مقبوضہ کشمیر : ہائی کورٹ کی طرف سے کٹھ پتلی انتظامیہ سے مسرت عالم بٹ کی پٹیشن پر جواب طلب

مقبوضہ کشمیر : ہائی کورٹ کی طرف سے کٹھ پتلی انتظامیہ سے مسرت عالم بٹ کی پٹیشن ...

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو حریت رہنماءمسرت عالم بٹ کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی کالعدم قراردینے کیلئے دائر عرضداشت پر اعتراضات دائر کرنے کیلئے نوٹس جاری کیا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ کے جج جسٹس یعقوب میر نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو اعتراضات دائر کرنے کیلئے د و ہفتوں کی مہلت دی ہے ۔واضح رہے کہ حریت رہنماءکو 2010ءمیں مقبوضہ علاقے میں عوامی انتفادہ میں کردار ادا کرنے پر اس سال 18اکتو بر کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ انہیں متعدد عدالتی احکامات کے باوجود بھی رہا نہیں کیا گیا ۔ادھر عدالت نے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو بیان دائر کرنے کی ہدایت کی ہے کہ وہ واضح کریں کہ وہ 1999میں گاندر بل میں ایک شخص کے قتل میں ملوث بھارتی فوج کی 5راشٹریہ رائفلز کے 3اہلکاروں اور ایک فوجی ایجنٹ کی حوالگی کیلئے تحقیقاتی ٹیم کی مدد عدالت کے گزشتہ احکامات پر کہاں تک عمل کیا ہے۔ جسٹس محمد یعقوب میر پر مشتمل بینچ نے یہ احکامات بتویناگاندربل کی رہائشی بیگم خدیجہ کی طرف سے دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران جاری کئے تھے ۔بیگم خدیجہ نے پٹیشن تین بھارتی فوجیوں اور ایک فوجی ایجنٹ کی طرف سے ان کے بیٹے سلطان بٹ کے اغواءاور دوران حراست قتل کی دوبارہ تحقیقات کیلئے دائر کی ہے ۔فوجیوں نے سلطان بٹ کو 19اور20ستمبر 1999کی درمیانی شب اس کے گھر سے اغواکرنے کے بعد حراست کے دوران قتل کر دیا تھا ۔ عدالت نے راشٹریہ رائفلز کے ایک افسر کو تحقیقاتی افسر کی طرف سے قتل میں ملوث تین فوجیوں کی تعیناتی کے موجودہ مقام کے بارے میں معلومات کی فراہمی کی درخواست پر جواب دینے کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بیان داخل کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ تحقیقاتی افسر نے عدالت کوبتایا تھا کہ انہوںنے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے اور قتل میں ملوث فوجیوں کے خلاف وارنٹ بھی جاری کئے گئے ہیں تاہم مانس بل میں قائم 5راشٹریہ رائفلز کیمپ کے کمانڈنگ افسر کے رویے کی وجہ سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرناممکن نہیں کیونکہ وہ تینوں ملوث فوجیوں کی تعیناتی کے موجودہ مقام کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کر رہا ہے ۔

مزید : عالمی منظر