ایرانی وزیر خارجہ کی آڈیو لیک، القدس فورس پر الزامات، پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا

ایرانی وزیر خارجہ کی آڈیو لیک، القدس فورس پر الزامات، پوری دنیا میں ہنگامہ ...
ایرانی وزیر خارجہ کی آڈیو لیک، القدس فورس پر الزامات، پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا
سورس: Twitter

  

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے انٹرویو کی اس لیک آڈیو نے ہنگامہ برپا کردیا ہے جس میں وہ پردے کے پیچھے ہونے والی کشمکش پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ آڈیو تین گھنٹے سے طویل ہے جو اس انٹرویو کا حصہ ہے جو جواد ظریف نے مارچ میں حکومت کے اتحادی صحافی و معاشی تجزیہ کار سعید لیلاز کو دیا تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے کا کہنا ہے کہ اصل انٹرویو سات گھنٹے طویل ہے جبکہ لیک ہونے والا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے جس کا مقصد ایک ایسے وقت میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے جب جون میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔

انٹرویو میں جواد ظریف نے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے القدس فورس کی کارروائیوں کو "فیلڈ آپریشن" قرار دیا اور کہا کہ ان سے ایران کو سفارتی محاذ پر کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ بعض اوقات تو خطے میں "فیلڈ آپریشنز" جاری رکھنے کیلئے سفارتی محاذ پر قربانیاں دینی پڑیں۔

جواد ظریف کے مطابق 2015 میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے قدس فورس کے سابق سربراہ جنرل قاسم سلیمانی  کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ شام کی جنگ کا حصہ بنیں۔ پیوٹن ایئر فورس کے ذریعے جنگ کا حصہ بنے اور ایران کی زمینی فوج کو شام میں داخل کروایا۔ خیال رہے کہ جنوری 2020 میں القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی عراق میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ روس نے بھرپور کوشش کی کہ ایران کا مغربی قوتوں کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ نہ ہوسکے کیونکہ روس نہیں چاہتا کہ ایران کے مغرب کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوں۔

بی بی سی کے مطابق جواد ظریف نے یہ بھی شکوہ کیا کہ کس طرح پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی اکثر ان کے پاس اپنے مطالبات لے کر آیا کرتے تھے۔

جواد ظریف نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق کر دی ہے کہ کس طرح شام میں اسلحہ اور فوج پہنچانے کے لیے سویلین طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ ٹیپ میں وہ شکایت کرتے ہیں کہ سلیمانی نے ملٹری مقاصد کے لیے ایران کی قومی ایئرلائن ’ایران ایئر‘ کا استعمال کیا اور اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ اس سے ملک کی ساکھ کو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب 8 جنوری 2020 کو قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایران نے عراقی ملٹری اڈے پر حملہ کیا تو انھیں اس حملے کے دو گھنٹوں بعد اس کے بارے میں معلوم ہوا۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -