تیری دنیا میں گوہر بھی ہیں جوہر بھی 

 تیری دنیا میں گوہر بھی ہیں جوہر بھی 
 تیری دنیا میں گوہر بھی ہیں جوہر بھی 

  

ڈاکٹر محمد اشرف خان 1944میں ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے۔ وہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ وہاں سے ایم بی بی ایس کی اور پھر DMRD کر کے ڈیرہ غازی خان میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ڈاکٹری کے علم اور تجربے کو عوام الناس کی خدمت کے لئے ساری زندگی وقف رکھا۔ سرکاری نوکری بے داغ، بے لوث انتھک جدوجہد کر تے گزاری۔ ریٹائرمنٹ  کے بعد بھی اپنے علم و تجربے سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ٹی بی ایسوسی ایشن کے صدر کی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔۔ فورٹ منرو،  میں ٹی بی ھاسپیٹل میں 1992سے ہرجمعہ کے دن سویرے سویرے پہنچتے اور سارا دن دور و نزدیک سے آئے ہوئے مریضوں کو انتہائی محبت و شفقت سے ملاحظہ کرتے اور علاج معالجہ میں ان غریب بلوچ مرد و خواتیں کی دعائیں سمیٹتے رہے۔1929کی پیدائش ہے۔ اب 92/93 سال کی پیرانہ سالی میں بھی گاہے گاہے وہاں کے لوگوں کو اپنے آنے کی اطلاع دے کر فورٹ منرو ہسپتال پہنچتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان شہر کے قریب و جوار کے ہائی سکولوں میں بھی سکول انتظامیہ کی خواہش اور خود اپنی بصیرت کی وجہ سے انتظامیہ کو مطلع کر کے اداروں میں اساتذہ کرام اور طلبہ کی صحت کا جائزہ لینے، معائنہ کرنے اور مشاورت کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ ایسے فرض شناس اور ٹی بی کے اپنے خصوصی علم و تجربہ سے فیض پہنچانے والے 92 سال کے بوڑھے ڈاکٹر کی جنہوں نے بڑھاپے کو خدمت خلق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ قدر افزائی ہونی چاہیے۔

وزیر اعلی سردار عثمان خان بزدار کے مشیر خصوصی محمد حنیف خان پتافی، جو یہاں کے شہری اور بہت فعال اور متحرک، حالات پر گہری نظر رکھنے والے ذمہ دار ہیں، انہیں ڈاکٹر محمد اشرف خان کی ہمہ صفت خدمات کا علم ہو گا۔ اور اگر اپنی مصروفیات کی وجہ سے مکمل آگاہی نہیں ہے تو انہیں حالات سے واقف ہو کر ان کی عزت افزائی کرنی چاہیے۔ایسے لوگ معاشرے اور ملک و قوم کا سرمایہ ناز ہیں۔ ڈاکٹر محمد اشرف خان کے والد بزرگوار مرحوم نیک نام تحصیلدار تھے۔ ڈاکٹر محمد اشرف خان کے دادا مرحوم عبدالغفور خان انگریز دور میں ڈپٹی کمشنر کے اہلمد اور ریڈر رہے۔ بلاک 12 کا یہ رہائشی مذہبی خاندان پچھلے 80/90 سال سے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد اشرف خان نے جب ملتان میں ایمرسن کالج میں داخلہ لیا تو ان کی یہاں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، لائلپور، اور ملتان ضلع کے طالب علموں سے راہ و رسم پیدا ہوئی۔ طالب علمی کے دور کے بعد عملی زندگی میں بھی اکثر دوستوں کے ساتھ تعلق و رابطہ رہا۔ یہ دوستی و رفاقت کا رشتہ بڑا مضبوط، بے لوث اور تعمیری و ملکی و علاقائی ترقی و خدمات کے سلسلے میں ناقابل فراموش تھا۔ ڈاکٹر نذیر احمد شہید ایمرسن کالج میں سال دوم میں تعلیم چھوڑ کر انڈیا میں صوبہ بہار میں مسلم کش فسادات میں ریلیف کے سلسلہ میں جماعت اسلامی کے وفد 

کے ساتھ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالجبار شاکر ضلع لائلپور کے رہائشی تھے۔ عبدالجبار شاکر اور ڈاکٹر نذیر احمد شہید ملتان میں مولانا خان محمد ربانی ملتان کے امیر جماعت کے زیر تربیت رہے۔ دونوں خاندانوں کے دیرینہ تعلقات تھے۔ ڈاکٹر عبدالجبار شاکر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے ماموں تھے۔ سردار انور خان دریشک سینئر ایڈووکیٹ مرحوم،  خان محمد عثمان خان کلیانی مرحوم، مہر محمد عبداللہ جانگلہ مرحوم مہر پور ضلع مظفر گڑھ، مہر فیض محمد جانگلہ مرحوم، سیف اللہ خان جسکانی مرحوم ڈیرہ غازی خان، میاں اللہ بخش ڈاہا مرحوم یہ غالبا فٹبال کی قومی ٹیم کے پلئیر تھے، حاجی اللہ بخش سیال مرحوم کبیر والا ضلع ملتان یہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم دنیائے اسلام کے عظیم اور معروف سکالر، ادیب، اور مفسر قرآن کے بہنوئی تھے۔ آج بھی مختلف چینلوں پر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم و مغفور کی آواز اور صورت دلوں کو خوش کرتی ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم،  ڈاکٹر اشرف خان اور ڈاکٹر عبدالجبار شاکر مرحوم کے میڈیکل کالج کے کلاس فیلو تھے۔ کاش ایمرسن یونیورسٹی نہ بنایا جاتا، یہ تاریخی کالج ہی رہتا۔ یونیورسٹی نئی بنا لی جاتی۔

مزید :

رائے -کالم -