سیاسی یا ذاتی تلخی 

 سیاسی یا ذاتی تلخی 
 سیاسی یا ذاتی تلخی 

  

 ایک زمانہ تھا گھروں کا ماحول بڑا پر سکون ہوتا تھا۔احترام اور وضع داری نظر آتی تھی، محلے میں کوئی بیٹھک یا ایک ٹھڑا ہوتا تھاجہاں محلے بھر کے سب لوگ،جوان، بوڑھے، بڑے بچے شام کو بیٹھ کر حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے، دوسروں کا احساس کرتے۔ وہی لوگ ہیں یا ان کی اولاد، مگر ٹھرا یا بیٹھک کلچر ختم ہو رہا ہے۔ مہرو مروت  اور ایک دوسرے کا احترام کہیں رخصت ہو چکے۔ احترام تو اب کتابوں کی حد تک ہی رہ گیا ہے۔ایک ہی گھر کے مکین بھی آ پس میں الجھے رہتے ہیں، محلے سیاسی جنگ وجدل کا مرکز بن چکے، شہر بھر کے لوگ زبان کی بوسیدہ ننگی زبانوں کی تلواریں لئے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ افسوسناک صورت حال ہے۔موجودہ سیاست میں جو حالیہ تلخی اور ناگواری حد سے بڑھتی جا رہی ہے اس کا بنیادی سبب ہمارے نظام تعلیم میں اخلاقیات کا فقدان ہے۔ اسی لئے ہمارا نظام سیاست بھی ہر دور میں ہی اخلاقی قدروں سے بے نیاز رہا ہے، مگر اب تویہ حد درجہ بد اخلاقی کا شکار ہو چکا ہے۔ وہ مہر و مروت جو کبھی گھروں، خاندانوں، برادریوں، قبیلوں اور شہروں کا خاصہ ہوتی تھی، اب ڈھونڈنے سے بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ووٹ میرا ہے اور کسی کو بھی دینا میرا بنیادی حق۔ مگر میں جسے ووٹ دینا چایتا ہوں میری خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے بھی اسی کو ووٹ دیں، یہ خواہش بھی بری نہیں، مگر اس کے لئے ہم کسی دوسرے کو منطق اور دلیل سے مائل اور قائل کرنے کی بجائے دھونس سے کام لیتے ہیں۔ دوسروں پر اپنے خیالات ٹھونستے ہیں۔ وہ شخص جو مخالف ہے اسے مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ جس شخص یا نظریہ کا حامی ہے اس کا تمسخر اڑا کر لڑائی جھگڑے کو دعوت دیتے ہیں۔ سیاسی اختلاف کو ہم ذاتی دشمنی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ہم بھول جاتے ہیں کہ سامنے مدمقابل میرا کس قدر عزیز شخص ہے۔ وہ سگا بھائی ہے، باپ ہے یا کوئی ایسا ہی قریبی عزیز۔ کوئی زمانہ تھا کہ لوگ اپنے باپ کا ہم عمر شخص بھی سامنے ہو تو اس کے احترام میں اونچا بھی نہیں بولتے تھے، اب ذرا سے اختلاف پر لوگ عزیز تریں شخص کی بے عزتی اور توہین ایک معمولی بات جانتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ اگر کسی ایسے کا حامی ہے جسے آپ پسند نہیں کرتے تو اس سے اپنے تعلقات کے حوالے احترام میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے کہ اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ 

میرا بیٹاسب کااحترام بھی کرتا ہے، دوسروں کا خیال بھی رکھتا ہے، مگر موجودہ حالات میں مجھ سے کچھ نالاں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ میں نے ایک غلط شعبے کا انتخاب کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ستر کی دہائی میں آپ نے جب تعلیم مکمل کی تو اس وقت آپ طلبا سیاست میں حصہ لے رہے تھے اور آپ کے پاس موقع تھا کہ آپ عملی زندگی میں بھی سیاست کا انتخاب کرتے۔ کم از کم ہمارے پاس بھی اربوں روپے ہوتے۔ صبح دبئی اور شام لندن میں گزارتے۔ ہم لوگوں کو کھوئی کھوئی نظر انداز کرنے والی نظروں سے دیکھتے، انہیں معمولی جانتے اور فخرسے کہتے کہ ہمارا تعلق ایک حکمران خاندان سے ہے،مگر آپ نے معلمی کا پیشہ اپنایا اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ پیشہ پیمبری ہے۔آپ پیمبر کا پیام کیا، اس قوم کو اخلاق کی پہلی سیڑھی پر بھی نہیں چڑھا سکے۔ اس بگڑی ہوئی قوم میں اپنا آپ بھی اگر انسان سنبھال لے تو وہی کافی ہے۔ آپ نے اپنے پیشے کا حال دیکھا ہے۔ پیمبروں کے وارث مہینوں سے سڑک کنارے سیکرٹریٹ کے باہر بیٹھے یا کسی وائس چانسلر کے دفتر کے باہر روز نعرے لگاتے کسی سیاست د ان کی نظر کرم کے محتاج ہوتے ہیں۔ کیا فائدہ۔ ان معلموں کے گھروں کی حالت بس، فقط قناعت پسندی ہے، جو انہیں زندہ رکھے ہے۔ ان کے بچے دبئی یا لندن کیا، کراچی جانا چاہیں تو کئی ماہ کا گھر کا بجٹ خراب اور والدین کو مجبور کرکے جاتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ بہت عزت ہے۔ بچہ آپ سے جب پڑھتا ہے وہ ضرور عزت کرتا ہے بعد میں تو کون اور میں کون۔ویسے بھی وہ بچہ اپنی حیثیت بنانے کی سعی میں مصروف ہوتا ہے آپ کو کیا دے گا۔ یاد رکھیں عزت اس ملک میں فقط طاقت کی ہے اور اس معاملے میں اساتذہ سے بے بس کوئی طبقہ نہیں۔میں اس کی باتوں پر ہنس دیتا ہوں۔ گھر کا ماحول اچھا رکھنا میرا بھی پہلا فرض ہے۔ 

میں اسے بتاتا ہوں کہ میرے آبا معمولی کسان تھے۔ مختصر سی زمین اور دن بھر کاشتکاری کی مشقت۔ میرے آبا میں کوئی انگریز کا پالتو نہیں تھا، ان کا پروردہ نہیں تھا۔کسی نے انگریزوں کے کتے نہیں پالے، بوٹ پالش نہیں کئے کہ خدمت کے بدلے کوئی جاگیر مل جاتی۔آج کی سیاست پر وہی لوگ قابض ہیں جن کا ماضی غیروں سے وفاداری کا امین ہے۔ یہ ماضی حرام خوری، نمک حرامی، بے وفائی اور بے شرمی کا مرقع ہے۔خلیل جبران کہتا ہے ”میں خوش ہوں کہ میرا باپ میرے لئے کچھ چھوڑ کر نہیں گیا۔ آج میرے پاس جو کچھ ہے میرا اپنا ہے اور لوگ میرا احترام اور عزت میری اپنی وجہ سے کرتے ہیں“۔ یہ جو آج صاحب دستار نظر آتے ہیں ان میں نوے فیصد ”پدرم سلطان بود“ کی پیداوار ہیں اور پدر محترم سوائے ضمیر فروشی کے کچھ نہیں کرتے تھے۔یہ لوگ مستقبل میں حالات کی آندھیوں کا سامنا نہیں کر سکیں گے، بلکہ  وقت آئے گا تو خش وخشاک کی طرح اڑ جائیں گے۔مجھے فخر ہے کہ میرا باپ ایک سیلف میڈ آدمی تھا، اس کا مجھ پر اتنا بڑا احسان ہے کہ میرے حصے کی مشقت بھی وہ خود پر سہہ گیا۔ اس نے مجھے اور ہم سب بہن بھائیوں کو پڑھانے کے لئے خود پر جانے کیا کیا جبر کئے۔ میں نے جب ایم اے کیا تو گھر کے حالات ایسے تھے کہ کہ مجھے اخلاقی طور پر والدین کو کم از کم اپنے اخراجات سے آزاد کرنا تھا، سو میں نے کیا۔ آج تم آزاد ہو جو چاہے کرو، مگر اس کا خیال ہے کہ سیاست اب ایک انڈسٹری ہے، لمبے سرمایے کا کھیل جو عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔اچھا وقت تو اس کے خیال میں،میں نے کھو دیا۔سچ ہے،مگر میں اس معاشرے میں زندوں کی طرح جیتا ہوں،دِل زندہ، دماغ زندہ، ضمیر زندہ، کردار زندہ اور یہ میرے اللہ کی بہت بڑی عنایت ہے۔باقی سیاست واقعی اس وقت ایک انڈسٹری ہے، مگر جس طرح ہر عروج کو زوال ہے۔ اس دور کو بھی ختم ہونا ہے۔ آج ہمارے ذمہ صرف ایک کام ہے کہ لوگوں کو شعور دیں کہ کل ووٹ اسے دینا ہے جو صاحب کردار ہو، جس کا تعلق آپ کے طبقے سے ہو، جو پہلے آزمایا گیا نہ ہو۔جسے غربت کا پتہ ہو، جس نے بھوک برداشت کی ہو، جس نے روزگار کے حصول  اور معاشی مجبوریوں کے سبب راشن کی قطاروں میں کھڑے ہو کر سستا راشن لینے کی ذلت کا سامنا کیا ہو اور اسے ایسے مشکل حالات کا احساس ہو۔مجھے یقین ہے وہ وقت جلد آنے والا ہے۔ ہم فقط اپنے حصے کا کام کرتے رہیں اور اس بات پر اسی طرح یقین رکھیں جس طر ح ہمیں رات ڈھلنے اور صبح سورج نکلنے کا یقین ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -