کورونا وائرس جہاں سے شروع ہوا وہاں اب ایک بھی مریض نہیں،کتنے ہزار مریض صحتیاب ہوکر گھر چلے گئے؟چینی حکام نے بتادیا

کورونا وائرس جہاں سے شروع ہوا وہاں اب ایک بھی مریض نہیں،کتنے ہزار مریض ...
کورونا وائرس جہاں سے شروع ہوا وہاں اب ایک بھی مریض نہیں،کتنے ہزار مریض صحتیاب ہوکر گھر چلے گئے؟چینی حکام نے بتادیا

  

شنگھائی(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھرمیں تباہ کاریاں پھیلانے والاکورونا وائرس جس شہر سے شروع ہوا وہاں اب اس کا نام و نشان تک باقی نہیں بچا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چینی محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ووہان کے ہسپتالوں میں زیر علاج تمام مریضوں کو ڈسچارج کردیا گیاہے۔چھبیس اپریل کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہر میں ایک بھی نیا کیس سامنے نہیں آیا جبکہ ہسپتالوں مٰیں بھی کوئی مریض ایسا نہیں ہے جو کورونا وائرس کی وجہ سے زیر علاج ہو۔

چین کے کمیشن برائے قومی صحت کی ترجمان می فینگ کاکہنا تھا کہ اس شاندار کامیابی کا سہر ووہان اور چین بھر کے طبی عملے کے سر ہے۔

خیال رہے کہ اس شہر میں کل 46ہزار452کیسز رجسٹرڈ ہوئے جو چین کے مجموعی کیسز کا چھپن فیصد تھے۔ مذکورہ کیسز میں سے 3ہزار869افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر 42583مختلف اوقات میں ہسپتالوں میں زیر علاج رہے جو اب تمام صحتیاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں۔

اگر چین کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کل 84,325 رجسٹرڈ مریض سامنے آئے جن میں سے 4,642ہلاک ہوئے جبکہ 77,346 صحتیاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں۔ دیگر مختلف شہروں میں زیر علاج ہیں تاہم چین میں نئے کیسز رپورٹ نہیں ہورہے ہیں۔

عالمی صورتحال پر نظرڈالیں تو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 28 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد سات لاکھ 81 ہزار سے زیادہ ہے۔

اس وقت کووڈ 19 سے امریکہ اور یورپ سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ یورپ میں ایک لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ امریکہ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

یورپی یونین نے وبا سے متاثرہ یورپی ممالک کی مدد کے لیے 540 ارب یورو کے ایمرجنسی فنڈ کی منظوری دے دی ہے جبکہ جی 20 گروپ نے مزید امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

چین نے کورونا وائرس کے خلاف عالمی لڑائی میں مدد کے لیے عالمی ادارہ صحت کے لیے مزید تین کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم ویکسین تیار کرنے کے بہت قریب ہیں‘ جبکہ امریکی کانگریس نے 484 ارب ڈالرز کے امدادی پیکچ کی منظوری دے دی ہے۔

دبئی نے رمضان کے لیے شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دے دی ہے تاہم غزہ میں کورونا کے پیش نظر اجتماعی افطار منع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد کے بھوکے رہ جانے کا خدشہ ہے۔

ادھرانڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز عوام سے سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک گیر لاک ڈاؤن کی سختی سے پابندی کریں اور سماجی دوری کے اصولوں کو برقرار رکھیں کیونکہ ملک میں ایک ماہ سے زیادہ کرفیو کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز مستقل طور پر بڑھ رہے ہیں۔

اپنے ریڈیو خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ ملک ایک ’جنگ‘ کی ذد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ اس بارے میں گمراہ نہ ہوں کے وائرس پر پوری طرح قابو پا لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’میں آپ سے گزارش کروں گا کہ ہمیں حد سے زیادہ اعتماد کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی یہ یقین کرلینا چاہیے کہ اگر ہمارے شہر، ہمارے گاؤں ، ہماری گلیوں، ہمارے دفتر میں کورونا وائرس نہیں پہنچا تو یہ نہیں پہنچ پائے گا۔‘

واضح رہے کہ انڈیا میں اب تک کورونا وائرس کے 26496 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 824 ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -