ارتغرل ڈرامہ اور ہندوستانی مسلمان

ارتغرل ڈرامہ اور ہندوستانی مسلمان
ارتغرل ڈرامہ اور ہندوستانی مسلمان

  

ترکی کا ایک ڈرامہ ڈیرلش ارتغرل یوں تو کچھ سالوں سے بالخصوص ہندوپاک کے نوجوانوں میں گفتگو کا موضوع رہا ہے لیکن اس لاک ڈاؤن میں یہ ڈرامہ زبان زد عام و خاص ہے. اس ڈرامے نے یقیناً ترکوں کو ان کی روشن تاریخ سے جوڑنے کا کام انجام دیا ہے. ایک طرف جہاں اتاترک جیسے سیکولر حکمران نے نہ صرف خلافت کا خاتمہ بلکہ اسلامی شعائر کو بھی باقی نہیں رکھا، ایسے ملک میں مسلمانوں کو پھر سے انکی تاریخ سے جوڑنا نہایت ضروری تھا.

اس ڈرامے نے ہندوستان اور پاکستان کی نوجوان نسل کو بہت متاثر کیا، ایک طرف تو بالخصوص ہندوستان میں جہاں کے مسلمان اپنی تہذیبی و مذہبی شناخت کی تلاش میں ہیں جس کی بنا پر یہاں کی خواتین ہندوستانی روایتی سیریلز جو ہندو تہذیب کی عکاسی ہے اس سے بیزار ہوکر پاکستانی ڈراموں کی طرف رخ کررہی ہیں وہیں دوسری طرف بالخصوص 9/11 کے بعد سے جہاد کے نام پر جس قسم کا مدافعانہ ردعمل اختیار کیا گیا اور جہاد کو محض نفس سے جہاد تک محدود کرتے ہوئے اس اہم کام کی اہمیت کو کم کیا گیا ایسے میں ترکی کا یہ ڈرامہ نوجوان نسل میں روح جہاد اور اس کی اہمیت کو پھر سے اجاگر کرتا ہے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ کی روشن تاریخ، مجاہدین کی بہادری، شجاعت اور سیاست سے رشتہ جوڑتا ہے.

ترکی میں صرف یہ ایک ہی ڈرامہ نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سے ڈرامے تیار کیے جارہے ہیں جو ترک قوم کو انکی تاریخ سے جوڑتے ہوئے اتاترک کے سیکولرازم کے سحر سے آزاد کرتے ہیں. ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی اہم سبق ہے جو وہ ترکی سے حاصل کرسکتے ہیں.

21 ویں صدی میں اب اس قسم کے بہانوں کی جگہ نہیں ہے جس میں ہم میڈیا ہاوس و پریس وغیرہ کی عدم موجودگی کا رونا روئیں، یہ دور alternate media کا دور ہے، یہاں آپ کو کسی رجسٹرڈ میڈیا ہاؤس یا میگزین کی ضرورت نہیں ہے، یہاں آپ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام انجام دے سکتے ہیں، ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہترین مواقع ہیں کہ وہ ان ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بالخصوص ہندوستانی مسلمان اور بالعموم برادرانِ وطن کا رشتہ مسلمانوں کی روشن تاریخ سے جوڑیں.

یہ ایک حقیقت ہے کہ پروپیگنڈہ کا جواب پروپگینڈہ سے ہی دیا جاسکتا ہے، موجودہ ہندوتوا حکومت اپنے ایجنڈے پر رواں دواں ہے اور خوب پروپیگنڈے کے ذریعہ ہندو تہذیب، مسخ شدہ تاریخ اور نیشنلزم کے زہر کو پروموٹ کررہی ہے جس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں. ہندوستانی مسلمانوں کے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو ایسے کام انجام دے سکتے ہیں اور ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی حقیقی تاریخ کو دلکش انداز میں پیش کرتے ہوئے پھر سے ایک نئی روح پھونکی جاسکتی ہے. اگر آپکو کسی چینل پر جگہ نہیں مل رہی ہو تو یوٹیوب، فیس بک، نیٹ فلکس اور ایسے کئی پلیٹ فارمز ہیں جن کے ذریعہ اس کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے.

ہندوستان میں مسلمانوں کی جو مسخ شدہ تاریخ کو پیش کرتے ہوئے مسلم سلاطین کی شبیہ بگاڑی گئی ہے اور آج کے مسلمانوں کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے اور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ایسے میں محض تقاریر میں اس کی مذمت یا زبانی جمع خرچ سے کوئی خاص تبدیلی آنے والی نہیں ہے. تبدیلی کے لئے اس قسم کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے مورچہ سنبھالنے کی ضرورت ہے.

اس لاک ڈاؤن میں اس فیلڈ سے دلچسپی رکھنے والے افراد ملکر ٹھوس منصوبہ بنائیں اور ان راہوں اور مواقع کی تلاش کریں جو اس منزل تک پہنچنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہوں. جو افسانہ، تاریخ وغیرہ لکھ سکتے ہوں وہ اس لاک ڈاؤن میں اس کی تیاری شروع کردیں، جو کارٹون بنا سکتے ہوں وہ اسکرپٹ پر کام کریں اسی طرح دیگر میدان کے لوگ بھی کام کا آغاز کرسکتے ہیں، ملی تنظیموں کو بھی اس قسم کے کاموں کے لئے ہر قسم کا تعاون کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں نفرت کی فضا کو بدلنے اور تاریخی حقائق کو پیش کرنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جاسکے.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -