن میں پہلی اسکیم کارساز کے قریب بنائی گئی جس کا مقصد بیرون ملکوں کے سفیروں اور عملے کیلئے رہائشی سہولتیں فراہم کرنا تھا۔جبکہ دوسری اسکیم نارتھ ناظم آبادکی تھی۔

سقوط ڈھاکہ کے بعدجہاں ادارہ ترقیات برسراقتدار آنے والے حکمرانوں کیلئے ہاتھ کی چھڑی بن گئے وہیں KDAمیں تعمیرو ترقی کے نام پرجو حکمت عملیاں اختیار کی گئیں ان کا نیتجہ بربادی اور گھمبیر مسائل میں اضافے کی صورت برآمد ہوا، سیاسی کارکنوں کوفائدہ پہنچانے کی خاطر زمین کی قیمت 10 روپے فی گز سے بڑھا کر40روپے فی گز اور پھر 125روپےفی گز کردی گئی۔ جس سے کراچی میں غربیوں کیلئے رہائش کا حصول ایک خواب بن گیا اور یوں حکمرانوں نے KDAکوسیاسی مفادات کیلئے استعمال کرنے کی روش اختیارکی۔2002ء میں KDAکو کراچی سٹی گورنمٹ میں صنم کردیا گیا،2016ء میں سندھ اسمبلی میں ایک بل کی منظوری کے بعدپھر اسے بحال کردیاگیا ۔

ماضی کی طرح دورحاضر میں بھی رہائش کے حوالے سے عوام کی نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ گیر افراد سرکاری و نیم سرکاری محکموں کے بداعنوان ہلکاروں کی سر پرستی میں عوام کو لوٹنے کیلئے نئے طریقے ایجاد کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ سالوں کے دوران آبادی میں اضافہ سے مختلف شہروں میں دیہی علاقوں کی جانب سے نقل مکانی کے دباؤ میں حیرت انگیزطور پر اضافہ ہوا ہے جس کے باعث حکومت کی ٹھوس منصوبہ بندی کے فقدان اور مؤثر قا نونی پابندیوں کی گنجائش نہ ہونے سے رہائشی یونٹوں کی قلت نے سر اٹھایا ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق ہر سال 3لاکھ نئے رہائش یونٹس کی مانگ ہے پاکستان میں اس وقت کتنی رہائشی اسکیمیں موجود ہیں اس بارے میں درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ ہی اسکیموں کے فرضی ہونے کے حوالے سے کوئی جانتا ہے کیونکہ قبضہ گروپس پرکشش تشیہرکے ذریعے معمولی رقم کا جھانسا دے کر غریب عوام سے رقم بٹورتے ہیں اوربدلے میں الاٹمنٹ لیٹر (مستقبل میں زمین دینے کا وعدہ)تھمادیتے ہیں قبضہ ملنے کے آسرے پر عشرے پہ عشرہ گزرجاتا ہے مگرقبضہ نہیں ملتابدلے میں ترقیاتی اخراجات کے آسرے پر یکمشت بھاری رقم کا مطالبہ کیاجاتا ہے اور اس لمحے انسان خود کو ایسے مقام پر کھڑا پاتا ہے جہاں اسے کنوئیں اور کھائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتاہوتا ہے یعنی رقم بھرے یا پلاٹ سے دست بردارہوجائے۔اس حوالے سے     DHA       City Lahoreکے میگا اسکینڈل کے چرچے کی یاد آتی ہے جس میں قومی احتساب NABکی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ  سکینڈل کے مرکزی ملزم حماد ارشد نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی سے کاروباری شراکت کی اور تقریبا26 ہزارشہریوں سے پلاٹ الاٹ کرنے کے بہانے 16ارب روپے بٹورلئیے۔

حکومت کو چاہیے کہ عوام کے اربوں روپوں کے تحفظ کیلئے رہائش اسکیموں کا اجراء ضابطوں اور قوانین  کے تحت عمل میں لائے فرد ہو یا ادارہ خاص کر نجی رہائشی منضوبوں کو قطعہ اراضی جس پر منصوبوں کا آغاز ہونے جارہا ہو،ظاہر کرنے پراجازت دے کیونکہ جب تک حکو متی محکمے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے انکی مشکلات میں اضافہ کر یں گے تب تک انصاف کا حصول مشکل ہی رہے گا۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -